logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

واشنگٹن۔  یہاں بیلویوعلاقے میں سنیچر کی رات ایک مسجد کو آگ لگادی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد میں آگ جان بوجھ کر لگائی گئی اورواقعے میں ملوث ہونے کے شبہے میں ایک 37 سالہ شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔ یہ اطلاع سی این این نے اپنی رپورٹ میں دی ہے۔اس واقعے میں اسلامک سینٹر آف ایسٹ کا نصف سے زیادہ حصہ تباہ ہوگیا۔ اس سینٹر کو 'بیلویو مسجد' بھی کہا جاتا ہے۔ جس وقت آگ لگی یا لگائی گئی اس وقت مسجد کے اندر کوئی موجود نہیں تھا اس لئے اس واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ رپورٹ کے مطابق آگ مسجد کے پچھلے حصے میں لگی جہاں آگ بجھانے والوں نے 40 فٹ کی اونچائی تک شعلے بلند ہوتے ہوئے دیکھے۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ مسجد کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا ہے جبکہ ایک مقامی کمیونٹی سینٹر کو فی الحال نماز کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔سی این این نے بیلویو کے پولیس چیف اسٹیو مائیلٹ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ آتش زدگی کا نہیں بلکہ آتش زنی کا واقعہ ہے تاہم اب تک اس کے محرکات کا علم نہیں ہوا'۔ پولیس چیف نے گرفتار شخص کا نام آئزک وائن ولسن بتایا ہے اور اس پر مجرمانہ فعل اور آتش زنی کے الزامات عائد کرکے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔ اسے فی الحال سیاٹل کے کنگ کاؤنٹی کریکشنل سینٹر میں قید رکھا گیا ہے جبکہ اس کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کردی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کو یہ مشتبہ شخص مسجد کے پچھلے حصے پر پڑا ہوا ملا تھا۔ پولیس چیف کے مطابق فی الحال اس واقعے کو نفرت پر مبنی اقدام تصور نہیں کیا جارہا اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ مشتبہ شخص کو ایک بار پہلے بھی مسجد میں بدنظمی پھیلانے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔اس بیچ یہاں کونسل برائے امریکن اسلامک ریلیشنز نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خود سے کوئی نتیجہ اخذ نہ کریں اور حکام کو تحقیقات مکمل کرنے کا وقت دیں۔ یہ اپیل فیس بک صفحے پر موجود ہے۔واضح رہے کہ پچھلے سال نومبر میں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم تین مساجد کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہوئے جس کے بعد شہری حقوق کی تنظیم نے مساجد کے باہر پولیس کی نفری بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی صدارتی انتخاب کے بعد سے امریکا بھر سے نسلی امتیاز اور مذہب مخالف واقعات کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو عہدہ صدارت کا حلف اٹھائیں گے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh