logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

 لندن: ماہرین نے ایک تحقیق کے بعد کہا ہے کہ اگر ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا افراد اپنی غذائی ضروریات کو ایک ہزار کیلوریز تک محدود رکھیں تو صرف پانچ مہینوں میں اس بیماری سے نجات پانے میں کامیابی ہوسکتی ہے اور انہیں کسی دوا کی ضرورت نہیں رہتی۔مطالعے کے تحت 825 سے 850 کیلوریز روزانہ کھانے والے نصف مریضوں نے چند ماہ بعد ہی ذیابیطس سے نجات پالی اور اب انہیں کسی دوا کی ضرورت نہیں رہی۔ اس عادت کو اپنا کر ہرسال لاکھوں کروڑوں افراد اپنی زندگی بہتر بناسکتے ہیں۔ ڈائبیٹکس ریمیشن کلینکل ٹرائل نامی یہ رپورٹ سائنسی طبی جریدے لینسٹ میں شائع ہوئی ہے۔اس مطالعے میں 20 سے 65 برس کے 300 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ اس میں شرکا کو دھیرے دھیرے کم کیلیوریز کی جانب لے جایا گیا اور ایک سال بعد ان مریضوں میں ٹائپ ٹو ذیابیطس ختم ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے وزن میں 10 کلوگرام کمی بھی نوٹ کی گئی۔اس سے قبل ایک طرح کی بارایٹرک سرجری بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خاتمہ کرتی ہے لیکن یہ مہنگا اور پرخطرعمل ہے جس میں جراحی کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر مائیکل موسلے نے کم کیلوریز اور فاقے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس خاتمے کا پروگرام پیش کیا ہے جو بہت کامیاب بھی ہے۔ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے شکار افراد اپنی غذا اور ورزش کے ذریعے اس مرض سے نجات پاسکتے ہیں۔ یہ تحقیق نیوکاسل یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ موٹاپا اور ذیابیطس کا گہرا تعلق ہے اورکم کیلوریز کھانے سے اس مرض کو شکست دی جاسکتی ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh