logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

انصاف کی تلاش میں

Wed 10 Jan 2018, 15:59:05

نئے سال کا آغاز ہنگاموں سے ہوا۔ پونے کے قریب بھیماکورے گائوں میں مراٹھوں اور دلتوں میں پُرتشدد جھڑپوں نے سیاسی ماحول کو گرمادیا مگر حالات جس قدر شدت اختیار کرتے جارہے تھے اس کے بعد یہ اندیشہ واجبی ہی تھا کہ مراٹھوں اور دلتوں کے آپسی ٹکرائو کو ہندو مسلم فساد میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔مودی۔امیت شاہ کے گڑھ میں اِن کی نیند اور چین کو متاثر کرنے والے ابھرتے دلت نیتا جگنیش میوانی کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا۔ انہیں ریالی نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے باوجود ریالی نکالی گئی۔ لوگ کم تھے مگر میوانی اور کنہیا کمار کے علاوہ دیگر قائدین نے جو بات کہنی تھی کہہ دی۔ خلاف معمول میڈیا نے بھی توجہ دی۔ جگنیش میوانی ہوں یا کنہیا کمار‘ انہوں نے بہت کم عرصہ میں بڑی ہمت کے ساتھ اپنی جگہ بنائی ہے۔ اس لئے کہ ان کے ساتھ ان کی پوری قوم ہے۔جنوری کے دوسرے ہفتہ کے آغاز کے ساتھ دو خبریں میڈیا کی توجہ کا مرکز رہیں۔۔۔ پہلی خبر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کشمیری اسکالر کی عسکریت پسند گروپ میں شمولیت‘ اور دوسری خبر حیدرآبادی سات نوجوانوں کی۔ احتجاج اور سنگباری کے مقدمات میں برأت کی۔ممتاز عالم دین اور قلمکار مولانا عبدالعلیم اصلاحی کے فرزند معتصم باللہ اور دیگر چھ نوجوانوں پر سعیدآباد پولیس نے مجاہد سلیم مرحوم کے جلوس جنازہ کے دوران احتجاج اور سنگ باری کے سلسلہ میں مقدمات درج کئے تھے۔ مجاہد سلیم‘ معتصم باللہ کے بڑے بھائی تھے جنہیں گجرات پولیس کے سفاک اور انکائونٹر اسپیشلسٹ نریندر امین نے 31؍اکتوبر 2004 کو اس وقت گولی مار کر شہید کردیا تھا جب وہ مولانا نصیرالدین کی ڈی جی پی آفس لکڑی کاپل سے گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ یکم؍نومبر 2004 کو عیدگاہ اُجالے شاہ سعیدآباد میں نماز جنازہ ادا کی گئی تھی۔ اس سے قبل احتجاجی و تعزیتی جلسہ عام سے بیرسٹر اسدالدین اویسی کے بشمول کئی اور قائدین نے خطاب کیا تھا۔ محلہ کے ایک نوجوان کی پولیس کے ہاتھوں شہادت پر نوجوانوں اور مقامی عوام میں غم و غصے کی لہر تھی۔۔۔ دو ہزار سے زائد کا ہجوم تھا۔بہرحال سولہ سالہ معتصم باللہ کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ا ور مولانا عبدالعلیم اصلاحی پر غموں اور مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ایک جواں سال بیٹا شہید ہوگیا‘ دوسرا پس زنداں چلا گیا۔ خوشی میں شکر! مصیبتوں میں صبر کرنے کا درس دینے والے اصلاحی صاحب کو خود صبر و تحمل کے پیکر بن گئے۔ معتصم باللہ نے جیل میں سودن گزارے‘ اور جیل میں رہتے ہوئے انجینئرنگ کورس کی تکمیل کی۔ وہ ایم ٹیک ہیں اور کامیابی کے ساتھ کنسٹرکشن کا کام کررہے ہیں۔ ان پر جملہ دس مقدمات تھے جن میں سے چھ برخواست ہوچکے ہیں۔ مابقی چار بھی ختم ہوجانے کی انہیں امید ہے۔ مقدمات شروع ہوئے تھے تب وہ 16برس کے تھے اب 30برس کے ہوچکے ہیں۔ دو سال پہلے ازدواجی بندھن میں بندھ گئے۔ تاہم 14برس کے دوران وہ جیل میں ذہنی اذیتوں سے دوچار ہوتے رہے۔ یقینا وہ آخری سانس تک ناقابل فراموش رہیںگی۔یہ وہ دور تھا جب اپنے پرائے سبھوں نے نظریں پھیر لیں۔ نئے دوست نہیں بن سکے۔ پرانے دوستوں پر ان کے بڑوں کا دبائو تھا۔ بہرحال ایک ذہنی اذیت سے نجات ملی۔ والدین کو جنہیں آزمائشی حالات نے وقت سے پہلے اور بھی زیادہ ضعیف کردیا۔۔۔ قدرے راحت ملی۔ مگر یہ مقدمہ ابھی بند نہیں کیا گیا۔۔۔ مولانا اصلاحی اور معتصم باللہ کا کہنا ہے کہ مکمل انصاف تب ہی ہوگا جب مقدمہ بند کردیا جائے گا۔ بے شک انصاف ملتا ہے‘ دیر سے ہی سہی۔ امید ہے کہ نریندر امین کو بھی اس کے کئے کی عدالت سزا سنائے گی۔معتصم باللہ۔۔۔ کا ذہن مجرمانہ نہیں تھا۔ اگر ہوتا تو وہ جیل کے ماحول میں عادی مجرمین کی صحبت اختیار کرتا۔۔۔ جرائم کی ڈگری لے کر نکلتا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس نے جیل میں رہتے ہوئے انجینئرنگ کی تکمیل کی۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ایک روشن مستقبل کے لئے حالانکہ اس کے مستقبل کو تاریک کردینے کی کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی تھی۔ جیل کے حکام اور قیدیوں کو یقینا حیرت ہوئی ہوگی جنہیں تخریب کاری، ہنگامہ آرائی اور کبھی کبھی دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کیا جاتا ہے وہ تو جیل کی چاردیواری میں اپنے اخلاق اور کردار سے سب کو متاثر کردیتے ہیں۔ اس سے پہلے مکہ مسجد واقعہ کے ایک ملزم کلیم کے اخلاق اور کردار سے متاثر ہوکر اسیما آنند نے اپنے جرم کا اقبال کیا۔ مولانا نصیرالدین کو سابرمتی جیل میں رکھا گیا تو جتنا عرصہ وہ وہاں رہے اپنے اخلاق و کردار سے قیدیوں کو اور جیل حکام کو متاثر کرتے رہے۔ حتیٰ کہ جیل کی گلہریاں تک ان سے مونگ پھلی کھانے کی منتظر رہتیں۔ مولانا نصیرالدین نے جیل کی چہار دیواری میں رہتے ہوئے قرآن مجید کے کئی پارے حفظ کرلئے۔ قیدیوں اور حکام کو ان کے اعلیٰ کردار کا اعتراف رہا۔اب آیئے کشمیری ریسرچ اسکالر منان بشیر وانی کی طرف۔ کشمیر سے علی گڑھ آکر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا نوجوان آخر عسکریت پسندی اختیار کرنے کے لئے کیوں مجبور ہوگیا۔ اگر اطلاع سچ ہے تو افسوسناک ہے! اگر غلط ہے تو اس کے والدین کے ساتھ ساتھ تمام کشمیری طلباء برادری کے لئے راحت کا سبب بنے گی۔۔۔ کیوں کہ پہلے ہی سے ’’کشمیری‘‘ فرقہ پرست عناصر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے رہتے ہیں۔ ہم بار بار ارباب اقتدار سے اپیل کرتے رہے ہیں کہ کشمیر بھی ہمارے ملک کا اٹوٹ حصہ ہے اور کشمیری بھی۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ کشمیریوں سے بھی محبت کی ضرورت ہے۔کشمیری نوجوانوں کو وہ کونسا احساس محرومی اور عدم تحفظ زندگی سے موت کی سمت لے جارہا ہے‘ اس کا جائزہ لینا ملک کے ارباب اقتدار کے ساتھ ساتھ ہر اس فرد کی ذمہ داری ہے‘ جو ملک کی سلامتی سالمیت اور اس کا اثاثہ یعنی نوجوانوں کو گمراہی سے باز رکھنا چاہتا ہے۔دلتوں کے خلاف تشدد ہوتا ہے‘ ناانصافی ہوتی ہے اور وہ قانون بھی اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں تو نظر انداز کردیئے جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی اپنی طاقت ہے۔۔۔ جس کا معمولی سا مظاہرہ گجرات کے الیکشن میں کیا گیا۔نکسلائٹس چاہیں جو کریں۔۔۔ انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کی بازآبادکاری کی ہر ممکنہ کوشش کی جاتی ہے اور رہ گئے مسلمان تو وہ آہ بھی کرتے ہیں تو۔۔۔ دہشت گرد کہلاتے ہیں۔جھوٹے مقدمات میں پھنساکر ان کی زندگی برباد کردی جاتی ہے۔ اس لئے کہ ان میں آپسی اتحاد نہیں۔ ایک نوجوان جھوٹے الزام میں گرفتار کیا جاتا تو اس کی رہائی کے لئے پیروی اور دیگر اقدامات کئے لئے بھی یہ دیکھا جاتا ہے آیا اس نوجوان کا تعلق کسی مخصوص سیاسی گروہ‘ کسی خاص مسلک سے تو نہیں۔ہونا تو یہ چاہئے کہ نہ صرف بے قصور نوجوانوں کی رہائی کے لئے قانونی مدد کی جائے بلکہ ان کے ارکان خاندان کو سماجی بائیکاٹ سے محفوظ رکھنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں۔ اور جب بے قصور افراد برسوں جیلوں میں گزارنے کے بعد باعزت بَری کردیئے جائیں تو ان عہدہ داروں کے خلاف مقدمات دائر کئے جائیں جو کئی خاندانوں کی بربادی کا سبب بنتے ہیں۔ چاہے یہ عہدہ دار برسر ملازمت ہوں یا اس سے سبکدوش ہوچکے ہوں۔جھوٹے الزامات کے تحت کسی کا گھر اجاڑنا سب سے بڑا گھنائونا جرم ہے۔ ایک نوجوان جیل چلا جاتا ہے تو بہنوں کے رشتے طئے نہیں ہوتے۔ ماں باپ پر کیا گزرتی ہے‘ اگر اولاد ہے تو وہ باپ کے رہتے ہوئے یتیم کی زندگی گزارنے کے لئے مجبور ہوجاتے ہیں۔ عدالتوں میں بھی یہ روایت شروع ہونی چاہئے کہ جب برسوں بعد کسی کو بے گناہ تسلیم کیا جاتا ہے تو اس بے گناہ کو گناہ گار بنانے والے کو سزا دی جائے۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب مظلوم کی جانب سے اس کی قوم ہر مقام پر اس کا ساتھ دے۔ قوم کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو غلط راستے پر چلنے سے روکیں۔ اگر وہ کسی برائی میں مبتلا نظر آئیں تو انہیں روکے ٹوکے۔ یہ نہ سوچیں کہ یہ کسی اور کی اولاد ہے‘ اس سے ہمارا کیا لینا دینا ہے۔ آپ دوسروں کی اولاد کا بھلا سوچیںگے تو آپ کی اولاد کی بھلائی کا بھی قدرتی طور پر انتظام ہوگا۔ہرماں باپ اپنی اولاد کا روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ آپ کی اولاد کا مستقبل اُسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب اُسے محفوظ ماحول یا معاشرہ ملے۔ اور یہ اُسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ دوسرے بچوں کی تربیت کا بھی خیال کریں۔ کسی نے یہ بھی سچ کہا ہے کہ اگر ہر ماں باپ اپنی اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرلیں تب بھی معاشرہ خود بخود سدھر جائے گا۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh