logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

کولکاتہ: مغربی بنگال میں شمالی 24 پرگنہ ضلع کے بدوریا میں تشدد اور آگ زنی کے واقعات کے بعد آج علاقے میں بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے 400 جوانوں نے مارچ کیا۔ فیس بک پر ایک 'قابل اعتراض پوسٹ پر بسیرہاٹ سب ڈویزن کے بدوریا میں اتوار کو دو فرقوں کے لوگوں کے درمیان تشدد بھڑک گیا تھا تھا۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنا گھر چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں کشیدگی ہے لیکن کل رات کے بعد سرحدی علاقے میں بی ایس ایف جوانوں کو تعینات کئے جانے کے بعد حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران مشتعل ہجوم نے پولیس کی کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا۔ بھیڑ نے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور اسسٹنٹ پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت کئی پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، سلامتی دستوں کو آنے سے روکنے کے لئے سڑکیں کھود دیں اور بدوریا کے آس پاس دکانوں اور مکانات کو نقصان پہنچایا گیا۔سترہ سالہ نوجوان کے فیس بک پر ایک قابل اعتراض پوسٹ کے بعد تشدد بھڑک اٹھا تھا۔لڑکے کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ ایک طرف بدوریا میں لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں وہیں اس معاملہ پر گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی اور وزیر اعلی ممتا بنرجی کے درمیان متنازعہ بات چیت پر ریاست کا سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔محترمہ بنرجی نے مسٹر ترپاٹھی پرامن و قانون کے معاملہ پران کی توہین کرنے اور انہیں دھمکانے کا الزام لگایا ہے۔ راج بھون نے وزیر اعلی کے ذریعہ پریس کانفرنس میں گورنر پر لگائے گئے الزامات پر حیرت ظاہر کی ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh