logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

مولانامحمدجہان یعقوبیہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم اسکول کی تیسری جماعت میں زیرتعلیم تھے ۔ایک دن کلاس میں بیٹھے تھے کہ میرے کلاس فیلومحمدعارف خان نے مجھے یہ کہتے ہوئے ایک رسالہ لاکردیا، کہ اس میں اس کی بھی تحریرشایع ہوئی ہے۔پھرخودہی رسالے کے آخری صفحات میں اپنی تحریردکھائی،جس کا عنوان تھا:’’چاول کی کہانی،اس کی زبانی‘‘۔یہ تحریر بچوں کے مقبول رسالہ’’ہمدرد نونہال‘‘ کے مستقل سلسلے:’’نونہال ادیب‘‘ میں شایع ہوئی تھی۔عارف نے بتایاکہ تحریرشایع کرنے کے ساتھ ساتھ ہر’نونہال ادیب‘ کی طرح اس کے نام بھی انعام میں ایک کتاب بھیجی گئی ہے۔ہم اس کی باتیں شوق سے سن رہے تھے۔اس کی ہربات سے ہماراشوق تحریردوآتشہ ہوتاجارہاتھا۔اب ہم اس سے لے کرہرماہ کا’ہمدردنونہال‘ پڑھنے لگے۔پھرخودخریدنابھی شروع کردیا،ساتھ ہی ہم رسالے کے مختلف مستقل سلسلوں میں طبع آزمائی بھی کرنے لگے تھے۔کبھی ہمارابھیجاہواکوئی لطیفہ چھپ جاتا،توکبھی کوئی قول،کبھی کوئی حکایت توکبھی کوئی اورمنتخب مواد۔اس سے ہماراحوصلہ بڑھنے لگا۔پھرہم نے ’’نونہال ادیب ‘‘میں تحریریں بھیجناشروع کردیں۔جن بچوں کی تحریریں ناقابلِ اشاعت ہوتی تھیں، ادارہ’ نونہال‘ کی طرف سے ان کو ایک عد خط ،جس میں عمومی کوتاہیوں کاتذکرہ نمبروارہوتاتھا،بھیجا جاتا تھا،جس کے آخرمیں محترم مسعوداحمدبرکاتی،مدیرہمدردنونہال کے دستخط بھی ثبت ہوتے تھے اوریہ دعائیہ جملہ بھی:اگراسی طرح محنت کرتے رہے توآپ کاشماربھی بڑے ادبامیں ہوگا۔یہ جملہ ہمیں بہت بھاتاتھا،اورسچ پوچھیے توتحریرشایع نہ ہونے کاساراملال اس دعاکے اثرسے جاتارہتاتھا۔آخروہ دن بھی آیا،جب ہمارابھیجاہوامضمون جس کا عنوان’’مانگی ہوئی چیز‘‘تھا،’نونہال ادیب ‘میں جگہ پانے میں کام یاب ہوگیا،ہمیں ادارے کی طرف سے نعام میں ایک عددکتابچہ’’گنداپانی‘‘ بھی بھیجاگیا،اورحکیم محمدسعیدکے دستخطوں کے ساتھ ایک تعریفی ودعائیہ خط بھی۔ جب اخبارات میں بچوں کے نامور ادیب ،سفرنامہ وترجمہ نگار، ہمدرد ایڈیٹوریل بورڈ کے سربراہ، ہمدرد نونہال اور ہمدرد صحت کے ایڈیٹر مسعود احمد برکاتی کے انتقال کی خبر سنی،توبرسوں پرانی باتیں دماغ کی اسکرین پر ایک فلم کی طرح چلنے لگیں۔بلامبالغہ یہ صرف میری داستان نہیں،قلم وقرطاس سے وابستہ اکثرلوگ اس بات کااعتراف کریں گے کہ ان کی ادبی اٹھان میں ہمدردنونہال کے مدیرمسعوداحمدبرکاتی،جن کومرحوم لکھتے ہوئے بھی قلم لرزرہاہے،کی شفقتوں کابڑادخل ہے۔نصف صدی سے زایدپرمحیط اپنے طویل دورادارت میں انھوں نے بچوں کے ادب کوسیکڑوں ہیرے فراہم کیے۔ایک معاصر روزنامے کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے خود بتایا:اردو ادب کے چمکتے دمکتے ستارے حامداللہ افسر، علی ناصر زیدی ،محشربدایونی،،عشرت رحمانی،غلام مصطفی صوفی تبسم،ماہرالقادری،سحرانصاری،رفیع الزماں زبیری،طالب ہاشمی،ڈاکٹر اسلم فرخی،اشتیاق احمد،شان الحق حقی،ناصرزیدی اورجمیل جالبی’’ماہ نامہ ہمدرد نونہال‘‘کی دریافت ہیں۔کچھ کو ہم نے بچوں کے لیے لکھنے کے مشن پر لگایا اور کچھ کو لکھنا سکھایا۔قارئین بخوبی جانتے ہیںکہ یہ تمام حضرات اردو ادب کی قدآورشخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔مسعود احمد برکاتی کا تعلق ٹونک کے ایک علم دوست روحانی خاندان سے تھا۔علم اوراردوسے محبت ان کو ورثے میں ملی تھی۔ادبی زندگی کا آغاز بھی تقسیم ہند سے قبل اپنے دادا علامہ حکیم سیدبرکات احمد کے نام پر ایک قلمی رسالہ’ البرکات‘کے ذریعے کردیا تھا۔تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے آئے اور ہمدرد فاونڈیشن سے ایسے منسلک ہوئے ،کہ زندگی کی 60 سے زائد بہاریں انھوں نے اسی ادارے میں دیکھیں۔مسعود احمد برکاتی بچوں کے رسالے ہمدرد نونہال اور ہمدرد صحت کے مدیر رہے،جب کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمدرد ایڈیٹوریل بورڈ کے سربراہ کے طور پر بھی فرائض منصبی انجام دیتے تھے۔وہ حکیم حکیم محمدسعیدکے انتہائی قریبی مخلص دوست، بااعتماد اور دیرینہ ساتھی تھے،جس کاعملی ثبوت انھوں نے حکیم صاحب کی زندگی ہی میں نہیں،ان کی شہادت کے بعد،بلکہ اپنی آخری سانسوں تک فراہم کیا۔وہ ہمدرد فاؤنڈیشن کوچھوڑ کر کہیں گئے اور نہ ہی کسی اور اخبار یا رسالے سے وابستہ ہوئے ۔برکاتی صاحب پاکستان کے کسی بھی رسالے کے واحد مدیر ہیں جو 60سال سے زاید تک ادارت کرتے رہے،یہی وجہ ہے کہ ان کی شہرت بچوں کے ادیب کے طور پر زیادہ ہے، گذشتہ چھے دہائیوں سے نونہالوں کا مستقبل سنوارنے کی تگ و دو میں مصروف اورنسلوں کی آب یاری کا ذمہ کاندھوں پر لیے، اپنے نوکِ قلم سے علمی جہاد میں مصروف رہے۔ بہ طور مدیر ہمدرد نونہال کے ذریعے بچوں کی تہذیبی، اخلاقی اور لسانی تربیت اور انھیں ایک اچھا شہری بنانے کی سعی مسلسل کے حوالے سے ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ مرحوم صدارتی ایوارڈ یافتہ اور گولڈ میڈلسٹ تھے۔ان کو اعتراف خدمات کے طور پر پاکستان کے سینئر ترین پروفیشنل ایڈیٹر کا نشانِ سپاس بھی دیاگیاتھا۔ ان تمام ذاتی اعزازات واعتراف ِ خدمت کے باوجود وہ حکومت سے بچوں کے ادب کی ناقداری کا شکوہ کیا کرتے تھے،کیوں کہ ان کی نظر ذات اور ذاتی منافع پر نہیں،بچوں کے ادب کے مستقبل پر تھی،اور اس بات پر وہ پریشان رہا کرتے تھے کہ دن بہ دن بچوں کے اداب کا معیار بجائے بلند ہونے کے ،پستی کی طرف جارہا ہے،رسائل وجرائد کی تعداد کم ہورہی ہے اور معروف ادیب اس جانب آنے کے لیے آسانی سے تیار بھی نہیں ہوتے۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ صرف بچوں کے ادیب ہی نہیں،ایک بڑے ادیب،مترجم،ناول نگار وسفرنامہ نویس بھی تھے۔ان کو کئی زبانوں پربھی عبور حاصل تھا،جن میں اردو کے علاوہ عربی، فارسی، انگریزی اور روسی زبانیں شامل ہیں۔وہ بنیادی طور پر بڑوں کے ادیب تھے۔وہ خود کہتے ہیں:میں نے بڑوں کے لیے لکھنا شروع کیا تھا۔ نفسیاتی مضامین لکھے۔ متفرق موضوعات پر بھی لکھا، اشتراکیت، کارل مارکس، تاریخ کی مادی تعبیر، طباقی نزاع، اشتراکیت اور مذہب کے عنوانات سے علمی اور غیرسیاسی مضامین لکھے۔ قابل ذکر تصانیف، تالیفات اور تراجم میں:جوہرقابل(مولانا محمدعلی جوہرؒ کی کہانی اور کارنامے)، صحت کی الف بے،حکیم محمدسعیدؒ کے طبی مشورے،دو مسافر دو ملک(اردو میں بچوں کا پہلا سفرنامہ)،مونٹی کرسٹو کا نواب(الیگزینڈر ڈوما کے ناول کا ترجمہ)،پیاری سی پہاڑی لڑکی(ترجمہ ناول)، ایک کھلاراز(مجموعہ مضامین)، وہ بھی کیا دن تھے ، ہزاروں خواہشیں (چارلس ڈکنس کے ناول کا ترجمہ)، صحت کے 99 نکتے،، چورپکڑو (مجموعہ مضامین)، تین بندوقچی(تھری مسکیٹئرز کا ترجمہ)شامل ہیں۔حکیم صاحبؒ کی سوانح حیات کی ترتیب وتالیف میں مسز ڈی سلوا کے ساتھ شریک مصنف بھی رہا۔ ان کے علاوہ 20 سے 25 کتابیں وہ ہیں، جو میں نے شہید حکیم محمدسعیدؒ کی تحریروں سے مرتب کیں۔انھوں نے حکیم صاحبؒ کے چھوڑے ہوئے علمی وادبی ورثے کی حفاظت کی،ان کے لگائے ہوئے پودوں کوسینچا،ان کے مشن کوآگے بڑھایا،اوران کے خلاکوپرکرنے کی کوشش کی،وہ محتاج بیان نہیں،اس قحط الرجال کے دورمیں برکاتی انکل کاخلاپرہوسکے گایانہیں،اس سوال کاجواب توآنے والاوقت دے گا،اگرچہ وہ خود کہتے ہیں:اپنے بچوں کو اپنا ورثہ منتقل نہیں کیا، نہ ادب اور نہ دولت۔ بچوں کو اعلی تعلیم دلوائی، لیکن ان کے مزاج اور میدان مختلف رہے۔ اپنی سُلبی اولاد کے علاوہ انھوں نے اپنی لاکھوں کی تعداد میں جو روحانی اولاد چھوڑی ہے،ان میں سے کسی کو تو ضرور اللہ ان کے چھوڑے ہوئے کام کو ان کی نہج کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ان شاء اللہ!اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ،کہ ان کے تیارکردہ ادیب اوراِن ادیبوں کے جاری کردہ رسائل وجرایدبچوں کے ادب کے اس عظیم معمارکے اخروی اجرمیں اضافہ دراضافہ کرتے رہیں گے۔اللہ تعالی مسعوداحمدبرکاتی مرحوم کوکروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اوران کے لگائے ہوئے پودے ہمدردنونہال اوربچوں کے ادب کوسدابہاررکھے۔ایں دعاازمن وازجملہ جہاں آمین باد!

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh