logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

سڈنی: کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اکثر مرد دوپہر میں چڑچڑے یا غصیلے مزاج کے کیوں ہوجاتے ہیں اور ان کا رویہ جارحانہ کیوں ہوجاتا ہے؟ایک تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے مردوں کے مزاج اور کیفیت میں تبدیلیوں کی وجہ جاننے کی کوشش کی جس کےلیے مرد حضرات کی روزمرہ زندگی کے ان اوقات کا بغور مشاہدہ اور مطالعہ کیا گیا جن میں وہ زیادہ مصروف ہوتے ہیں۔حال ہی میں تحقیقی مجلے ’دی جرنل آف نیوروسائنس‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دوپہر 2 بجے کے قریب مرد کا مزاج صبح کی نسبت گراوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔آسٹریلیا کی سوئنبرن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے سیکڑوں افراد کے دماغوں کا دن کے مختلف اوقات میں اسکین کیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ دماغ میں خوشی کا احساس پیدا کرنے والے حصے اور اس سے وابستہ نظام (ریوارڈ سسٹم) کی سرگرمی صبح اور شام  میں اپنے عروج پر ہوتی ہے لیکن دوپہر میں یہ اپنی کم ترین سطح پر آجاتی ہے۔سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ انسانی دماغ کے دائیں حصے میں موجود ’پیوٹامن‘ نامی علاقے میں سرگرمی دوپہر کی ابتداء میں سب سے کم ہوتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دوپہر میں افراد زیادہ چاق و چوبند نہیں ہوتے جب کہ، اس کے برعکس، دماغ کے بائیں حصے والا پیوٹامن دوپہر 2 بجے کی بہ نسبت صبح کے 10 بجے اور شام کے 7 بجے زیادہ سرگرم ہوتا ہے۔یہ دونوں حصے مل کر مردانہ مزاج، موڈ اور بطورِ خاص چڑچڑے پن پر اثرانداز ہوتے ہیں اور ان ہی کی وجہ سے مرد عموماً دوپہر کے وقت خود کو زیادہ تھکا ماندہ اور کسی حد تک چڑچڑا بھی محسوس کرتے ہیں۔یہ بھی پڑھیں: جسم کے وہ حصے جنہیں ہاتھ لگانے سے گریز کریںواضح رہے کہ پیوٹامن انسانی عضلات اور ہاتھ پاؤں کو متحرک کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh