logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

اسلامی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش تشویسناک ،کاروان امن و انصاف کی طرف سے ڈاکٹرطارق ایوبی کی کتاب’’ اسلام میں مذہبی رواداری ‘‘ کی تقریب اجراء میں اظہار خیالممبئی، 5دسمبر(یواین آئی)ہندوستان کے موجودہ حالات اور مذہب اسلام ومسلمانوں کے بارے میں مسخ شدہ باتیں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لیے ہم پر لازمی ہوتا ہے کہ اسلام کی مذہبی رواداری،مساوات اور بھائی چارگی کی تعلیمات کوعام کریں اور یہ انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔کاروان امن وانصاف کے زیراہتمام ڈاکٹر طارق ایوبی کی کتاب ’’اسلام میں مذہبی رواداری ‘‘ کی تقریب اجراء کے موقع پر گزشتہ شب مذکورہ تشویش کا اظہارمشہورصحافی اور مصنف شمیم طارق سمیت متعدد مقررین نے کیا۔اس موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں شمیم طارق نے مزید کہاکہ اس لیے خودہمارے مسلم نوجوان میں اس کا فقدان پایا جاتا ہے جوکہ تشویش ناک ہے اوراگر وقت رہتے اس جانب توجہ نہیں جاتی ہے تو اس کا انجام عبرت ناک ہوگا،کیونکہ دینی شعور کی کمی کے سبب ایک ایساطبقہ سراٹھاررہا جسے مذہب،قرآن اور احادیث نبویؐکا مذاق اڑانے میں ذرا سی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی ہے۔بلکہ وہ اپنی سوچ کی وجہ سے ہٹ دھرمی کا شکار ہوچکے ہیں ،بلکہ منکرین بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کے لیے سرجوڑکربیٹھناہوگاکہ نوجوان نسل کو اپنی تہذیب وتمدن اور دینی تعلیمات سے کیسے منسلک کیاجائے ،دراصل کتابوں اور مطلع سے ہم دور ہوچکے ہیں اور اس سمت میں دوبارہ جانا انتہائی ضروری ہے ،اگر اس جانب توجہ نہیں دی گئی تو دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنوں کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو مستقبل میں پاٹنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔کیونکہ ہمیں خود اپنوں کی پروا نہیں ہے اور گلے کاٹنے سے بھی گریز نہیں کررہے ہیں،اس لیے اب اپنی اور اپنے نوجوانوں کی فکر کرنا ضروری ہے جوکہ مذہب اور تہذیب وتمدن سے دورہوچکی ہے۔اس موقع پر صاحب کتاب ڈاکٹر طارق ایوبی نے اپنے کام اور جدوجہد کے بارے میں باتیں کرتے وہئے کہا کہ اس وقت ہندوستان میں شرپسند عناصر کی طرف سے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو متاثر کرنے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں، ایسے وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کی درست ترجمانی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں فسطائیت نے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی اس مہم کو تیز تر کر دیا ہے جسکا سلسلہ انگریزوں کی سرپرستی میں سر جدوناتھ سرکار جیسے متعصب مصنفین کے قلم سے شروع ہوا تھا ۔ فسطائی ذہنیت غلط تاریخ پیش کر کے مسلمانوں کے نفرت کا ماحول پیدا کر رہی ہے اور ملکی فضا کو آلودہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے سیّد صبا الدین عبدالرحمن کی ریسرچ کا حوالہ دیا جس میں عہد اسلامی اور ہندوستان میں مسلمانوں کی رواداری کا جامع انداز میں پیش کیا ہے ،جس سے عام مسلمان ہی نہیں بلکہ دانشورطبقہ بھی ناواقف ہے۔ڈاکٹر طارق ایوبی نے کہا کہ ہم نے نکتہ چینی اور لعن طعن کرنا ہی اپنا شعور بنالیا گیا ہے اورہم نے اتنا اللہ کی کتاب،احادیث اور اکابرین کے بارے میں مطلع نہیں کیا ،جتنا دوسروں نے کیا اورکھل کر اس پر باتیں کرتے ہیں۔انہوں نے یہ کتاب موجودہ ملکی و بین الاقوامی حالات کے پیش نظر لکھی ہے، جس سے ان کا مقصد یہ ہیکہ اقوام عالم خصوصاً برادران وطن کے سامنے تاریخی حوالوں سے اسلام کی رواداری پر مشتمل تعلیمات کو عام کیا جائے، اور اسلام اور مذاہب کے مابین پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے، اور ہماری نئی نسل اعتراضات و اشکالات کی معروضی حقیقتوں سے باخبر ہوسکے اور ان حقائق کی روشنی میں آپسی بھائی چارہ پھیلانے کی کوششیں کریں، انہوں نے بتایا کہ اس کا فائدہ عام ہو اور اس کتاب کا ہندی، مراٹھی، گجراتی اور انگریزی زبان میں ترجمہ کروا رہے ہیں۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh