logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

دہی کے گُن کون گنوائے!

Mon 18 Sep 2017, 16:22:02

ہندوستان کے ہر حصے میں دہی روز مرہ کے کھانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ تمل ناڈو کا دہی چاول ہو یا کشمیر کی یخنی، بنگال کا دوئی ماچ ہو یا مہاراشٹر کا سری کھنڈ، لکھنؤ کا قورمہ اور دہی سے بنے ان گنت رائتے اور دہی بڑے دسترخوان کی زینت ہیں۔ روز مرہ کے کھانوں میں دہی کی ایک کٹوری کے بغیر کھانا مکمل نہیں سمجھا جاتا۔عصر حاضر میں دہی کا استعمال بہت عام ہے اور دکانیں ہر طرح کے دہی کے ڈبوں سے بھری رہتی ہیں کیونکہ گھر میں دہی جمانے کا چلن کم ہوتا جا رہا ہے یا صرف گاؤں دیہات تک محدود ہے۔ ہندوستان کی تاريخی کتابوں اور ہندو مذہب کی کتابوں میں بھی دہی کے استعمال کا ذکر ہے۔٭ ادرک کے 100 گن٭ مانڈو اور عشق و محبت کی داستان٭ مانڈو اور عشق و محبت کی داستانگو دہی کا استعمال عام تھا لیکن اسے پھینٹ کر چھاچھ بنائی جاتی تھی۔ آج بازار میں مسالہ چھاچھ دستیاب ہیں لیکن ارتھ شاستر اور رگ وید میں بھی مسالہ چھاچھ کا ذکر پایا جاتا ہے۔ دہی میں شہد یا شکر، کالی مرچ اور دارچینی ملا کر شربت تیار کیا جاتا تھا جو ہزار گنوں سے پر تھا۔ہاضمہ آور ہونے کے ساتھ ساتھ جسم کی حرارت کو بھی برقرار رکھتا تھا۔ آیوروید رات کے وقت دہی کے استعمال سے پرہیز بتاتا ہے۔ چرک سمہیتا میں ایک دلچسپ بات نظر آئی ہے کہ دہی جمانے کی ہنڈیا کو اناج کے ڈھیر میں رات بھر رکھ دین اور صبح کو اس کا استعمال کریں، دہی حلوے کی طرح جمی نظر آئے گی۔سنہ 1125 میں راجہ سومیشور اپنی کتاب 'مانو سولاسیا' میں لکھتے ہیں کہ دہی کو رائی کے دانوں سےبگھار کر استعمال کرنے سے اس کے فوائد مزید بڑھ جاتے ہیں۔راوی کا کہنا ہے کہ انگریزی دواؤں کے مروج ہونے سے پہلے کلکتے اور بنگال کے ڈاکٹر ٹائیفائڈ کا علاج مشٹی دہی سے کیا کرتے تھے کیونکہ یہ وٹامن سے سرشار ہوتی ہے۔ آئین اکبری میں ابوالفضل نے کئی ایک پکوانوں کا ذکر کیا ہے جس کا لازمی جزو دہی ہے۔ ترش دہی گوشت کے ریشوں کو توڑ کر ملائم بناتا ہے اس لیے دہی کو کچے پپیتے اور لیموں کے رس پر فوقیت حاصل ہے۔ہندی کے معروف شاعر سورداس نے دہی کی کچھ اس طرح تعریف کی ہے:'کڑا پکڑت موری، ای دہی پھینٹت ہےبھلا کے نا آؤں شیام تورے نگری'کیرالا اور کرناٹک میں بھی دہی کھانے کا ایک لازمی جز ہے۔ کیرالہ کا 'اویال' موسمی ترکاریوں اور دہی کا لاجواب امتزاج ہے۔ اسی طرح کرناٹک کا 'ماجے گے تھلی' دہی اور دال کا پکوان ہے۔ہندوستان میں مغلوں نے فن طباخی کو نئی شکل دی اور یہاں کے سادہ کھانوں کو مرغن بنایا۔ وہ اپنے ساتھ نہ صرف خشک میوے اور زعفران لے آئے بلکہ دہی کے استعمال کو بھی ایک نیا انداز دیا۔اگر ہندوستان کی قدیم روایتوں میں دہی میں ترکاریاں اور سبزیاں ملا کر کھانے کا ذکر ملتا ہے تو مغل بادشاہ کے ہنرمند باورچیوں نے دہی سے اس قدر عمدہ رائتے بنائے جس کا مفصل ذکر جہانگیر کے عہد میں لکھے ایک نسخے 'ایوان نعمت' میں ملتا ہے۔دہی بانس کی ٹوکری میں جمائی جاتی تھی۔ بانس کی ٹوکری کی تہہ میں انگشت بھر چوڑی یعنی چار روز پرانی دہی لیپ دی جاتی تھی پھر شکر ملا دودھ دہی کا چمن ملا کر اس پر ڈالا جاتا تھا پھر ملائی کی ایک موٹی تہہ۔ ٹوکری کو گرم جگہ پر رکھ کر نیچے ایک برتن رکھ دیا جاتا تھا کہ پانی اس میں گرتا رہے اور دہی جم جانے پر استعمال ہو۔ہندوستان میں مغلوں نے فن طباخی کو نئی شکل دی اور یہاں کے سادہ کھانوں کو مرغن بنایا۔ وہ اپنے ساتھ نہ صرف خشک میوے اور زعفران لے آئے بلکہ دہی کے استعمال کو بھی ایک نیا انداز دیا۔اگر ہندوستان کی قدیم روایتوں میں دہی میں ترکاریاں اور سبزیاں ملا کر کھانے کا ذکر ملتا ہے تو مغل بادشاہ کے ہنرمند باورچیوں نے دہی سے اس قدر عمدہ رائتے بنائے جس کا مفصل ذکر جہانگیر کے عہد میں لکھے ایک نسخے 'ایوان نعمت' میں ملتا ہے۔دہی بانس کی ٹوکری میں جمائی جاتی تھی۔ بانس کی ٹوکری کی تہہ میں انگشت بھر چوڑی یعنی چار روز پرانی دہی لیپ دی جاتی تھی پھر شکر ملا دودھ دہی کا چمن ملا کر اس پر ڈالا جاتا تھا پھر ملائی کی ایک موٹی تہہ۔ ٹوکری کو گرم جگہ پر رکھ کر نیچے ایک برتن رکھ دیا جاتا تھا کہ پانی اس میں گرتا رہے اور دہی جم جانے پر استعمال ہو۔ہندوستان میں مغلوں نے فن طباخی کو نئی شکل دی اور یہاں کے سادہ کھانوں کو مرغن بنایا۔ وہ اپنے ساتھ نہ صرف خشک میوے اور زعفران لے آئے بلکہ دہی کے استعمال کو بھی ایک نیا انداز دیا۔اگر ہندوستان کی قدیم روایتوں میں دہی میں ترکاریاں اور سبزیاں ملا کر کھانے کا ذکر ملتا ہے تو مغل بادشاہ کے ہنرمند باورچیوں نے دہی سے اس قدر عمدہ رائتے بنائے جس کا مفصل ذکر جہانگیر کے عہد میں لکھے ایک نسخے 'ایوان نعمت' میں ملتا ہے۔دہی بانس کی ٹوکری میں جمائی جاتی تھی۔ بانس کی ٹوکری کی تہہ میں انگشت بھر چوڑی یعنی چار روز پرانی دہی لیپ دی جاتی تھی پھر شکر ملا دودھ دہی کا چمن ملا کر اس پر ڈالا جاتا تھا پھر ملائی کی ایک موٹی تہہ۔ ٹوکری کو گرم جگہ پر رکھ کر نیچے ایک برتن رکھ دیا جاتا تھا کہ پانی اس میں گرتا رہے اور دہی جم جانے پر استعمال ہو۔عصر حاضر میں بازاروں مین پھلوں کے رس سے بنائی دہی کے ڈبے ملتے ہیں لیکن مغل عہد میں ان کا چلن عام تھا۔ ایک پیالے میں چار یا پانچ رنگ اور مختلف ذائقوں کے دہی جمائے جاتے تھے جن میں زعفران دہی اور مختلف پھلوں کے رس کے دہی بادشاہ کے خاصے مین شامل ہوتے تھے۔دہی ہزار بیماریوں کا علاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمانۂ قدیم سے لے کر آج تک دہی ہمارے ساتھ ہے۔ نہ صرف پیر بلکہ جواں سال بھی اسے بڑے چاؤ سے کھاتے ہیں۔ اس میں کیلشیم، فولاد، زنک، پوٹاشیم، فاسفورس، میگنیشیم پایا جاتا ہے جو انسانی جسم کی صحت کے لیے ضروری عناصر ہیں۔٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh