logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

دہلی: اگر آپ اپنے چہرے کا بے حد خیال رکھتے ہیں یا اپنے چہرے کی طرف سے لاپرواہ ہیں تو دونوں ہی صورتوں میں آپ کا یہ جاننا لازمی ہے کہ آپ کے چہرے پر سینکڑوں نہیں ہزاروں کیڑے پرورش پارہے ہیں اور آپ کا چہرہ ہزاروں کیڑوں کا گھر ہے تو غلط نہ ہوگا۔جی ہاں یہ بالکل سچ ہے! ایک بین الاقوامی ریسرچ کے مطابق انسانی چہرہ ہزاروں ننھے منے خردبینی کیڑوں کا گھر ہوتا ہے۔ یہ کیڑے ہر وقت چہرے پر رینگتے رہتے ہیں لیکن نہایت چھوٹی جسامت کے باعث انہیں انسانی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں بلکہ یہ صرف خردبین ہی سے دیکھے جاسکتے ہیں۔1842 میں پہلی باراس کیڑے کا پتا لگایا گیا، یہ کان میں جمع میل میں پرورش پارہا تھا۔ اس ننھے کیڑے کے ہاتھ  اور پاؤں بھی ہیں اور یہ مکڑیوں کے نزدیکی رشتے دار ہوتے ہیں تاہم ابھی تک ان کیڑوں سے متعلق یہ بات واضح نہیں تھی کہ یہ انسانی چہرے پر رہتے ہیں یا نہیں۔ لیکن اب سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دواقسام کے خردبینی جاندار انسانی چہرے پر رہنا پسند کرتے ہیں، دونوں کی ساخت کیڑوں جیسی ہوتی ہے اور ان کے پیر بہت چھوٹے ہوتے ہیں جن کی مدد سے یہ چلتے ہیں جبکہ یہ چہرے کی جلد کے اندر رہتے ہیں۔سائنسدانوں کی جانب سے کیے جانے والے دعوے کی اہم بات جس نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچی وہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد یہ کیڑے پھوٹ جاتے ہیں جن کی وجہ سے سارے بیکٹریا چہرے کی جلد پر بکھر جاتے ہیں۔ نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر میگن تھائمس نے بتایا کہ ان کیڑوں کی غذا انسانی جلد ہوتی ہے، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کیڑے انسانی جلد کے مردہ خلیات کھاتے ہیں جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ جلد کے غدود سے نکلنے والے آئل کو پیتے ہیں۔یسے تو چہرے پر رہنے والے ان کیڑوں کا کوئی خاص نقصان نہیں لیکن انہیں بہت سے جلدی مسائل کا ذمہ دار مانا جاتا ہے ان کی وجہ سے جلد میں دانے ہوجاتے ہیں اور چہرہ لال دکھائی دینے لگتا ہے۔ جو لوگ ان تمام مسائل کا شکار ہیں ان کی جلد میں یہ کیڑے عام لوگوں کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہوتے ہیں تاہم انہیں علاج کے ذریعے جلد سے ختم کرنا ممکن ہے۔ دوسری جانب انسانی مدافعتی نظام بھی ان کیڑوں سے پہنچنے والے نقصان میں کمی کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh