logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

ممبئی: بالی ووڈ کی دلکش اداکارہ ایشوریا رائے کا کہنا ہے کہ وہ ہالی ووڈ میں کام کرنے کیلئے کبھی بھی بھارتی فلم انڈسٹری نہیں چھوڑ سکتیں۔بھارتی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے اداکار اور اداکاراؤں کی بالی ووڈ کے بعد اگلی منزل ہالی ووڈ ہوتی ہے جس کی مثال دپیکا پڈوکون اور پریانکا چوپڑا ہیں جنہوں نے بالی ووڈ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہالی ووڈ میں اپنا سکہ جمایا، تاہم سابق ملکہ حسن اور نامور اداکارہ ایشوریا رائے کی سوچ مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ ہالی ووڈ میں کام کرنے کیلئے کبھی بھی بالی ووڈ کو نہیں چھوڑیں گی۔اس خبرکوبھی پڑھیں: ایشوریا رائے مداحوں سے منہ چھپانے پرمجبورحال ہی میں دئیے گئے ایک انٹرویو کے دوران ایشوریا رائے نے اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بالی ووڈ فلموں میں کام کرنا بہت پسند ہے ، یہاں کے ہدایت کاراور پروڈیوسرز بہت پروفیشنل ہیں جو اپنے کام کو بہتر طریقے سے کرنا جانتے ہیں جب کہ ہالی ووڈ بھارتی فلم انڈسٹری سے بالکل مختلف ہے، ہالی ووڈ کی زبان کے ساتھ ان کا کلچر بھی ہم سے بہت الگ ہے لہٰذا وہاں کام کرنے میں وہ مزہ نہیں جو بالی ووڈ میں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ڈائریکٹرز جانتے ہیں کہ کس اداکار سے کس طرح کام لینا ہے میں نے گزشتہ سال فلم ’’سربجیت‘‘ اور ’’اے دل ہے مشکل‘‘ جیسی فلموں میں کام کیا، یہ فلمیں سائن کرنے سے قبل بہت سے لوگوں نے مجھے کہا تھا کہ میں یہ کردار نہ کروں لیکن میں نے ہدایت کار کے مشورے پر عمل کیا جس کے بہت اچھے نتائج سامنے آئے لوگوں نے نہ صرف مجھے ان کرداروں میں قبول کیا بلکہ میرے کام کو بہت پسند بھی کیا، لہٰذا میں اتنی پروفیشنل انڈسٹری کو چھوڑ کر ہالی ووڈ کیوں جاؤں؟اس خبرکوبھی پڑھیں: خواہش ہے مراٹھی فلم میں کام کروں، ایشوریا رائےتاہم ایشوریا رائے یہ انٹرویو دیتے ہوئے شاید بھول گئیں کہ وہ 2004 میں برائیڈ اینڈ پریجوڈس، دی مسڑیس آف اسپائسیس، پرووکڈ، 2007 میں دی لاسٹ لیگن اور2009 میں دی پنک پینتھر2 نامی ہالی ووڈ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں، لہٰذا ان کے اس دوغلے بیان کے پیچھے صرف یہ ہی مقصد ہوسکتا ہے کہ اب انہیں ہالی ووڈ سے کوئی پیشکش ہی نہیں ہورہی اور ہالی ووڈ ڈائریکٹرز ایشوریا کی جگہ دپیکا اور پریانکا کو اپنی فلموں میں کاسٹ کرنے میں زیادہ دلچسپی دکھارہے ہیں۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh