logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

ابھی کچھ دن لگیں گے!

Tue 19 Dec 2017, 16:09:01

حقیقت پسند لوگ مایوس نہیں  ہوتے  اس لیے کہ وہ خیالوں کی نہیں بلکہ حقائق کی دنیا میں جیتے ہیں۔ انسان کی خوشی یا مایوسی کا ایک تعلق اس کی توقعات سے بھی ہوتا ہے۔ گجرات کے انتخاب سے مختلف  لوگوں نے الگ الگ امیدیں  وابستہ کررکھی تھی۔ کوئی سوچتا تھا کہ  شاہ اور مودی کے اس گڑھ میں کمل کا بال بیکا نہیں ہو سکتا۔ ان بھکتوں کو انتخابی نتائج سے سب سے زیادہ رنج ہوا ہے۔ وہ لوگ جو سوچتے تھے اس بار پنجہ میوانی، ٹھاکور اور ہاردک کی مدد سے کمل کو مسل کر رکھ دے گا ان کا بھی چین و سکون غارت ہوگیا ہے۔ان انتہاوں کے درمیان کچھ ایسے بھی لوگ تھے جو سوچتے تھے اس بار اگر بی جے پی شاہ جی کے دعویٰ کے مطابق ۱۵۰سیٹیں لانے میں کامیاب نہیں ہوپاتی  ہے تو یہ اس کی ناکامی ہے۔ ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس کا خیال تھا کہ بی جے پی  کوپچھلی مرتبہ کے ۱۱۵ کی بہ نسبت  سے ایک بھی سیٹ  کم ملے تو  وہ اس کی شکست ہے۔ ان کے علاوہ  ایسے پرامید لوگ بھی تھے کہ جو سوچتے تھے اگر بی جے پی  ۱۰۰ کے اندر آوٹ ہو جائے اوردونوں جماعتیں  دو اعداد میں سمٹ جائیں تب بھی  کافی ہے۔ یہ تینوں قسم کے لوگ حالیہ نتائج سے مطمئن ہیں۔ ان صابر و شاکر لوگوں پر جاوید اختر کی اپنے دادا مضطر خیرآبادی کے لہجے والی طویل مصروں کی  غزل کا مطلع سادق آتا  ہے؎ ذرا موسم تو بدلا ہے، مگر پیڑوں کی شاخوں پر، نئے پتوں کے آنے میں، ابھی کچھ دن لگیں گے بہت سے زرد چہروں پر غبار غم ہے کم بے شک، پر ان کو مسکرانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے جاوید اختر کی یہ غزل اگر گجرات انتخاب کے بعد منظر عام پر آتی تو لوگ سمجھتے کہ یہ اسی پس منظر میں کہی گئی ہے۔ اس کا  کئی اشعار من و عن ان حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔  یہ امید افزاء شعر تو خیر ان تمام لوگوں کے دل کی آواز ہے جو بی جے پی کے مظالم کا شکار ہیں اور اس سے نجات چاہتے ہیں۔ یہ شعر ان کانگریسیوں کابھی حوصلہ بڑھاتا ہے جو یکے بعد دیگرے ناکامیوں سے اپنا اعتماد کھو بیٹھے تھے اور شنکر سنگھ واگھیلا  یا نارائن رانے کی طرح  پالہ  بدلنے کی سوچ رہے تھے۔ ایک طرف جہاں  بوڑھی قیادت مایوسی کے دلدل میں دھنستی جارہی تھی  وہیں ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی اور  الپیش ٹھاکور  جیسے لوگوں کو راہل کی قیادت میں امید کی ایک کرن نظر آئی۔ وہ جانتے تھے کہ یہ جنگ پہلے ہی معرکہ  میں سر نہیں ہوگی لیکن اس کے بعد منزل قریب تر  ضرور ہوجائیگی۔ گجرات میں برسوں سے غفلت کے شکار عوام کا   خمار یکبارگی نہیں ٹوٹے گا۔ ان کے لیے تاریکی اور روشنی کے فرق کا ادراک کرکے حقائق کو تسلیم کرنے میں وقت تو لگے گا  ؎ توہم کی سیہ شب کو کرن سے چاک کر کے، آگہی ہر ایک آنگن میں نیا سورج اتارے مگر افسوس یہ سچ ہے وہ شب تھی اور یہ سورج ہے یہ سب کو مان جانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے انتخابی سیاست میں  عوام ہمیشہ ان لوگوں کے حق میں رائے  نہیں دیتے کہ جن اس کا حقدار سمجھتے ہیں بلکہ کئی لوگ سوچتے ہیں اپنی پہلی پسند    کو ووٹ دے کر رائے ضائع کرنے سے بہتر ہے   گھر بیٹھ رہیں یا جس کی کامیابی کے امکان روشن ہیں اسی کی حمایت کردی جائے۔ ایسے ڈھل مل رائے دہندگان ان  انتخابی نتائج کو دیکھ کر کفِ افسوس مل رہے ہیں۔ ایک غیر مصدقہ  خبر کے مطابق۱۶ نشستوں پر بی جے پی کو  ۳۰۰۰ سے کم کے فرق سےکامیابی ملی۔ ان میں سے گودھرا اور ڈھوکلا میں تو ۲۳۷ اور ۳۲۷  کا فرق تھا۔ بی جے پی کے  مخالف عوام   کو توخیر ان  نتائج نے بیدار کردیا ہے مگر یہ کافی نہیں ہے۔ اب ان کو آئندہ انتخاب تک ایسے لوگوں کو جگانا ہوگا جو ہنوز خواب غفلت میں مست ہیں۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ اس میں مشکلات کے ساتھ  کامیابی کے روشن امکانات بھی ہیں اس لیے کہ ؎ اندھیرے ڈھل گئے روشن ہوئے منظر، زمیں جاگی فلک جاگا تو جیسے جاگ اٹھی زندگانی مگر کچھ یاد ماضی اوڑھ کے سوئے ہوئے لوگوں کو لگتا ہے جگانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے حالیہ انتخاب میں گجرات کی عوام نے ایک کو راہل کو ہرا دیا اور مودی کو  ڈرا دیا  لیکن ان دونوں کے علاوہ شنکر سنگھ واگھیلا کو مٹا دیا۔ یہ شخص اقتدار کی خاطر مستقل قلابازیاں کھاتا رہا۔ پہلے تو سنگھ پریوار سے بغاوت کرکے کانگریس کی مدد سے وزیراعلیٰ بن گیا۔ اس کے بعد کانگریس میں شامل ہوکر مرکزی وزیر بن گیا۔ مرکز میں جب کانگریس پارٹی ہار گئی تو پھر اس طوطا چشمی رہنما کی نیت ڈانواں ڈول ہوگئی۔ اسے مودی جی کے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر سنگھ کے پرچارکا گزرا ہوا زمانہ  یاد آنے  لگا۔ وہ مودی جی  کورام مندر کی تعمیر پر اکسانے لگا  اور بالآخر احمد پٹیل کے انتخاب کے وقت کھلی بغاوت کردی۔ شاہ جی  بنیا ہیں انہوں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ اس بوڑھے گھوڑے میں کتنا دم خم ہے؟ احمد پٹیل کی کامیابی نے واگھیلا کی پول کھول دی۔ جب بی جے پی نے فاصلہ بنالیاتو وہ نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔ واگھیلا کی غداری اور اس کے ساتھ ہونے والی دغابازی  کو اس شعر کی عینک سے دیکھیں ؎ جہاں اتنے مصائب ہوں ،  جہاں اتنی پریشانی،  کسی کا بے وفا ہونا ہے کوئی سانحہ کیا بہت معقول ہے یہ بات لیکن اس حقیقت تک دل ناداں کو لانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے مودی جی حقیقت پسند آدمی ہیں۔ اس بار ان کو عوام کے مزاج کی تبدیلی  کااندازہ ہوگیا تھا۔ اس لیے انہوں نے پہلے تو انتخاب کی تاریخوں کے اعلان  میں تاخیر کروائی۔ اس کے بعد دھڑ ادھڑ دورے کرکے نت نئے وعدے کرنے لگے۔ راہل نے کہا وکاس پاگل ہوگیا ہے تو جواب میں کہہ دیا میں وکاس ہوں۔ پھر ہندی تقاریر چھوڑ کر گجراتی میں جذباتی خطاب پر اتر آئے۔ وکاس کو بھول کر  عوام کو اپنا ماں باپ بنا دیا۔ کانگریس کو ایک گجراتی وزیراعظم  کا دشمن قرار دے دیا۔ احمدپٹیل کے وزیراعلیٰ بن جانے سے لوگوں کو خوفزدہ کیا  اور پاکستان کی سازش کا ابہام پیدا کیا یہاں تک کہ سابق فوجی جنرل اور سابق وزیراعظم تک کو پاکستان کے ساتھ سازش کرنے والوں میں شامل کردیا۔ یہ سب ڈرامہ کرنے کے باوجود ۱۰۰ کے اندر سمٹ جانے اور ۹۹ پر اٹک جانے پر ان کے دل پر جو بیت رہی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ان کی حالت غیر کا بیان اس شعر میں دیکھیں ؎ کوئی ٹوٹے ہوئے شیشے لئے افسردہ و مغموم، کب تک یوں گزارے بے طلب بے آرزو دن تو ان خوابوں کی کرچیں ہم نے پلکوں سے جھٹک دیں پر نئے ارماں سجانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے مودی جی کی اداسی کی وجہ ان کا قومی انتخاب کے بعد  بہت جلد اڈوانی جی کا نہایت معقول  تبصرہ بھول جانا ہے۔ اڈوانی جی نے ٹیلی ویژن کیمرے کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ بی جے پی کی کامیابی کاسہرہ کانگریس کی نااہلی کے سر بندھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ  کانگریس کو نریندر مودی کی قیادت یا انتخابی مہم نے نہیں بلکہ اس کی بداعمالیوں نے شکست فاش سے دوچار کیا۔ بی جے پی والوں پر اڈوانی جی کی حقیقت بیانی گراں گزری۔ ان لوگوں نے مودی جی کو انسان سے اوتار بنادیا اور اڈوانی کو دیوتا سے دانو بنا کر سیاسی بن باس پر بھیج دیا لیکن گردش زمانہ کسی کی رعایت نہیں کرتا۔ عوام اگر منموہن سنگھ سے مایوس ہوسکتے ہیں تو  مودی جی سے کیوں نہیں ؟ اوریہ ہونے لگا ہے۔ تغیر زمانہ کی اس آفاقی حقیقت کو علامہ  اقبال اس طرح بیان فرماتے ہیں ؎ چمکنے والے مسافر! عجب یہ بستی ہے، جو اوج ایک کا ہے، دوسرے کی پستی ہے سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں، ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں منموہن کے زوال میں مودی کا عروج تھا اور راہل کے عروج میں مودی کا زوال مضمر ہے۔ مشیت کے فیصلے نہ ٹلتے ہیں اور نہ بدلے جاسکتے ہیں۔ مشکل ترین حالات میں عزت ووقار کے ساتھ جدوجہد کرنا اور اس کے بعد ظاہر ہونے والے نتائج سے مصالحت کرلینا ہی کامیاب زندگی کا فن ہے۔ راہل گاندھی نے گجرات کے نتائج کو کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے کہا  ہم نے برہمی اور بہتان طرازی  کا مقابلہ وقار وشائستگی   کے ساتھ کیا۔ راہل نے اپنے ٹویٹ میں لکھا’’میں اپنے دل کی گہرائیوں سے ہماچل اور گجرات کی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں  کہ انہوں نے ہمارے تئیں اس محبت کا اظہار کیا‘‘۔ راہل کے سپنوں کا محل جس طرح بنتے بنتے بکھر گیا اس پر افتخار عارف کی نظم کا یہ بند صادق آتا ہے؎ تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر بنتے بنتے رہ گیا ہے وہ اک گھر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے۔ آئندہ قومی انتخاب کے بعد شاہ جی اور مودی جی  کے دل کی کیفیت کا پیشگی منظر نامہ  افتخار عارف کی نظم ابھی کچھ دن لگیں گے میں یوں ہے؎؎ ابھی کچھ دن لگیں گے دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کا منظر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh