logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

2 جی گھوٹالے میں کسی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ہے.

سی بی آئی سات سالوں میں کسی بھی ملزم کے خلاف ایسا ثبوت پیش نہیں کر پائی جس سے الزام ثابت ہو سکیں.

سات سال تک چلے اس معاملے میں ساڑھے تین سال مودی حکومت کے ہیں.

سپریم کورٹ اس کیس کی نگرانی کر رہا تھا.

اس کے بعد بھی 2 جی معاملے میں سی بی آئی کسی کے خلاف ثبوت پیش نہیں کر پائی ہے.

اسپیشل سی بی آئی جج او پی سینی نے کہا ہے کہ سات سال 2 جی اسکیم کو سننے میں دیا ہے، سی بی آئی ایک بھی ثبوت ہمارے سامنے پیش نہیں کر پائی ہے.

جج او پی سینی کے مکمل بیان کو اس طرح پی ٹی آئی نے چھاپہ ہے .

ان کا بیان ہے کہ ‘میں یہ بھی جوڑنا  چاہتا ہوں کہ قریب سات سالوں سے تمام کاروباری دنوں پر، جس میں موسم گرما کی چھٹیاں بھی شامل ہیں، میں اوپن کورٹ میں 10 سے 5 بجے تک بیٹھتا تھا.

انتظار کرتا تھا کہ کوئی ایسا ثبوت لے کر آئے گا جسے قانونی طور قبول کیا جا سکے لیکن کوئی نہیں آیا.

‘ یہ بات ضروری ہے.

اس سے پہلے کہ سیاسی تو تو میں میں میں اصل بات کھو جائے، اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ جس 2 جی گھوٹالے کو لے کر ملک میں ایک سیاسی طوفان مچا، اس 2 جی گھوٹالے میں تمام ملزم بری ہو گئے ہیں.

ضرور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ہے، مگر انکوائری سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہوئی ہے، ہائی کورٹ نے جج طے کیا تھا.

سی بی آئی نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ میں اپیل کرے گی.

جج او پی سینی کا بیان اہم ہے کہ سی بی آئی یا کوئی بھی ثبوت ہی پیش نہیں کر پایا ہے.

کیا اس وقت سی اے جی نے غلط رپورٹ دی تھی کہ 2 جی معاملے میں سرکاری خزانے کو 1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کا نقصان پہنچایا گیا ہے.

تب سارا ملک سن رہ گیا تھا کہ پونے دو لاکھ کروڑ کا بھی گھوٹالہ ہو سکتا ہے.

کیا سی اے جی سے اتنی بڑی چوک ہو سکتی ہے، پھر تو ہمیں سی اے جی کو لے کر بھی سوال کرنا ہوگا.

اگر اتنے بڑی ادارے کی رپورٹ کا یہ حال ہے تو اس کی ان رپورٹوں کا کیا کریں جس میں وہ پالیسیوں اور لاگو ہونے کی خرابیوں گناتا ہے.

1552 صفحات کا فیصلہ ہے اور ملزم ایک بھی نہیں، ثبوت ایک بھی ثابت کرنے کے قابل نہیں.

یہ غیر حقیقی کہانی ہے یا واقعی میں ایسا ہوا ہے.

اس معاملے میں سابق ٹیلیكام وزیر اے راجا، سابق ڈی ایم کے رہنما كنیموي کروناندھی، كنیموي کی ماں اور کروناندھی کی بیوی مہربان اماں، سابق ٹیلی کمیونیکیشن سیکرٹری سدھارتھ بیہورا، اے راجا کے سابق پرائیویٹ سیکرٹری آر کے چندولیہ، شاہد بلوا، سریندر پپارا، ہری نائر، گوتم دوشی، ونود گوینکا، آصف بلوا، راجیو اگروال،کریم مورانی، شرد کمار، سنجے چندرا یہ سب کے سب بری ہو گئے ہیں.

کسی کے خلاف ثبوت ہی نہیں پیش کر پائی سی بی آئی.

14 لوگ کئی ماہ تک جیل میں رہے.

اے راجا کو استعفی دینا پڑا تھا.

اس فیصلے کے بعد مودی حکومت کے سابق سولیسٹر جنرل مكول روہتگی کا بیان اہمیت کا حامل ہے.

مكول روہتگی نے کہا ہے کہ آپ جس بھی طرح سے دیکھئے، فوجداری مقدمہ نہیں بنتا ہے.

1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کے نقصان کا جو طوفان پیدا کیا گیا وہ درست نہیں ہے.

ہمارے ساتھی آشیش بھارگو نے روہتگی سے بات کی.

1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کے گھوٹالے کے اعداد و شمار سی اے جی رپورٹ پر بنا تھا جب ونود رائے سی اے جی تھے.

ونود رائے کو مودی حکومت نے پدم بھوشن دیا ہے، بینک بورڈ بیورو کا چیئرمین بنایا ہے اور سپریم کورٹ نے انہیں بی سی سی آئی کی انتظامی کمیٹی میں رکھا ہے.

کیا ونود رائے نے غلط رپورٹ دی، ادارے کے تییں اعتماد کا غلط فائدہ اٹھایا، کیا میڈیا ونود رائے کی رپورٹ کے جھانسے میں آ گیا، اس فیصلے نے 2011 سے 2014 کے درمیان کے سارے تاریخ کو ہی جھوٹا ثابت کر دیا ہے.

سب کے سب سوالات کے کٹہرے میں ہیں یہاں تک کہ اس جھوٹ پر یقین کرنے والی عوام بھی.

ونود رائے نے سی اے جی کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد ایک کتاب بھی لکھی.

جس کا عنوانات تھا Not just an accountant، the diary of the nation conciosukeeper، 21 دسمبر کے فیصلے کے تناظر میں کتاب کا ٹائٹل ہی الٹا پڑھا جا سکتا ہے،جیسے ونود رائے صرف قلم کار نہیں تھے، کچھ اور بھی تھے۔ ونود رائے نے آج کسی سے بات نہیں کی.

فون سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر سامنے نہیں آئے.

اس وقت جب 1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کے گھوٹالے کی بات ہوتی تھی تب کانگریس لیڈر اور سینئر وکیل کپل سبل وزیر رہتے ہوئے زیرو لاس کہا کرتے تھے.

کپل سبل کا آج تک مذاق اڑتا ہے کہ زیرو لاس کہا تھا.

فیصلے کے بعد سبل نے کہا کہ زیرو لاس والی بات صحیح ثابت ہوئی.

ونود رائے کو تمام عہدوں سے برطرف کر دیا جانا چاہئے، انہوں نے پورے ملک سے جھوٹ بولا.

جب ثبوت نہیں، کوئی ملزم نہیں تب بھی کیا اتنا بڑا گھوٹالہ ہو سکتا تھا.

فیصلہ ایسا ہے کہ سازش کی تھیوری بھی کمزور پڑ جاتی ہے، کیا مودی حکومت کے رہتے سی بی آئی جان بوجھ کر کیس کو کمزور کر سکتی ہے، کیا مودی حکومت اتنا بڑا خطرہ اٹھا سکتی ہے، یہ سب سوالات ہیں.

اس فیصلے نے میڈیا کا کردار تبدیل کر دیا.

انا تحریک ہویی.

اینکرز ملک سے سوال پوچھنے لگے اور لوگوں کو لگا کہ اینکرز کے علاوہ ملک میں کوئی ہے ہی نہیں.

ایک مضبوط لیڈر چاہئے جو بولنے والا ہو.

کیا یہ سب ایک جھوٹ کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا.

2 جی اسکیم کے وقت اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے 3 جنوری 2014 کو میڈیا کے ساتھ خصوصی بات چیت کی جس میں کہا تھا کہ میڈیا سے زیادہ تاریخ میرے لیے مہربان رہے گی.

کیا منموہن سنگھ کی بات صحیح ہوتی جا رہی ہے، جس منموہن سنگھ کی ہر بات پر ہنسی اڑتی تھی، آج ایسا کیا ہو رہا ہے کہ ان کی ہر بات نشانے پر لگتی نظر آتی ہے.

جج او پی سینی نے اپنے فیصلے میں ایک اور بات کہی ہے.

ایک بھی شخص نہیں آیا.

یہ اشارہ کرتا ہے کہ ہر کوئی اس خیال سے متاثر تھا جو افواہ، گپ اور اٹكل بازيوں کی بنیاد پر بنائی گئی تھی.

عدالتی عمل میں افواہوں کی کوئی جگہ نہیں ہے.

بی جے پی ماننے کو تیار نہیں ہے کہ 2 جی اسپیکٹرم گھوٹالہ نہیں ہوا تھا.

پارٹی اور حکومت کی طرف سے یہی بیان دیا جا رہا ہے کہ پالیسیوں کو بدعنوان طریقے سے بنایا گیا تھا.

وزیر خزانہ جیٹلی کہہ رہے ہیں کہ سی اے جی کی رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے الاٹمنٹ منسوخ کیا تھا.

لیکن جج او پی سینی نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایک بھی ثبوت پیش نہیں کئے گئے اور افواہوں کی بنیاد پر خیال پیدا ہوا.

کانگریس اس وقت جارحانہ ہے.

وہ وزیر اعظم مودی سے صفائی مانگ رہی ہے.

سابق سی اے جی ونود رائے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے.

پی چدمبرم نے کہا ہے کہ ایک جھوٹے گھوٹالے کی افواہ پھیلا کر یو پی اے کی حکومت گرا دی گئی.

آنند شرما نے کہا ہے کہ جھوٹ کی بنیاد پر بدعنوانی مخالف تحریک چلی.

کانگریس حکومت نے لوک پال قانون بھی پاس کیا مگر تین سال سے زیادہ وقت ہو رہے ہیں، لوک پال کی تقرری کے عمل کو شروع تک نہیں کیا گیا ہے.

2G گھوٹالے کی بات نے ملک کی ٹیلی کام انڈسٹری کو طویل وقت کے لئے تباہ کر دیا.

روزگار دینے والا یہ سیکٹر چھنٹنی کا سیکٹر بن گیا.

لائسنس منسوخ ہوئے.

اس سیکٹر میں ہزاروں لاکھوں روزگار چلے گئے.

کیا اس کا تعلق تملانڈ کی سیاست سے بھی ہے.

گزشتہ دنوں وزیر اعظم ڈی ایم کے چیف کروناندھی کا حال جاننے ان کے گھر گئے تھے.

کیا اس فیصلے کے بعد بی جے پی ڈی ایم کو اپنے پالے میں لے لے گی، کیا گٹھ بندھن کے لئے اتنا بڑا سیاسی داؤ چلایا جا سکتا ہے، تمل ناڈو میں گٹھ بندھن گا تو ملک میں سوال نہیں اٹھے گا کہ 2 جی گھوٹالے کے ملزم کہاں ہیں، وہ بی جے پی کے ساتھ کیوں ہیں، وہ بری کیوں ہو گئے.

کیا جھوٹ کی بنیاد پر ایک قصہ گڑھا گیا.

کیا سب کچھ اتنا آسان ہوتا ہے کہ وزیر اعظم ڈی ایم سے گٹھ بندھن کر لیں اور ادھر 2 جی گھوٹالے میں اس کے لیڈروں کو چھڑوا دیں.

وزیر اعظم بدعنوانی مخالف آپ کی تصویر داؤ پر کیوں لگانا چاہتے ہیں.

آنے والے دنوں میں دیکھئے کہ ڈی ایم کی سیاست کس طرف جاتی ہے، ان کی طرف کون جاتا ہے.

جج اوپی سینی نے یہ بات اپنے فیصلے میں لکھی ہے.

سی بی آئی کا کہنا ہے کہ جو خامیاں رہ گئیں ہیں ہم ان کا دفاع کریں گے.

ہماری اہم دلیل نہیں مانی گئی.

جج او پی سینی نے دلیل کی بات نہیں کہی ہے، کہا ہے کہ سی بی آئی کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کر پائی.

سی بی آئی کہتی ہے کہ ان کے تحریری ثبوتوں کو نہیں مانا گیا.

سیاستدان چھوٹ گئے.

صنعتکار چھوٹ گئے.

سات سال کی سماعت کا یہی نتیجہ نکلا ہے کہ کوئی ثبوت نہیں ہے.

گھوٹالہ ہی نہیں ہوا ہے.

ہائی کورٹ میں اپیل کے نام پر کیا اس کی آگ پر سیاسی روٹی سیكي جا سکتی ہے.

یہ معاملہ کورٹ کے دائرہ کار سے باہر جاتا ہے.

ملک کو پتہ چلنا چاہئے کہ ہوا کیا تھا.

سی اے جی کی رپورٹ کس مقصد سے بنی تھی، کیا ڈی ایم اور صنعت کاروں کی  تحقیقات کی سطح پر کوتاہی برتی گئی.

کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ وویک تنكھا نے سوال کیا ہے کہ سی اے جی کی رپورٹ کس طرح لیک ہوئی کسی کو پتہ نہیں، جس رپورٹ کو پارلیمنٹ میں رکھا جانا تھا، مگر اس کے پہلے ہی رپورٹ لیک کر دی گئی.

جب ثبوت نہیں ہیں، ملزم چھوٹ چکے ہیں تب پھر کس گھوٹالے کی بات ہو رہی ہے.

ہائی کورٹ میں اپیل کی بات ہو رہی ہے، 30 دسمبر 2014 کو سہراب الدین فیک انکاؤنٹر معاملے میں امت شاہ اسپیشل سی بی آئی کورٹ سے بری ہوئے تو آج تک اپیل فائل نہیں ہے.

دسمبر 2017 آنے جا رہا ہے.

کیا سی بی آئی کسی سے پوچھ کر اپیل کا فیصلہ کرتی ہے.

کیا یہی شفاف اور منصفانہ نظام ہے.

ہمارے ساتھی آشیش بھارگو نے اپنی رپورٹ میں فیصلے کے بارے میں کچھ دیگر باتیں بھی لکھی ہیں، جج نے لکھا ہے کہ ٹیلی کام محکمے کی بات کسی نے نہیں سنی.

سب نے مان لیا کہ یہ بڑا گھوٹالہ ہے جبکہ ایسا اسکینڈل نہیں تھا.

سی بی آئی کے بارے میں کورٹ کی تبصرہ دلچسپ ہے.

جج او پی سینی نے لکھا ہے کہ سی بی آئی نے اس کیس کی بڑی اچھی کوریوگرافی کی.

ایسا کوئی ریکارڈ یا ثبوت نہیں جس سے جرم ثابت ہوتا ہو.

چارج شیٹ میں سرکاری دستاویزات کی غلط اور سیاق و سباق سے ہٹ کر تشریح کی گئی ہے.

گواہوں کی زبانی گواہی کی بنیاد پر چارج شیٹ دائر کیا گیا.

جبکہ کورٹ میں گواہوں نے یہ سب نہیں کہا.

چارج شیٹ میں بہت سی حقیقتیں غلط ہیں.

ابھییوجن پکش چارج شیٹ ثابت کرنے میں ناکام رہا.

جج او پی سینی کا یہ تبصرہ سب کے لئے تشویش کی بات ہونی چاہئے.

کیا اتنا آسان ہے جھوٹا کیس گڑھنا اور جھوٹے الزامات میں کسی کو جیل بھیجنا اور ایک قومی تحریک کھڑی کر دینا.

کیا سب کچھ جھوٹ ثابت ہو جائے گا.

بہت کچھ داؤ پر لگا ہے.

یہ سي بي آي نے تب کے وزیر مواصلات اے راجا پر 200 کروڑ کے رشوت لینے کا الزام لگایا تھا.

جو ڈی ایم کے سانسد كنموي کے ٹی وی چینل کے ذریعہ دی گئی تھی.

اے راجا اور كنموي دونوں بری کر دیے گئے.

سات سال سے جانچ ہو رہی ہے، اسپیشل جج روز ثبوتوں کا انتظار کرتے رہے، ثبوت نہیں آئے.

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh