logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

ادرک کے جسمانی و طبی فوائد سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اور اب ماہرین نے اس کے استعمال کو گٹھیا اور جوڑوں کا درد ختم کرنے میں بھی بہت مفید قرار دیا ہے۔ایشیا اور افریقا میں کثرت سے استعمال ہونے والی ادرک کو تیل، پاؤڈر اور اصل حالت میں کھانوں اور ادویہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہاضمے کی بہتری کے لیے ادرک کا استعمال عام کیا جاتا ہے لیکن اب جوڑوں کے درد میں اس کی بھرپور افادیت سامنے آئی ہے۔بعض سائنسی مطالعات سے عیاں ہے کہ جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو جب ادرک یا اس کے اجزا کھلائے گئے تو ان کے جوڑوں میں سوزش کم ہوئی اور گٹھیا کے مرض میں افاقہ ہوا۔ادرک جوڑوں کے درد کے لیے اکسیر قرارادرک جوڑوں کے درد کے لیے اکسیر قرارشیئرٹویٹویب ڈیسک  پير 28 اگست 2017شیئرٹویٹتبصرےمزید شیئرادرک میں کئی اجزا جلن، درد اور سوزش کو کم کرتے ہیں۔ فوٹو: فائلکراچی: ادرک کے جسمانی و طبی فوائد سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اور اب ماہرین نے اس کے استعمال کو گٹھیا اور جوڑوں کا درد ختم کرنے میں بھی بہت مفید قرار دیا ہے۔ایشیا اور افریقا میں کثرت سے استعمال ہونے والی ادرک کو تیل، پاؤڈر اور اصل حالت میں کھانوں اور ادویہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہاضمے کی بہتری کے لیے ادرک کا استعمال عام کیا جاتا ہے لیکن اب جوڑوں کے درد میں اس کی بھرپور افادیت سامنے آئی ہے۔بعض سائنسی مطالعات سے عیاں ہے کہ جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو جب ادرک یا اس کے اجزا کھلائے گئے تو ان کے جوڑوں میں سوزش کم ہوئی اور گٹھیا کے مرض میں افاقہ ہوا۔ADVERTISEMENTAdزخم بھرنے اور بیکٹیریا سے لڑنے کے قدرتی جسمانی عمل میں تھوڑی بہت سوزش پیدا ہوتی ہے جس کے دوران جسم خون کے سفید خلیات خارج کرتا ہے لیکن یہ کیفیت ایک مسلسل صورت بھی اختیار کر سکتی ہے جبکہ گٹھیا کے مرض میں جوڑوں کے اطراف مستقل تکلیف کی وجہ بن جاتی ہے۔ایک تجربے میں جب گٹھیا اور جوڑوں کے درد میں مبتلا مریضوں کو ادرک کے کیپسول دن میں دو مرتبہ 6 ماہ تک کھلائے گئے تو ان کی جلن میں واضح کمی دیکھنے میں آئی تاہم ان میں سینے کی جلن کا سائیڈ افیکٹ بھی نوٹ کیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ ادرک ہر قسم کی جسمانی سوزش اور اندرونی جلن کم کر سکتی ہے۔جسمانی درد اور پٹھوں میں اینٹھن کے شکار مریض بھی ادرک سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 2010 میں حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو ادرک دی گئی تو ان کی شدید تکلیف میں 30 فیصد تک کمی نوٹ کی گئی۔ تاہم بعض سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ درد کم کرنے میں ادرک خاص مفید نہیں ہوتی اور اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ادرک کیسے استعمال کی جائےادرک پاؤڈر کے کیپسول اور درد کی جگہ ملنے والی کریمیں بھی دستیاب ہیں۔ اس کی چائے بنا کر یا اسے پکوانوں میں ڈال کر بھی کھایا جا سکتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ روزانہ 2 سے 4 گرام ادرک دن میں تین مرتبہ کھائی جا سکتی ہے لیکن خیال رہے کہ اس کی مقدار 4 گرام سے ہرگز نہ بڑھے۔  ماہرین کے مطابق ادرک کے علاوہ دارچینی اور ہلدی کا استعمال بھی جوڑوں کی تکلیف کو کم کرنےمیں بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh