logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

اس ہفتے عرفان خان نے اپنی فلم 'قریب قریب سنگل' کی ریلیز سے پہلے دوسرے اداکاروں کی طرح اپنی زندگی کے ان اوراق کو پلٹنے کی کوشش کی جن کا ذکر انھوں نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ مثلاً انھیں بھی کئی مرتبہ جنسی تعلقات کے بدلے میں کام دینے کی آفر ملی تھی۔اشتہاراسی طرح ودیا بالن بھی اپنی فلم 'تمہاری سولو' کے ساتھ اپنا ماضی ساتھ لے کر آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود کو انڈسٹری میں جنسی طور پر ہراساں ہونے سے محفوظ کیا۔٭ ’سیکس کے بدلے کام کی پیشکش ہوئی تھی‘٭ ’جنسی زیادتی کی ذمہ دار خود عورتیں ہی ہیں‘٭ ’کوئی کیوں طے کرے کہ آپ کون ہیں؟‘ودیا کا کہنا ہے کہ کیونکہ وہ ایک خوشحال گھرانے سے تھیں اس لیے وہ انڈسٹری میں ایسے شکاریوں کو واضح کر دیتی تھیں کہ وہ یہ سب برداشت نہیں کریں گی۔اداکارہ کالکی کوئچلن کا کہنا ہے کہ انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں ہوتی ہیں اور لوگ اسے نظر انداز کرتے ہیں۔ کالکی کہتی ہیں 'مجھے نہیں لگتا کہ ہم نے انڈسٹری میں ایسا ماحول بنایا ہے کہ خواتین ان زیادتیوں کے خلاف کھل کر سامنے آ سکیں۔'کالکی کی بات کافی حد تک درست ہے کہ اگر کوئی کامیاب ہیروئن اس بارے میں بات کرتی ہے تو لوگ اور میڈیا اسے سنجیدگی سے لیتا ہے لیکن ایسی کتنی لڑکیاں ہیں جو اس وقت انڈسٹری میں کام کر رہی ہیں اور وہ اس بارے میں بات بھی کرتی ہیں لیکن انھیں سننے والا کوئی نہیں ہے۔ابھیشیک نے پلٹن کی آفر کیوں ٹھکرائیابھشیک بچن کو خدا خدا کر کے جے پی دتا کے ساتھ فلم 'پلٹن' آفر ہوئی تھی اور وہ بھی انھوں نے ٹھکرا دی۔ خبر ہے کہ ابھشیک کو شکایت ہے کہ فلم میں سونو سود کو ان سے زیادہ سکرین سپیس دی گئی ہے اور ان کے مقابلے میں ان کا رول کم ہے۔حالانکہ جے پی دتہ جنھوں نے سنہ 2000 میں فلم 'رفیوجی' کے ساتھ ابھشیک کو لانچ کیا تھا انھوں نے ابھشیک کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ بھائی سونو سود کی سکرین سپیس زیادہ ہے لیکن آپ کا رول جاندار ہے لیکن لگتا ہے ابھشیک کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ بھائی بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی یعنی جو ملے غنیمت ہے کم ہی سہی کام تو ہوگا۔ایک زمانہ تھا جب کہا جاتا تھا نیکی کر دریا میں ڈال۔ یہ کہاوت اس وقت مجھے شدت سے یاد آئی جب میں نے تقریباً ہر اخبار میں یہ خبر پڑھی کے کرکٹر سچن تنڈولکر کے ساس سسر جس بلڈنگ میں رہتے ہیں وہاں آگ لگ گئی اور ایشوریہ رائے بچن دوڑ کر اس بلڈنگ کے باہر پہنچ گئیں تاکہ سچن کے ساس اور سسر کی مدد کر سکیں۔انھوں نے سچن کے ساس سسر کے لیے کھانے پانی کا بندوبست کیا۔ تمام اخبارات بڑی بڑی سرخیوں میں ایشوریہ بچن کی رحم دلی کو بیان کر رہے تھے۔سچن اور بچن خاندان ایک دوسرے سے خاصے قریب ہیں اور ایسے میں ہر کوئی ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے۔ اس میں میڈیا کو تالیاں بجانے کی کیا ضرورت تھی۔؟

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh