logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

گاندھی نگر، 14دسمبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندرمودی اور راہل گاندھی کے لئے وقارکی جنگ کے ساتھ ہی حکمراں بی جے پی اور سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس کے لئے کرو یا مرو کی جنگ اور 2019کے لوک سبھا کا سیمی فائنل قرار دئے جارہے گجرات اسمبلی الیکشن کے دوسرے اور آخری مرحلے میں آج ریاست کے شمالی اور وسطی علاقوں کے چودہ اضلاع کی 93 سیٹوں پر سخت سیکورٹی کے درمیان ہورہی پولنگ میں دوپہر دو بجے تک چالیس فیصدسے زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔صبح آٹھ بجے شروع ہوئی پولنگ ابتدا میں دھیمی رہی لیکن بعد میں اس میں تیزی آگئی۔ اور سرکاری اعدادو شمار کے مطابق دوبجے تک چالیس فیصد سے زیادہ ووٹ ڈالے جاچکے تھے۔وزیر اعظم مودی نے احمدآباد شہر کے سابرمتی اسمبلی حلقہ کے تحت رانپ میں اپنا ووٹ ڈالا ۔ لال کرشن اڈوانی نے احمد آباد کے شاہ پور میں جب کہ ارون جیٹلی نے ویجل پور میں اپنا ووٹ ڈالا ۔ اس دوران کانگریس نے مسٹر مودی کے ووٹ ڈالنے کے بعد سڑک پر چلنے کے سلسلے میں ان پر مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرائی ہے ۔قبل ازیں کئی مقامات پر ای وی ایم میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے پولنگ تاخیر سے شروع ہوئی جب کہ کچھ مقامات پر لوگوں نے مقامی مسائل کے سلسلے میں پولنگ کا بائیکاٹ کیا۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh