logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

نربھیا کو تین طلاق

Sat 16 Dec 2017, 16:16:16

16 دسمبر2012 ہندوستان کی تاریخ کا وہ منحوس دن ہے جب دارالخلافہ دہلی کے اندر  نربھیا کے ساتھ ہونے والے ظلم نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس موقع پرنربھیا کو خراج عقیدت پیش کرنے کےبجائے  اس کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے مرکزی حکومت نے  15 دسمبر کو تین طلاق کے قانونی مسودے  کو کابینہ میں منظور کرلیا۔ اس طرح لوگ نربھیا کو بھول کر تین طلاق میں الجھ گئےاس کو کہتے ہیں مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ۔ انتخاب سے قبل ایک نعرہ  یہ بھی تھا ’’بہت ہوا ناری پر اتیا چار، اب کی بار مودی سرکار‘‘۔ وزیراعظم کی کرسی کے امیدوار  مودی جی نے دسمبر 2013 میں کہا تھا کہ نربھیا سانحہ کو ایک سال بیت گیا لیکن اس کے لیے کچھ نہیں ہوا۔ یہ انہوں نے سوال کیا تھا ’’نیچ راج نیتی (گھٹیا سیاست )  ہےَ یا نہیں ہے‘‘۔ منتخب ہونے کے بعد دہلی انتخاب سے قبل  نربھیا کے والدین سے ملاقات کے بعد رائے دہندگان سے کہا ووٹ ڈالتے وقت نربھیا کو یاد کریں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ گھٹیا سیاست نہیں ہے۔ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کےبعد۸ ماہ  تک کچھ نہ کرنے والا وزیراعظم عوام سے کہہ رہا ہے نربھیا کو یاد کریں اور ان کو ووٹ دیں۔ دہلی کے لوگ دوسری بار مودی جی کے جھانسے میں نہیں آئے اور ان کو خوب سبق سکھایا  لیکن کیا  فائدہ ؟ دہلی شہر کے اندر 2012 میں ۷۰۶ عصمت دری کے واقعات ہوئے تھے جو2013 میں بڑھ کر ۱۶۳۶ ہو گئے۔ دہلی کو دنیا بھر کے ریپ کیپٹل کا خطاب ملا  کانگریس سرکار نے سخت قوانین نافذ کیے عوام نے مودی جی کو اقتدار سونپ دیا۔ 2014 میں آبروریزی کے واقعات بڑھ کر ۲۱۹۹ پر پہنچ گئے۔ 2015 میں ۲۱۹۹ اور 2016 میں ۲۱۵۵۔ قومی سطح پر  بھی اعدادو شمار مایوس کن ہیں 2012 میں ۲۴۹۲۳، 2013 میں ۳۳۷۰۷، 2014 میں ۳۶۷۳۵ اور 2015 میں ۳۴۶۵۱۔ یہ تعداد 2016 میں بڑھ کر۳۸۲۴۷ پر پہنچ گئی اس کا مطلب یہ ہے مودی راج کے اند پچھلے سالیومیہ  ۱۰۸ عصمت دری کے واقعات  کی شکایت پولس نے درج کی جو دبے رہ گئے ان کا شمار کرنا مشکل ہے۔ اس اضافہ  کی بنیادی وجہ سزا  سےبچنے والوں کی شرح میں  اضافہ ہے۔ 2012 میں ۴۹ فیصد لوگوں کو سزا ملی 2013 میں ۳۶ فیصد، 2014 میں مودی جی نے اقتدار سنبھالا تو مزید کمی آئی یعنی ۳۴ فیصد اور 2015 میں یہ ۲۹ فیصد پر پہنچ گئی۔ زنا بالجبر کرنے والوں کو اگر سزا  ہی نہ ملے تو ان کے حوصلے بلند ہوجاتے ہیں  اور نتیجہ صاف نظر آرہا ہے۔ ہندوستان کی آبادی  میں چونکہ ہندو اکثریت میں ہیں اور زانیوں  میں تو اکثر ہندووں ہی کے نام آتے ہیں اس لیے اس ظلم کا شکار ہونے والوں کی بڑی تعداد  اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھتی  ہے۔ ان لوگوں  نے بڑی امیدوں سے مودی جی کو ووٹ دیا تھا لیکن مودی جی کو ان کی نہیں بلکہ اپنے ووٹ بنک کی فکر ستاتی رہتی ہے اس لیے وہ تین طلاق پانے والی مسلم خواتین کے لیے مگر مچھ کے آنسو بہا کر فرقہ پرست ہندومردوں کی خوشنودی حاصل کرنے میں مگن رہتے ہیں۔  اب عوام مودی جی سے انہیں کا سوال کررہی ہے کہ ’’یہ نیچ سیاست ہے یا نہیں ؟‘‘۔ اس سوال کا تعلق ان کی ذات سے نہیں بلکہ صفات سے ہے۔ شمالی کوریا کی راجدھانی سیول میں جاکر بیرون ملک رہنے والے ہندوستانیوں کے درمیان  مودی جی نے قوم کو اس طرح شرمندہ کیا تھا کہ ’’ پہلے آپ کو ہندوستانی کے طور پیدا ہونے پر شرم محسوس ہوتی تھی۔ اب آپ ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں ‘‘۔ یہ دعویٰ اگر مودی جی خود اپنے بارے میں کہتے تب تو یہ کسی حدتک درست ہوتا لیکن بدقسمتی سے وہ اس کو سارے ہندوستانیوں کے منڈھ رہے تھے جن میں ۶۹ فیصد مودی جی کے وزیراعظم بن جانے پر شرمندہ تھے۔ خیر حال میں عالمی معاشی  تنظیم نے خواتین کی مساوات سے متعلق جو اعداوو شمار شائع کیے ہیں انہیں دیکھ کر تو مودی بھکتوں کا سر بھی شرم سے جھک گیا ہوگا۔  اس اعلامیہ کے مطابق جہاں بنگلادیش ۲۵ مقامات کی چھلانگ لگا کر ۴۷ پر آگیا وہیں ہندوستان ۲۱ مقاماتپیچھے سرک کر ۱۰۸ پر پہنچ گیا یعنی بنگلا دیش جیسا مسکین ہم سایہ تو آگے بڑھ رہا ہے اور ہندوستان جیسا خودساختہ سپر پاور  نیچے لڑھک رہا ہے۔ یہ ۱۰۸ تو اوسط عدد ہے اگر تفصیل میں جائیں تو خطرناک انکشافات ہوتے ہیں۔   اس جائزے میں دنیا کے کل ۱۴۴ ممالک شامل تھے  اور زندگی کے چار شعبوں میں خواتین کی حالت کا جائزہ لیا گیا تھا۔ عطائے اختیار یعنی خواتین کو سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے معاملے میں ؁۲۰۱۶ کے اندر ہندوستان ۹ ویں مقام پر تھا اب ۶ مقام پیچھے چلا گیا اور ۱۵ویں مقام پر ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ بی جے پی نے اپنے منشور میں خواتین ریزرویشن کا بل منظور کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تین ماہ قبل جب سونیا گاندھی نے یہ وعدہ یاد دلایا تو کہا گیا کہ سرمائی اجلاس میں اسے لانے پر غور کیا جارہا ہے لیکن کھودا پہاڑ نکلا کی مصداق خواتین ریزرویشن بل کے بجائے تین طلاق  کا قانون منظوری کے لیے آگیا جس کا وعدہ کسی پارٹی نے نہیں کیا تھا۔ بی جے پی نے خواتین ریزرویشن کے سب سے کٹر مکالف ادیتیہ ناتھ کو اتر پردیش کا وزیراعلیٰ۔ انہوں نے؁۲۰۱۰  اس مسئلہ پر پارٹی سے استعفیٰ کی دھمکی دی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ یوگی نما بھوگی اب کیسی قلابازی کھاتے ہیں ؟ خواتین کے ریزرویشن کا قانون برسوں سے زیر بحث ہے جبکہ تین طلاق کے قانون پر بےمثال سرعت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے دیکھنا یہ ہے کہ اس کے سبب ہندوستان ۱۰۸ سے اٹھ کر کہاں پہنچتا ہے؟ عالمی تنظیم نے تعلیم کے شعبے میں موازنہ کیا تو پتہ چلا ہندوستان پچھلے سال۱۱۳ ویں مقام پر تھا لیکن اس سال ۱۱۲ ویں  پر آگیا یعنی ایک مقام کی بڑھوتری ہوئی جبکہ  معاشی مواقع اور شراکت کے میدان میں ۱۳۶ سے ۱۳۹ پر پہنچ گیا یعنی ۳ مقام نیچے چلا گیا۔ واضح ہوکہ جملہ ۱۴۴ ممالک اس جائزے میں شامل ہیں یعنی اس معاملے  سیتارامن کے دورِ وزارتِ معیشت و تجارت میں ہندوستان اوپر جانے کے بعد نیچے آیا۔ شاید اسی لیے ان کو وزیر دفاع بناکر وزارت  معیشت و تجارت سے دفاع کردیا گیا۔ سب سے خطرناک صورتحال  صحت اور بقاءکے شعبے  کی ہے۔ اس میں ہندوستان پہلے ۱۴۲ ویں مقام پر تھا یعنی ہم سے خراب حالت صرف دو ممالک کی  تھی اب ۱۴۱ پر ہے یعنی صحت اور بقاء کی بابت دنیا میں صرف ۳ ممالک کی حالت ہندوستان سے ابتر۔ ایسے میں مودی جی کو چاہیے کہ  تین طلاق کا ناٹک کرنے کے بجائے’ بیٹی بچاو  بیٹی پڑھاو ‘کے ساتھ  ’ناری بچاو  سوستھ بناو‘ کا نعرہ لگائیں۔ ویسے ان کے  کھوکھلےنعروں سے بھی اب لوگ بیزار ہونے لگے ہیں کیونکہ  وکاس تو بالکل ہی   پاگلاگیا ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh