logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

 واشنگٹن: ماں کے دودھ کی افادیت مسلمہ ہے اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ شیرِمادر میںبعض شکریات یا کاربوہائیڈریٹس بیکٹیریا کو ختم کرکے بچے کو انفیکشنز اور بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ماں کا دودھ پروٹین، چکنائیوں اور شکر (کاربوہائیڈریٹس) کا ایک پیچیدہ مجموعہ ہوتا ہے۔ لیکن پہلی مرتبہ انسانی دودھ میں موجود کاربوہائیڈریٹس کی بیکٹیریا کی افادیت سامنے آئی ہے۔ امریکہ میں واقع وینڈربلٹ یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیون ٹاؤن سینڈ نے کہا ہے کہ دنیا میں سب سے مفید اور صاف اینٹی بایوٹک دوا ماں کے دودھ میں موجود قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے۔اس تحقیق کا بنیادی محرک دنیا بھر جراثیم کے سامنے اینٹی بایوٹکس دواؤں کا بے اثر ہونا ہے اور اب بہترین اینٹی بایوٹکس کے سامنے جراثیم بہت سخت جاں واقع ہوئے ہیں۔اسٹیون کے مطابق جب انہوں نے بیکٹیریا کو شکست دینے پر کام شروع کیا تو پہلے گروپبی اسٹریپ بیکٹیریا پر غور شروع کیا۔ حاملہ خواتین پر یہ بیکٹیریا گروپ زیادہ حملہ آور ہوتا ہے اور پوری دنیا میں نومولود بچوں کےانفیکشنز میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ساتھ ہی ماہرین یہ دیکھنا بھی چاہتے تھے کہ آیا مائیں اپنے جسم میں ان بیکٹیریا کے خلاف کوئی قدرتی ہتھیار تیار کرتی ہیں یا نہیں؟لیکن اس کےلیے ماں کے دودھ میں موجود پروٹین کی بجائے کاربوہائیڈریٹس کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ شیرِمادر میں کاربوہائیڈریٹس پہلے بیکٹیریا کو تلاش کرکے کمزور کرتے ہیں اور بعد میں انہیں تباہ کرڈالتے ہیں یعنی وہ دو طرح سے جراثیم کا شکار کرتے ہیں۔ماہرین نے تجربہ گاہ میں یہ بھی دیکھا کہ ماں کے دودھ میں موجود ایک قسم کی شکر اولیگوسیکرائیڈز براہِ راست بھی بیکٹیریا کو ہلاک کرتی ہے لیکن بعض بیکٹیریا کی اوپری پرت توڑ کر انہیں ختم کرڈالتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک جگہ اسٹریپ بیکٹیریا کی پوری کالونی کو براہِ راست ختم ہوتے دیکھا گیا۔اس سے قبل کی گئی ایک اور تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ماں کا دودھ بچوں کوفلو سے بچاتا ہے اور اس کی وجہ بھی غالباً یہی کاربوہائیڈریٹس ہوسکتے ہیں۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh