logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی    معتدل اسلام اور متطرف اسلام جیسے عنوان سے اسلامی روح کو پامال کرنے کی چالیں، اور ان کی حقیقت کیا ہے؟ مملکت توحید سعودی عرب میں اسلامی روح کو کس طرح مسخ کرنے کی سازش ہورہی ہے اس کو پڑھیے، مختصر مگر مکمل، جامع اور مدلل انداز میں قرآنی روشنی میں، عالم اسلام کے معروف اسکالر ڈاکٹر طارق ایّوبی صاحب  (صدر کاروانِ امن و انصاف) کے گہرے اور حق رواں قلم سے بھرپور معلوماتی اور فکر انگیز تجزیہعالم اسلام میں حکمرانوں کے نئے فتنے پر اس مدلل تحریر کو تمام مسلمانوں تک پہنچائیں:             ہم نے اب تک یہی جانا تھا، پڑھا تھا اور سمجھا تھا کہ دین اللہ کے نزدیک ’’الاسلام‘‘ ہے، لیکن شہزادہ محمد بن سلمان نے بتایا کہ دین صرف الاسلام نہیں بلکہ ’’معتدل اسلام‘‘ بھی ہے، آخر یہ ’’معتدل اسلام‘‘ کون سی بلا ہے، اس کی جڑیں کہاں سے ملتی ہیں، اس سے کیا مراد ہے، یہ کس کی مرضی سے اختیار کیا جائے گا، اس کا کیا مقصد ہوگا ایسے بہت سارے سوالات ذہن میں اٹھ رہے ہیں۔ صاحب بہادر نے فرمایا کہ وہ ’’مملکت میں معتدل اسلام کی واپسی کر رہے ہیں‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’سعودی عرب ۱۹۷۹ء سے قبل ایسا نہیں تھا‘‘ اس لیے انھوں نے واضح کیا کہ ہم اسی طرف واپسی کر رہے ہیں جہاں ہم پہلے تھے، یعنی سعودیہ ایک معتدل اسلامی ملک جو دنیا کے تمام مذاہب کے لیے کھلا ہوا تھا، اس ’’معتدل اسلام‘‘ کی بحالی کے لیے صاحب قتل و خون اور قید و بند کا کھیل کھیل رہے ہیں، مشہور ترین علماء کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے، سینکڑوں غائب ہیں، خاندان میں اقتدار کی جنگ جاری ہے، صاحب نے متعدد شہزادوں کو نظر بند کر دیا ہے، کچھ کا تو پتہ ہی نہیں کہاں گئے، بعض خبر رساں اداروں کے مطابق متعدد شہزادے قتل کر دیے گئے ہیں، خاندان کی دوسری شاخوں میں تقسیم وزارتوں کو ’’بد عنوانی‘‘ کا خوشنما الزام دے کر اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور وزیروں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا ہے، ’’معتدل اسلام‘‘ کی بحالی کے لئے اخوان جیسی پر امن تنظیم کے نام پر پکڑ دھکڑ اور ٹارچر کرنے کا سلسلہ جاری ہے، ایسا لگتا ہے کہ اب صاحب کچھ دنوںکے لئے یا تو طاقتور ترین بادشاہ بن جائیں گے یا ہوسِ اقتدار انھیں تاریخ کی اس فہرست میں شامل کر دے گی جس پر نظر پڑتے ہی تعوذ و حوقلہ کے کلمات خود بخود زبان پر آجایا کرتے ہیں۔            صاحب نے منشاء ظاہر کی ہے کہ وہ سعودیہ میں ریزارٹ بنائیں گے جہاں اختلاط اور بے حیائی وفحاشی پر کوئی روک ٹوک نہ ہوگی، آئندہ سال موسیقی وغیرہ کا میلہ لگانے کا بھی عندیہ دیا ہے، صاحب کی سربراہی میں رابطہ عالم اسلامی کی ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس کا نام ہے ’’لجنۃ دائمۃ للتواصل بین الفاتیکان ورابطۃ العالم الاسلامی‘‘ یہ کمیٹی ویٹیکن چرچ سے مستقل رابطہ رکھنے کے لئے بنائی گئی ہے، صاحب کا خود مستقل رابطہ نیتن یاہو سے ہے، گزشتہ مہینہ خفیہ طور پر اسرائیل کی سیر سے لوٹے ہیں، ہزاروں ائمہ کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے، وائٹ ہاؤس کی نگرانی و سرپرستی میں قائم ریاض دفتر کے توسط سے اب نئے ائمہ کا تقرر ہوگا جو معتدل فکر کے حامل ہوں گے۔            سطور بالا سے محسوس ہوا ہوگا کہ اسلام کا طوق غلامی گردن سے اتار پھینکنے، ناچنے تھرکنے، اسلام کے علاوہ دیگر تہذیبوں کے رنگ میں رنگنے، قرآن کو بالائے طاق رکھنے، دین کو مسجد ومصلی تک محدود کرنے اور شریعت کو کھرچ کھرچ کر پھینکنے، اسلامی نظام کے تصور کو ذہنوں سے مٹانے اور مغرب کی بالا دستی قبول کرتے ہوئے اس کے اشارے پر چلنے کا نام صاحب کی نظر میں ’’معتدل اسلام‘‘ ہے، صاحب کے اقدامات سے محسوس ہو رہا ہے کہ وہ اتاترک کی راہ چل پڑے ہیں، یاد رکھنے کی بات ہے کہ اسلام کے اصولوں میں اور عقائد میں اور خدا کی بندگی اختیار کرنے میں اعتدال کا کوئی دخل نہیں ، اعتدال عدل سے مشتق ہے اور عدل نام ہے افراط و تفریط سے اجتناب کا،سیدھا ہونے اور سیدھا کرنے کا، افراط و تفریط سے اجتناب تب ہی ممکن ہے جب ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کلی اتباع کی جائے، اسوہ حسنہ نے اسلام کے جس ایڈیشن کو پیش کیا ہے وہ ایک مکمل ضابطۂ حیات اور زندگی کے تمام شعبوں پر محیط دین ہے، اس کا ہرگز یہ نظریہ نہیں کہ ’’قیصر کا حق قیصر کو دیا جائے اور خدا کا حق خدا کو دیا جائے‘‘، وہ تو عبادات و معاملات و اقتصادیات و معیشت و دفاع و انتظام و سیاست اور تمام شعبہ ہائے زندگی کے لیے رہنما احکامات رکھتا ہے، وہ مکمل اتباع کا مطالبہ کرتا ہے، خود سپردگی کا تقاضہ کرتا ہے، سورہ آل عمران میں واضح ارشاد ہے إن الدین عند اللہ الاسلام (۱) (ترجمہ: نظامِ حیات، اور اطاعت کے طریقۂ کار کا نام اسلام ہے)دین طریقہ روش اور نظام حیات کو کہا جاتا ہے، یعنی صرف ایک ہی ایسا نظام زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے توسط سے انسانوں کو دیا ہے وہی قابل قبول ہے، اس میں کسی کی پسند و ناپسند، کسی کے اختیار وایجاد اور کسی کے دخل کی کوئی گنجائش نہیں، اس طریقہ زندگی یعنی دین کو الاسلام سے تعیبر کیا گیا ہے، جس کی بابت دوسری جگہ یہ ارشاد فرما دیا گیا ہے کہ ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ(۲) (ترجمہ: اور جو اسلام کے علاوہ کسی مذہب اور نظام کا طلب گار ہوگا، ہرگز اسے قبول نہیں کیا جائے گا) یہ’’الاسلام‘‘ کیا ہے؟ اس کے معنی ہیں سپردگی اور تابعِ فرمان ہوجانا، جس زمانے میں انبیائے کرام جو کچھ لے کر آئے اس کے سامنے جھک جانا، آخری نبی حضرت محمد ﷺ جو آخری اور ابدی طریقہ لے کر آئے اس کو قبول کرنا، اس کا اعتراف کرنا، اس کو لازم پکڑنا اور اعمال میں اس کا اظہار کرنا، اسلام نام ہے مکمل اطاعت اور اتباع کامل کا، یہ دین اللہ کا وہ دین ہے جو طریقۂ زندگی اور معیار زندگی ہے، جو میزان عدل ہے، اسی کا نفاذ تمام کائنات میں ہوگا، تمام انبیاء و رسول جو دین لائے وہ ’’الاسلام‘‘ ہی تھا، عقائد و اصول ایک تھے البتہ شریعتوں میں وقت وحالات اور قوموں کے مزاج کے اعتبار سے اللہ نے فرق رکھا، بغض وعناد، سر کشی و شیطنت کے باعث دین کے جو بھی نام رکھ لیے گئے، یہودیت کہا گیا یا نصرانیت مگر دین جو اتارا گیا تھا وہ تو الاسلام ہی تھا، اسی کو حتمی و قطعی اور عالمی و ابدی دین کی حیثیت سے حضرت محمدﷺ پر اتارا گیا اور سب کو پھر اسی کے قبول کرنے کا پابند کر دیا گیا فرمایا گیا :            ٰٓیاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًامِّمَّاکُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْر قَدْ جَآئَ کُمْ  مِّنَ اللّٰہِ نُوْر’‘  وَّکِتٰب’‘ مُّبِیْن’‘  یَّھْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ  وَیُخْرِجُھُمْ  مِّنَ  الظُّلُمٰتِ  اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِہٖ وَیَھْدِیْھِمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۳)  (ترجمہ: اے اہل کتاب!  تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے، جو تمہیں کھول کھول کر کتابِ الہی کی بہت سی ایسی باتیں بتا رہا ہے جن کو تم چھپاتے تھے، اور بہت سی باتوں کو تو چھوڑ رہا ہے، تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشن اور واضح کتاب آگئی ہے، جس سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کے راستوں کی ہدایت ورہنمائی عطا فر رہا ہے، جو اس کی خوشنودی اور رضامندی کی باتوں کی پیروی کرتے ہیں، اور ان کو تاریکیوں سے نکال کر اپنے حکم سے روشنی میں لا رہا ہے، اور ان کو صراط مستقیم کی طرف لے جا رہا ہے، اور اس پر استقامت عطا فرما رہا ہے)۔    اور فرمایا:   ٰٓیاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْامَاجَآئَ نَا مِنْ م بَشِیْرٍ وَّلَا نَذِیْرٍ  فَقَدْ جَآئَ کُمْ بَشِیْر’‘ وَّ نَذِیْر’‘  وَاللّٰہُ  عَلٰی کُلِّ شَیْْئٍ قَدِیْر’‘(۴) (ترجمہ: اے اہل کتاب!  تمہارے پاس ہمارے پیغمبر، پیغمبروں کے ایک وقفہ کے بعد آگئے جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں، تاکہ تمہیں یہ کہنے کا موقعہ نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی (بشیر ونذیر) خوشخبری دینے اور ڈرانے والا نہیں آیا، تو (سن لوکہ ) تمہارے پاس بشیر و نذیر آگئے ہیں، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے)۔   اسی اسلام کی ترجمانی کے لیے حضرت نوحؑ کی زبان سے کہلوایا گیا   وامرت أن أکون من المسلمین (۵)  (ترجمہ: تو اس کا حکم ہے کہ میں مسلمان رہوں (اللہ کا سچا فرمانبردار رہوں)، حضرت ابراہیم سے دعا کرائی گئی کہ ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک (۶) (ترجمہ: اے ہمارے مالک ! ہم کو اپنا مکمل فرمانبردار اور مطیع بنا دے، اور ہماری اولاد میں ایک فرمانبردار اور اطاعت کرنے والی امت پیدا فرمادے۔) حضرت عیسی سے کہلوایا گیا  واشہد بانا مسلمون (۷) (ترجمہ: اور گواہ رہیے کہ ہم مسلم ہیں (اطاعت گزار اور فرمانبردار ہیں) ۔ خود حضور پاک علیہ السلام کو یہ تفصیلی  وضاحت کرانے کا حکم دیا گیا   قل ان صلاتی و نسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین لا شریک لہ وبذلک أمرت وانا اول المسلین (۸) (ترجمہ: کہہ دیجئے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لئے ہے جو سب کا مالک و پروردگار ہے ، اور جس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم فرمایا گیا ہے، اور میں (تمہارے درمیان) پہلا مسلمان ہوں) پھر یہ مطالبہ بھی بہت صراحت کے ساتھ کیا گیا   یا ایھا الذین آمنوا ادخلو فی السلم کافۃ ولا تتبعوا خطوات الشیطان (۹) (ترجمہ: اے ایمان والو!  اسلام میں مکمل طور پر (پورے اسلام میں کلی طور پر) داخل ہوجاؤ، اور شیطان کے پیچھے نہ چلو، وہ تمہارا خلا ہوا دشمن ہے)ان سب نصوص پر غور کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ اصول و عقائد میں اعتدال کی کوئی گنجائش نہیں، ان کا اعتدال یہی ہے کہ وہ افراط و تفریط سے پاک ہوں، احکامات پر عمل کی کیفیت میں افراط و تفریط سے اجتناب کو معتدل عمل اور معتدل فکر سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، لیکن ’’معتدل اسلام‘‘ کا نام دے کر اس کے نظام سے، اس کے احکام سے دامن بچانا اور پیچھا چھڑانا ممکن نہیں، سورہ آل عمران کی آیت مذکور ان الدین کے بعد والی آیت میں حضور اکرمﷺ کو مخاطب کرکے کہا گیا کہ اگر اسلام کی حقانیت کے ثابت ہوجانے اور اس کے دین بر حق ہونے کے دلائل واضح طور پر بیان کر دینے کے باوجود بھی وہ آپ ﷺ سے حیل و حجت کریں تو ان سے کہیے کہ تم مانو یا نہ مانو میں نے تو اپنا منہ اللہ کی طرف کیا، اپنا رخ اللہ کی طرف کیا، اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کردیا (۱۰)، مولانا امین احسن اصلاحی نے بڑے نکتہ کی بات فرمائی ہے اور اس آیت کی بڑی دلنشین تشریح کی ہے :’’(میں نے اپنا چہرہ اللہ کے حوالے کیا) اپنی ذات کو اللہ کے حوالے کرنے کی تعبیرہے۔ چہرہ انسان کی ذات کا سب سے اعلیٰ و اشرف حصہ ہے۔ جب سب سے اعلیٰ و اشرف حصہ حوالے کر دیا تو گویا سب کچھ حوالے کر دیا۔ یہ اسی طرح کی تعبیر ہے جس طرح ہم کسی کی اطاعت کی تعبیر کے لیے سر جھکا دینا بولتے ہیں، اس تعبیر میں غایت درجہ تذلل و نیاز مندی اور سپردگی پائی جاتی ہے، موقع دلیل ہے کہ یہاں یہ اسلوب اصلا تو اسلام لانے کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے لیکن ساتھ ہی اس سے اسلام کی اصل روح بھی واضح ہو گئی ہے تاکہ دینداری کے ان مدعیوں کو، جو اسلام کی مخالفت میں بحث و جدال کے لیے آستینیں چڑھا ئے ہوئے تھے، تنبیہ ہوکہ وہ کس چیز کے خلاف یہ زور دکھا رہے ہیں‘‘۔ (۱۱) مسلمان اگر عزت چاہتے ہیں، وقار چاہتے ہیں، فلاح ونجات دنیوی واخروی چاہتے ہیں تو ان کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ پورے خضوع و تذلل کے ساتھ اسی ’’الاسلام‘‘ کو اختیار کریں، صرف اس کے ظاہر کو نہیں بلکہ اس کے ظاہر وباطن اور اس کے مغز و روح کے ساتھ اس کو مکمل طور پر اپنائیں، اس کے لیے خود تراشیدہ بلکہ مغرب کی وضع کردہ اصطلاحات Terminalogiesکی ضرورت نہیں ہے، اس کے لئے صاحب کے ’’معتدل اسلام‘‘ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے ضرورت ہے کہ نبی ﷺ کا اسوہ حسنہ اور آپ ﷺکے صحابہ کا طریقہ اس طور پر اپنایا جائے کہ قدم قدم پر عبادت و معاملات میں ان ہی کا اسوہ اختیار کیا جائے، امن و جنگ میں ان ہی کی سیرت سے روشنی حاصل کی جائے، جرأت و غیرت، حرارت وحمیت، حکمت و مصلحت، دعوت و عزیمت، سیاست اور تفکیر و تدبیر غرض ہر پہلو سے اسی عالمی و مثالی طریقہ سے رہنمائی حاصل کی جائے جس کو ’’الاسلام‘‘ کی شکل میں اتارا گیا اور جس کی بابت یہ فرمایا گیا وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ(۱۲)(ترجمہ: اور یہ ہے میرا سیدھا راستہ، اس کی پیروی کرو) اسی کی تشریح کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر اس کے دائیں بائیں اور لائنیں کھینچی اور فرمایا یہ اور راستے ہیں، ان میں سے ہر راستے پر شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے، پھر آپﷺ نے یہ آیت وان ھذا صراطی… تلاوت فرمائی(۱۳) اب اگر اس صراط مستقیم کی اتباع کی جائے تو ’’معتدل اسلام‘‘کی ضرورت نہیں رہ جاتی بلکہ ضرورت اس کی رہ جاتی ہے کہ نبی کے اسوہ کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے ایمان و عقیدے کی اصلاح کی جائے، نبی اکرمؐ نے سب سے پہلے عقیدہ توحید کو درست کیا اور اسی کی دعوت دی، امام مالک کا یہ بہت مشہور مقولہ ہے لا یصلح آخر ھذہ الامۃ الا بما صلح علیہ اولھا، توحید پر ایمان پختہ ہوگیا تو پھر اخلاقی، اقتصادی، تجارتی سیاسی، اجتماعی اور معاشرتی اصلاح خود بخود ہوتی گئی اور کہیں کوئی دشواری ہی پیش نہیں کرتی، افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ کہ جس ملک کو لوگ ’’مملکت توحید‘‘ کہتے ہیں اسی ملک میں اسلام کے حصے بخرے کیے جا رہے ہیں، وہاں الفاظ کی دھاندلی چل رہی ہے، وہاں سے فکر اسلامی کو نکالا جا رہا ہے، اگر مملکت توحید کے فرمانروا نے توحید کا مکمل سبق پڑھا ہے تو پھر نظم و نسق میں، انتظام مملکت میں، نفاذ شریعت میں، سیاسیت خارجہ وداخلہ میں، دفاعی اقدامات میں، اعداد قوت میں، تجارت و معیشت میں، بینکوں کے نظام میں توحید کے تقاضے اور توحید کے مظاہر کیوں نہیں، پھر اپنا سر اور اپنی دستار امریکہ و اسرائیل کے قدموں میں کیوں رکھ دی، ملمع سازی ہے، کلمہ حق سے باطل مقاصد حل کیے جا رہے ہیں، مگر یہ ایسا نخل تمنا ہے جس کا سوکھ جانا یقینی ہے یہ ایسی آرزو ہے جس کا مکمل نہ ہونا قدرت الہی کی طرف سے طے شدہ ہے۔           محمد بن سلمان کی زبان سے ’’معتدل اسلام‘‘ کی اصطلاح نکلی تو محسوس ہوا کہ اب تو صاحب کے منہ میں زبان بھی امریکہ کی رکھ دی گئی ہے، کیوں کہ اس اصطلاح کا استعمال امریکہ ہی کی جانب سے سب سے پہلے کیا گیا، جب روس اور اسکے سوشلزم و کمیونزم کی بساط لپیٹ دی گئی،عالمی قیادت امریکہ بہادر کے ہاتھ آئی جو کہ کیپٹلزم Capitalismکا نمائندہ تھا، تو اس نے اسلام کو اپنا حریف بنایا، اسلام سے خطرہ کا اظہار کیا جانے لگا، مغرب سے متعدد آوازیں اٹھنے لگیں، امریکہ جانتا تھا کہ اس کی تہذیب اور اس کا نظریہ کیپٹلزم اسلام کا کسی سطح پر حتی کہ فکری سطح پر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، محمد بن سلمان نے اپنے بیان میں ذکر کیا ہے کہ ۱۹۷۹ء میں الصحوۃ الاسلامیہ کی تحریک شروع ہوئی اور ہمیں اس سے پہلے والی حالت میں واپس جانا ہے، گویا اصل عداوت الصحوۃ سے ہوئی، عالم عربی اور عالم اسلامی کا یہ وہ زمانہ تھا جب امت نے انگڑائی لی تھی، بیداری کی مہم مختلف حیثیتوں سے اٹھی تھی حتی کہ کچھ سالوں کے بعد سوویت یونین کا غرور افغانستان کی خاک میں دفن ہوگیا تھا، امریکہ بلکہ پورے مغرب کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ کہیں حکومت، ریاست، زندگی اور معاشرے میں اسلام کی حکمرانی واپس نہ آجائے، کیوں کہ مختلف تحریکات کی کوششوں کے نتیجہ میں امت میں یہ شعور پیدا ہونے لگا تھا کہ اس کی کامیابی و کامرانی کا راز ’’الاسلام‘‘ کی اتباع کامل میں ہے، اس کو یہ بات سمجھ میں آنے لگی تھی کہ عالم اسلامی بلکہ عالم انسانیت کی نجات وکامرانی کا واحد راستہ اسلام کی طرف رجوع، اس کو زندگیوں میں اتارنے اور حکومت وریاست پر اس کو نافذ و منطبق کرنے میں ہے، امریکہ نے اپنے دفاع و تحفظ کا جو راستہ اختیار کیا وہ وہی تھا جس کی بنیاد پہلے سے انگریز ڈال چکے تھے، چنانچہ اس نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کی مہم کے لیے استعمال کیا، یہی نہیں بلکہ اسلام کو متہم کرنے کے لئے بھی مسلمانوں کا استعمال کیا، چانچہ اصولی اسلام،اسلامی دہشت گردی، متشدد اسلام، جمہوری اسلام، وہابی اسلام، صوفی اسلام جیسی باطل و بے بنیاد اصطلاحات کو رواج دیا گیا، خاص طور پر الاصولیۃ الإسلامیۃ،(Islamic fundamentalism)  الاسلام المتطرف اور الارھاب الاسلامی کا اس کثرت سے استعمال کیا گیا کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ اسلام میں دہشت گردی بھی کوئی چیز ہے، نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ آپس ہی میں بر سرِ بیکار ہو گئے، الزامات ودفاع کا دور چلا، امریکہ بہادر کسی کا حلیف اور کسی کا حریف بنا، اس کے استحکام کو ہی نہیں اس کی سر براہی و سرداری کو استحکام ملا، الاصولیۃ الاسلامیۃ Islamic Fundamentalismسے مغرب کو ویسے ہی خطرہ محسوس ہونے لگا جیسے کبھی اس کو کمیونزم سے خطرہ محسوس ہوتا تھا، اسرائیل و امریکہ اسکو خطرہ باور کرانے میں پیش پیش رہے، ان کے رہنماؤں کے سینکڑوں بیانات تاریخ نے ریکارڈ کیے ہیں جن میں انھوں نے ’’اصولی اسلام‘‘ کو دنیا کا سب سے بڑا خطرہ شمار کیا ، بعد میں اس کو ’’ارہابی اسلام‘‘ سے بھی تعبیر کیا گیا، ہم یہاں ان کے بیانات نقل کرنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ الاصولیۃ الاسلامیۃ ہے کیا؟ اس کو ایک یہودی نے وباقرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ صرف یہودیت کے لیے نہیں بلکہ پوری بشریت کے لئے خطرہ ہے، آگے چل کر اسی کو اسلاموفوبیا سے جوڑ کر باعمل مسلمانوں کے خلاف ایک الگ ہی مہم چلائی گئی، اصولیہ کی جو بھی تعریفات کی گئی ہیں ان سے قطع نظر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب نے رفتہ رفتہ اسلام کی صحیح اور مکمل فکر اور اس کے جامع تصور کو ہی انتہا پسندی، اصولیت ، تشدد اور دہشت گردی سے تعبیر کر دیا، اگر قرآن پڑھا جائے، کلمہ کا ورد کیا جائے، نماز پڑھی جائے روزہ رکھا جائے تو اسے کوئی پریشانی نہیں بلکہ کٹر سے کٹر دشمن افطار پارٹی دینے کو تیار رہتا ہے، البتہ اگر اسلامی نظام کی بات کی جائے، اسلام کے طریقہ حکومت و سیاست، اسلام کے طریقہ تجارت و معیشت و معاشرت کی بات کی جائے، اسلامی تربیت کی بات کی جائے تو مغرب چیں بہ جبیں ہوجاتا ہے، وہ اسلامک اسٹڈیز کے بڑے بڑے سینٹر تو کھول سکتا ہے، انھیں امداد فراہم کر سکتا ہے، مگر اسلامی فکر و تربیت کے لیے قائم ایک چھوٹے سے مدرسہ کو دہشت گردی کا اڈاہ اقرار دینے میں دیر نہیں کرتا، اس کو اسلام کا وہ نمائندہ پسند ہے جس کے ذہن سے دین کا تصورِ کامل محو ہو چکا ہو، وہ صرف اس کے حصہ عبادات کی رٹ لگاتا ہو، اخلاقیات، معاملات و سماجیات سے آنکھیں چراتا ہو، اسلام کے اسی جامع و کامل تصورجو خود ’’الاسلام‘‘ سے عبارت ہے۔ متشدد اسلام اور اصولی اسلام کا نام دیا گیا، معروف سیاسی مفکر ڈینیل پائپس (Daniel Pipes) نے کہا تھا کہ ’’تشدد پسند اسلام ایک مشکل ہے اور اس کا حل معتدل اسلام ہے۔ Radical Islam is the problem and Moderate Islam is the solution(۱۴) قارئین بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ معتدل اسلام کے ڈانڈے کہاں سے ملتے ہیں اور شاہ صاحب سعودیہ میں اسلام کا کون سا ماڈریٹ ورزن پیش کرنا چاہتے ہیں، وہ اسلام کا ایسا ایڈیشن ہوگا جس میں نماز اللہ کے لیے پڑھی جائے گی، معاشرت کھلے عام امریکی طرز کی ہوگی حکومت طاغوتی ہوگی، کتاب و سنت کے احکام کو پس پشت ڈال دیا جائے گا، ان ہی مقاصد کے حل کے لیے مجمع الملک سلمان للحدیث قائم کر دیا گیا، معتدل فکر کی ترویج اور وہاں موجود کتب و عناصر اور شخصیات کی تنقیح کے لیے ریاض میں دفتر پہلے ہی قائم ہو چکا ہے۔            مجلۃ الزیتونہ کے ایک مضمون نگار یاسین بن علی نے انسائیکلو پیڈیا آف اسپیکٹرم سے اصولیہ اسلامیہ کی تعریف نقل کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک ایسی جامع اصطلاح ہے جو متعدد ایسی جماعتوں پر منطبق ہوتی ہے جو اسلام کو ایک سیاسی ہتھیار سمجھتی ہیں، جو اسلامی ریاست کا قیام چاہتی ہیں، جو ملکوں کے نظام میں شریعت کا مکمل نفاذ چاہتی ہیں‘‘۔(۱۵) شمعون پیرز نے شیوعیت (Communism)کے خاتمہ کے بعد اصولیت (Fundamentalism) کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا(۱۶)، ۹/۱۱ کے واقعہ کو اسی فکر سے جوڑ دیا گیا پھر عالمی منظر نامہ پر جو ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوئیں ان پر نظر ڈالیے تو اندازہ ہوگا کہ اسلام کی بیخ کنی کے لیے امریکہ نے کس کس طرح کے حربے استعمال کیے، امریکہ نے در اصل ۲۰۰۱ء میں ’’معتدل اسلام‘‘ کو فروغ دینے کے لئے ایک مکمل اور باضابطہ مہم شروع کی تھی اور اس کا مکمل خُطہ تیار کیا تھا۔ اس خُطہ پر مکمل طریقہ سے عمل کرنے کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ مسلمانوں کو آپس میں تردید و دفاع کے ذریعہ فروعی مسائل میں اس طرح الجھا کر رکھا جائے کہ بنیادی اور ضروری مسائل سے وہ غافل رہیں، اس کے لیے ایک طرف تو سعودیہ نے اس کے خاکے میں رنگ بھرنے کی اس کی خواہش پوری کی، اس نے ایسے متشدد گروہ کو ریال کی مدد سے تیار کیا جس نے تکفیر کی مہم چھیڑ دی اور گاؤں گاؤں، مسجد مسجداکھاڑہ بنا دیا، دوسری طرف خود امریکہ نے گزشتہ پندرہ-بیس سالوں میں ایسے لوگوں کی ایک کھیپ تیار کی جو امت میں تشکیکی مزاج کی تشکیل کریں، اس سلسلہ میں اس نے دوسرا اہم اقدام یہ کیا کہ اسلام کے سیاسی نظام کو خطرہ باور کرنے کے لئے مغرب کی رائے عامہ ہموار کی، اس نے اس کو ’’سیاسی اسلام‘‘ قرار دے کر پروپیگنڈہ مہم چھیڑی، اس کی بیخ کنی پر سب کو متفق کیا اور یہ طے کیا کہ جو اسلامی سیاست کا داعی ہو اس کے خلاف جنگ واجب ہے، تیسر ابڑا کام امریکہ نے یہ کیا کہ وسطیت و اعتدال کا نعرہ دیا اور اسکے لیے ایسے لوگوں کو استعمال کیا جو وسطیت و اعتدال کا نام لے کر ایک نئے اسلام کی تشکیل کریں، اس لیے کہ جس وسطیت و اعتدال کی تعلیم قرآن مجید نے دی ہے وہ عدل وقسط پر قائم ہے، اسی کے سبب اس امت کو شہادت علی الحق کے منصب پر فائز کیا گیا ہے، وسطیت و اعتدال کا ہر گز وہ مطلب نہیں جو امریکہ اور اس کے حلیف سمجھتے اور بیان کرتے ہیں کہ اسلام کے احکامات سے دست بردار ہوا جائے، حق کو حق نہ کہا جائے اور باطل کو باطل نہ قراردیا جائے، احقاق حق اور ابطال باطل سے قرآن مجید بھرا ہوا ہے، قرآن مجید میں یقینا اس امت کو امت وسط قرار دیا گیا ہے اس کی بھی غلط تشریح کی جاتی ہے، ارشاد الہی ہے : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ  اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ  عَلَی النَّاسِ  وَیَکُوْنَ  الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا  وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ  الَّتِیْ کُنْتَ  عَلَیْھَآ  اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ  یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ  وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ  وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ  اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْف’‘ الرَّحِیْم’‘ (۱۷) (ترجمہ: ہم نے اسی طرح (اے مسلمانو!) تم کو درمیانی اور افضل امت بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں کے سامنے (حق کے) گواہ رہو اور پیغمبر تمہارے سامنے حق کے گواہ رہیں۔ جو قبلہ ہم نے (پہلے ) مقرر کیا تھا، اور تم اس کی طرف رخ کر رہے تھے، اس کا مقصد یہ تھا کہ دیکھیں کون پیغمبر کی پیروی کرتا ہے اور کون ارتداد کا شکار ہوتا ہے، یہ تبدیلی بڑی گراں بار تھی، لیکن جن کو اللہ نے ہدایت سے نواز رکھا ہے، ان کے لئے نہیں، اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں فرماتا، اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ بہت شفقت فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے)۔ مولانا مودودیؒ اس موقع پر رقم طراز ہیں:           ’’امت وسط کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی دوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا، اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہو اور ناحق، وناروا تعلق کسی سے نہ ہو، پھریہ جو فرمایا کہ تمہیں امت وسط اس لئے بنایا گیا ہے کہ ’’تم لوگوں پر گواہ ہو اور سول تم پر گواہ ہوں، تو اس سے مراد یہ ہے کہ آخر میں جب پوری نوع انسانی کا اکٹھا حساب لیا جائے گا، اس وقت رسول ہمارے ذمہ دار اور نمائندے کی حیثیت سے تم پر گواہی دے گا، فکر صحیح اور عمل صالح اور نظام عدل کی جو تعلیم ہم نے اسے دی تھی، وہ اس نے تم کو بے کم وکاست پوری کی پوری پہنچادی اور عملا اس کے مطابق کام کرکے دکھا دیا، اس کے بعد رسول کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تم کو عام انسانوں پر گواہ کی حیثیت سے اٹھنا ہوگا اور یہ شہادت دینی ہوگی کہ رسول نے جو کچھ تمہیں پہنچایا تھا، وہ تم نے انہیں پہنچانے میں ، اور جو کچھ رسول نے تمہیں دکھایا تھا وہ تم نے انہیں دکھانے میں، اپنی حد تک کوئی کوتاہی نہیںکی‘‘۔ (۱۸) مولانا سید سلمان حسینی اسی عبارت کے ضمن میں لکھتے ہیں:        ’’لیکن حق کی گواہی پہلے دنیا میں فرض کی گئی ہے، نبی اپنے مخاطبین کے سامنے حق کے گواہ ہیں، اور امت  پوری انسانیت کے لیے حق کی گواہ ہے‘‘ (۱۹)۔  مولانا امین احسن اصلاحیؒ لکھتے ہیں:      ’’وسط لفظ ولد کی طرح مذکر اور مونث، واحد اور جمع سب کے لیے آتا ہے، اس کے معنی ہیں وہ شے جو دو طرفوں کے درمیان بالکل وسط میں ہو، یہیں سے اس کے اندر بہتر ہونے کا مفہوم پیدا ہوگیا اس لیے کہ جو شے دو کناروں کے درمیان ہوگی وہ نقطۂ توسط و اعتدال پر ہوگی اور یہ اس کے بہتر ہونے کی ایک فطری دلیل ہے۔ امت مسلمہ کو امت وسط کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ امت ٹھیک ٹھیک دین کی اس بیچ شاہراہ پر قائم ہے جو اللہ تعالیٰ نے خلق کی رہنمائی کے لیے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے کھولی ہے اور جو ابتدا سے ہدایت کی اصلی شاہراہ ہے۔ یہود ونصاری اللہ کے نبیوں میں تفریق کرکے اس شاہراہ سے ہٹ گئے اور انھوں نے یہودیت و نصرانیت کی پگ ڈنڈیاں نکال لیں‘‘۔ (۲۰)            ’’دین کے معاملہ میں امت مسلمہ کی یہی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے قرآن میں دوسری جگہ اس امت کو خیر امت (بہترین امت) کہا گیا ہے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ جو چیز ٹھیک نقطۂ اعتدال و توسط پر ہوگی وہ لازما بہترین بھی ہوگی۔ یہ امت چونکہ امتِ وسط ہے اس وجہ سے یہ خیر امت بھی ہے‘‘۔ (۲۱)            آیت کے اگلے ٹکڑے لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا۔  میں امت وسط کے قیام کی ضرورت کا اعلان کیا گیا ہے، اور اس کو اس کے فریضۂ منصبی کی تلقین ویاد دہانی کرائی گئی ہے، جس طرح حق کی گواہی رسولؐ کے ذمہ رکھی گئی تھی اسی طرح رسولؐ کے بعد یہ ذمہ داری امت کو دی گئی، اب یہ امت محمدیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر زمانے میں ہر قوم کے سامنے ہر زبان میں لوگوں کے سامنے اللہ کے دین کی گواہی دے، اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو لوگوں کی گمراہی میں وہ بھی برابر کی شریک سمجھی جائے گی چہ جائے کہ وہ خود گمراہی کے راستہ پر پڑ جائے اور دین حق کی گواہی کے بجائے اس میں کتربیونت کا ارتکاب کرنے لگے۔            حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں آنحضرت ﷺ نے وسط کی تفسیر عدل سے فرمائی ہے، جس کے معنی عمدہ اور بہترین کے ہوتے ہیں، وسط بمعنیٰ اوسط بھی استعمال ہوتا ہے جو خیر الامور اور افضل کو کہا جاتا ہے، قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی امت محمدیہ کو خیر امت اور افضل امت اس طرح قرار دیا گیا ہے۔وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّۃ’‘ یَّھْدُوْنَ  بِالْحَقِّ  وَبِہٖ   یَعْدِلُوْن(۲۲) (ترجمہ: ہم نے پیدا کیا ہے ان میں ایسے بہت سے لوگ ہیں، جو حق کے ذریعہ رہنمائی کرتے ہیں، اور حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں)            اورفرمایا:  کُنْتُمْ  خَیْرَ اُمَّۃٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ  وَتُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰہِ  وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْکِتٰبِ  لَکَانَ  خَیْرًا لَّھُمْ مِنْھُمُ  الْمُؤْمِنُوْنَ  وَاَکْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ (۲۳) (ترجمہ: تم بہترین امت ہو، تمام انسانوں کے لئے اس امت کو برپا کیا گیا ہے، تمہیں بھلائیوں کا حکم دینا ہے، برائیوں سے روکنا ہے، اور اللہ پر ایمان رکھنا ہے، اہل کتاب بھی ایمان لے آئیں، تو ان کے حق میں بہتر ہوگا، ان میں ایمان والے ہیں، لیکن ان کی اکثریت معصیت پیشہ ہے)۔           امت محمدیہ کو اس حیثیت سے ایک معتدل امت بنایا گیا ہے اور اس میں ہر قسم کا جسمانی اخلاقی، روحانی اعتدال رکھا گیا ہے، وہ نہ عقیدے میں دوسروں کی طرح افراط و تفریط کا شکار ہے اور نہ عبادت وعمل میں، اس کو معاشرت و تمدن اور اقتصاد میں بھی درمیانی راہ اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے جو اس کے کمال کی علامت ہے، پھر اسی نظام عدل کو پوری دنیا میں قائم کرنے کی اس کو ذمہ داری دی گئی ہے۔            مفتی محمد شفیع صاحبؒ لکھتے ہیں:   ’’اعتدال کے لفظی معنی برابر ہونا، یہ لفظ عدل سے مشتق ہے، اس کے معنی برابر کرنے کے بھی ہیں، وصف اعتدال کی یہ اہمیت کہ اس کو انسانی شرف و فضیلت کا معیار قرار دیا گیا …اس بیان سے آپ نے یہ بھی معلوم کر لیا ہوگا کہ امتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کی جو فضیلت آیت مذکور میں بتلائی گئی، وکذلک جعلنٰکم امۃ وسطًا، یعنی ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا ہے، یہ بولنے اور لکھنے میں تو ایک لفظ ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے کسی قوم  یا شخص میں جتنے کمالات اس دنیا میں ہو سکتے ہیں ان سب کے لئے حاوی اور جامع ہے۔ اس میں امتِ محمدیہ کو امت وسط یعنی معتدل امت فرماکر یہ بتلا دیا کہ انسان کا جوہرِ شرافت و فضیلت ان میں بدرجہ کمال موجود ہے، اور جس غرض کے لئے یہ آسمان و زمین کا سارا نظام ہے، اور جس کے لئے ابنیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابیں بھیجی گئی ہیں، یہ امت اس میں ساری امتوں سے ممتاز اور افضل ہے… اس میں امت محمدیہ کے اعتدالِ روحانی و اخلاقی کو واضح فرمایا ہے، کہ وہ اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کو چھوڑ کر آسمانی ہدایت کے مطابق خود بھی چلتے ہیں، اور دوسروں کو بھی چلانے کی کوشش کرتے ہیں، اور کسی معاملہ میں نزاع و اختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی اسی بے لاگ آسمانی قانون کے ذریعہ کرتے ہیں، جس میں کسی قوم یا شخص کے مفاد کا کوئی خطرہ نہیں‘‘۔ (۲۴)           در اصل یہ سارا ڈرامہ روح اسلام کو کمزور کرنے اور اس کی اس طاقت کو زیر کرنے کے لیے ہے جس کی ابتدا صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد مغرب نے کی تھی اور جس کے سبب استشراق کا سارا لٹریچر وجود میں آیا اور پھر خود مسلمانوں میں مستشرقین صفت لوگ پیدا ہوگئے، عہد حاضر میں امریکہ نے اپنے مخابراتی نظام کو اس کے لیے استعمال کیا، اس کے ذریعہ حکومتوں کا کنٹرول حاصل کیا گیا، اداروں کی سوچ بدلی گئی، علماء خریدے گئے، دانشوروں کی ٹیم تیار کی گئی، ان کے ذریعہ امریکی ’’معتدل اسلام‘‘ کی تشہیر کرائی گئی، اسلام سے مغرب کو جو خطرہ اور جو نفرت ہے وہ نئی نہیں خلافت عثمانیہ کے دور میں عثمانیوں نے جس طرح عیسائیوں کی مدد کی، ان کو عزت دی، مراعات عطا کیں اور خود عیسائی حکومتوں نے خلافت عثمانیہ کی اطاعت قبول کرکے یا اس کا حلیف بن کر جو سکون محسوس کیا وہ اپنی مثال آپ ہے، اس کے باوجود یورپ خلافت عثمانیہ کو کبھی برداشت نہیں کر سکا، اس کے خلاف ہمیشہ ریشہ دوانیاں اور ہرزہ سرائیاں جاری رہیں، اس کو ختم کرنے کے لئے آپس میں لڑنے والے سارے دشمن ایک ہوگئے، بیسویں صدی کے ربع اول میں اس کے حصے بخرے کر دیے گئے، خلافت کو اس طرح ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا کہ پھر کبھی مسلمانوں میں اتحاد کی سبیل پیدا نہ ہو سکے، پٹرول کی دریافت کے بعد دولت کے پیش نظر آپس میں ان جاگیرداروں کو اس طرح باہم دست و گریباں کر دیا گیا کہ وہ کبھی بھی متحد ہوکر اس دولت کے اصل دشمن کے خلاف اس کے استعمال کا تصور بھی نہ کر سکیں، پٹرول پر ظاہری قبضہ تو ان ممالک کا تھا ہی، مگر اب قصہ کچھ اور ہوگا جبکہ اس اقدام کا اعلان کیا گیا ہے کہ اب معیشت کا انحصار پٹرول پر نہیں ہوگا، ظاہر ہے کہ اب دروازے چوپٹ کھلیں گے اور وہ سب کچھ ملک میں لایا جائے گا جس سے تہذیب اسلامی تباہ ہوگی مگر اسی کی تباہی پر معیشت کا انحصار ہوگا، اس طرح اسلامی نظام کی مکمل طور پر بیخ کنی کی گئی اور اس کی تکمیل اب مملکت توحید کے ذریعہ کی جا رہی ہے، جس طرح وسطیت و اعتدال کا نعرہ لگانے والے تیار کیے گئے اسی طرح جنگجو، متطرفین تیار کیے گئے، تشدد سے بھر پور، جذبات کو بھڑکانے والی ویڈیوز تیار کرنے والے ادارے تیار کیے گئے، چند سال قبل جب تیونس سے پھر انقلاب کی لہر اٹھی جو دیگر ممالک تک پہنچی اور جس کے پس پشت اقتدار اسلام پسندوں کے ہاتھ میں جاتا نظر آیا تو ظالموں نے اس کو اغوا کر لیا، پر امن انقلابی تحریکوں کی آڑ میں اپنے گماشتے اور ٹولے داخل کر دیے، قتل و غارت گری کی ایک نئی داستان رقم کی گئی اور دنیا کو یہ باور کرایا گیا کہ اسلام میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں، اسلام کا سیاسی نظام اس قابل نہیں کہ اسکو نافذ کیا جائے، جب بھی اس نظام کی بات کی جاتی ہے تو اسی طرح کے قتل و خون کی نوبت آتی ہے جس طرح ان ممالک میں اس وقت ہو رہا ہے، اس پوری صورت حال کو اور ’’متطرف اسلام‘‘ و ’’معتدل اسلام‘‘ کو سید قطب رحمۃ اللہ علیہ کی اس عبارت سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے، انھوں نے بہت مختصر الفاظ میں امریکہ کی پسند و ناپسندکو بیان کر دیا اور یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کے نزدیک تشدد،د ہشت اور انتہا پسندی کا معیار کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:      ’’امریکہ اور اس کے حلیف مشرق وسطیٰ میں جس اسلام کے نفاذ کے خواہاں ہیں اس اسلام میں وہ طاقت نہیں جو استعمار کا مقابلہ کر سکے، جو سر کشی کی سرکوبی کر سکے، امریکی ایڈیشن والے اس اسلام میں نواقض وضو کے متعلق تو فتوی معلوم کیا جائے گا، لیکن مسلمانوںکےسیاسی احوال،اقتصادی، اجتماعی اور مالی ضوابط سے متعلق اس اسلام میں فتوے کی کوئی گنجائش نہیں، یہ اسلام کے ساتھ ایک مذاق ہی نہیں ایک المیہ بھی ہے‘‘۔ (۲۵)            بعض رپورٹوں کے مطابق امریکہ نے اسلام کی صحیح تصویر کو مسخ کرنے کے لئے اور متطرف و غیر متطرف اسلام کی تعریف و تشریح کو عام کرنے کے لئے ملینوں ڈالر خرچ کیے ہیں، اب تو اس نے صاحب کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں امریکہ کے ’’معتدل اسلام‘‘ کی تشریح بھی وہی کر رہے ہیں، اموال بھی فراہم کر رہے ہیں، ٹرمپ کو ملت کی طرف سے جزیہ بھی دے رہے ہیں اور اپنوں کو عدم اطاعت کے نتیجہ میں ظلم کا مزہ بھی چکھا رہے ہیں، حالیہ کارروائیوں سے ان کی خاندانی اور اندرونی کشمکش کا پردہ بھی فاش ہو گیا ہے، یہ واضح ہوگیا ہے کہ کچھ لوگ ان کے ’’معتدل اسلام‘‘ کے نفاذ کی راہ میں بہرحال رکاوٹ بن رہے ہیں،اگر چہ اصل مسئلہ اقتدار کا ہے، سننے اور بولنے میں یہ لفظ اور یہ اصطلاح بہت بھلی معلوم ہوتی ہے لیکن ذرا گہرائی سے دیکھیے تو یہ دین بیزار، دین کی تقسیم، دین کو چھوڑنے، من پسند دین کو تشکیل دینے اور اسلامی نظام سے دست بردار کرنے کے لئے وضع کی گئی ایک پر فریب اصطلاح ہے، ذرا اور گہرائی میں جانے سے بخوبی اندازہ ہوجائے گاکہ اللہ تعالیٰ کے ’’الاسلام‘‘ کے بالمقابل جتنے قسم کے بھی اسلام ہیں وہ امریکی فریب اور مغربی فلفسہ ہیں ان کا راست فکر اسلامی سے اسی طرح دور دور کا کوئی واسطہ نہیں جس طرح ناحق قتل و غارت گری اور بے جا تشدد کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔            اللہ تعالیٰ کے ’’اسلام‘‘ کو نہ ’’متطرف‘‘ سے متصف کیا جا سکتاہے نہ ’’معتدل‘‘ سے، وہ تو دین فطرت ہے، فطرت اور عدل و قسط کے عین مطابق اس کو انسانوں کے لئے نعمت و رحمت بناکراتارا گیا ہے، اس میں کسی طرح کا نقص نہیں رکھا گیا اور نہ اس کو کسی طرح کی اصلاح کی ضرورت ہے، ارشاد ربانی ہے:            اَلْیَوْمَ   اَکْمَلْتُ   لَکُمْ   دِیْنَکُمْ  وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ  دِیْنًا  فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَمُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْر’‘  رَّحِیْم’‘ (۲۶)(ترجمہ: آج میں نے تمہاری خاطر تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، اور اپنے انعامات (اپنا واضح قانون دے کر) تم پر تمام کر دیے ہیں، اور اسلام کو بحیثیت دین پسند کر لیا ہے(پسند تو ازل سے تھا، اس کا آج آخری اظہار و اعلان کیا جا رہا ہے)۔            وہ ’’الدین القیم‘‘ ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ اس میں کسی قسم کی کجی کوئی نقص اور کسی طرح کا ٹیڑھ پن نہیں ہے، اس کی شریعت نفاذ کے لئے آئی ہے، وہ عمل کے لئے دی گئی ہے، اس کے بارے میں مطالبہ ہے کہ اسی پر عمل کیاجائے، اس کے بالمقابل کسی کی خواہشات قابل عمل نہیں، ارشاد ہے۔            ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی  شَرِیْعَۃٍ   مِّنَ  الْاَمْرِ  فَاتَّبِعْھَا  وَلَا تَتَّبِعْ  اَھْوَآئَ  الَّذِیْنَ  لَا یَعْلَمُوْن  (۲۷) (ترجمہ: پھر ہم نے آپ کو دین اور عبدیت کے نظام کو پورا ضابطہ اور قانون عطا کیا، آپ پر ذمہ داری ہے کہ اسی کی پیروی کریں، اور صحیح علم نہ رکھنے والوں کی خواہشات، رجحانات اور من مانی رایوں کو اختیار نہ کریں)۔            صر ف اللہ کو رب مان لینا کافی نہیں بلکہ اس کو رب تسلیم کرکے اس پر جمنا ضروری ہے، فرمایا گیا ہے اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَااللّٰہُ  ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ  عَلَیْھِمُ  الْمَلٰٓئِکَۃُ  اَلَّا  تَخَافُوْا  وَلَا  تَحْزَنُوْا   وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ  الَّتِیْ کُنْتُمْ  تُوْعَدُوْنَ (۲۸) ( ترجمہ: جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، مالک و خالق اللہ ہے) اور پھر اس پر انہوں نے استقامت اختیار کی (حق پر مضبوطی سے جمے رہے) ان پر فرشتے نازل ہوں گے، جو ان سے کہیں گے کہ مت ڈرنا اور مت رنجیدہ ہونا، اور جنت کی خوشخبری قبول کرو، جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا تھا)۔            اس ’’استقاموا‘‘ کا مطلب بیان کرتے ہوئے امام ماوردی نے استقامت کے پانچ مناہج یا پانچ صورتیں نقل کی ہیں جو درحقیقت سبھی مطلوب و مقصود ہیں اور ان ہی سے الاسلام کا تصور مکمل ہوتا ہے، حضرت ابو بکرؓ اور امام مجاہد کے مطابق اس سے رب کی وحدانیت پر استقامت اختیار کرنا مراد ہے، ابن عباسؓ، حسن اور قتادہ کے نزدیک اللہ کی اطاعت اور فرائض کی ادائیگی پر جم جانا، ابو العالیہ اور سدی کے مطابق دین خالص کو اختیار کرنے اور تا موت عمل کرنے پر جم جانا مراد ہے، جبکہ چوتھی شکل استقامت کی یہ ہے کہ وہ اپنے افعال میں بھی اسی استقامت کا مظاہرہ کرنے لگے جس استقامت کا اظہار اقوال میں کرتا ہے، پانچویں صورت یہ ہے کہ جس طرح علانیہ استقامت کا اظہار کیا جائے اسی طرح خلوتوں میں بھی استقامت کو لازم پکڑا جائے،(۲۹) سوال یہ ہے کہ جس ایمان پر استقامت کی تعلیم دی جا رہی ہے اور جس استقامت کو یہاں مقام مدح میں ذکر کیا جا رہا ہے اس سے اس ’’معتدل اسلام‘‘ کی فکر کہاں ظاہر ہو رہی ہے جس کے ’’صاحب داعی‘‘ ہیں۔            جس دین پر استقامت کا حکم دیا گیا تھا اور جس کے متعلق یہاں تک فرمایا گیا تھا کہ اگر موسیؑ ہوتے تو وہ بھی میری اتباع کرتے اس میں صاحب کے ’’معتدل اسلام‘‘ کی گنجائش کہاں،حضورﷺ کا یہ ارشاد گرامی دیکھیے:            عن جابر عن النبی حین آتاہ عمر فقال: انا نسمع احادیث من یھود تعجبنا افتری ان نکتب بعضھا؟ فقاال امتھوکون انتم کما تھوکت الیھود والنصاری؟ لقد جئتکم بھا بیضاء نقیۃ ولو کان موسی حیا ما وسعہ الا اتباعی۔حضرت جابرؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے تقل کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم لوگ یہودیوں سے احادیث سنتے ہیں اور وہ ہمیں اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ کیا آپ ﷺ ہمیں اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ہم ان میں سے بعض کو لکھ لیا کریں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم بھی اس طرح حیران ہو جس طرح یہود و نصاری حیران ہیں اور تم اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ میں تمہارے پاس صاف اور واضح شریعت اور دین لے کر آیا ہوں۔ اگر حضرت موسیٰ ؑ بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی میری ہی اتباع اور پیروی کرتے۔ (۳۰)    آج موسیٰ علیہ السلام کی طرف نسبت کرنے والے منحرف یہودیوں کے مشوروں پر مسلمان اور مسلمانوں کے ٹھیکیدار عمل پیرا ہیں، توحید اور قرآن و سنت کے نام پر عجیب مذاق کیا جا رہا ہے، نہ قرآن کے فیصلے نافذ ہو رہے ہیں، نہ قرآن کو حکم بنایا جا رہا ہے، نہ قرآن کی معاشرت اختیار کی جارہی ہے، نہ حکومت کو قرآن و سنت کے تابع کیا جا رہا ہے، بلکہ ان کے مشورے پر دامن بچانے کو ’’معتدل اسلام‘‘ کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے، جن یہودیوں کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ’’مملکت توحید کا شہزادہ‘‘ لگا ہوا ہے ان ہی یہودیوں کو موضوع بنا کر قرآن مجید نے مسلمانوں کو انتہائی سخت الفاظ مین متنبہ کیا تھا:            اِنَّآاَنْزَلْنَا التَّوْرٰئۃَ  فِیْھَا ھُدًی وَّنُوْر’‘  یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ  اَسْلَمُوْا  لِلَّذِیْنَ  ھَادُوْا وَالرَّبّٰنِیُّوْنَ  وَالْاَحْبَارُ  بِمَا  اسْتُحْفِظُوْا  مِنْ کِتٰبِ  اللّٰہِ وَکَانُوْا  عَلَیْہِ   شُہَدَآئَ   فَلاَ  تَخْشَوُا النَّاسَ  وَاخْشَوْنِ  وَلَا  تَشْتَرُوْا  بِاٰیٰتِیْ  ثَمَنًا  قَلِیْلاً  وَمَنْ لَّمْ  یَحْکُمْ  بِمَآ  اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ  الْکٰفِرُوْنَ۔  وَ کَتَبْنَا  عَلَیْھِمْ  فِیْھَآ  اَنَّ  النَّفْسَ بِالنَّفْسِ  وَالْعَیْنَ  بِالْعَیْنِ  وَالْاَنْفَ  بِالْاَنْفِ  وَالْاُذُنَ  بِالْاُذُنِ  وَالسِّنَّ  بِالسِّنِّ  وَالْجُرُوْحَ  قِصَاص’‘  فَمَنْ تَصَدَّقَ  بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃ’‘  لَّہٗ   وَمَنْ  لَّمْ  یَحْکُمْ  بِمَآ  اَنْزَلَ  اللّٰہُ  فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔   وَلْیَحْکُمْ  اَھْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ  وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ ب<

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh