logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

گاندھی نگر،13دسمبر(یواین آئی)وزیراعظم نریندر مودی اور راہل گاندھی کےلئے وقار کی لڑائی کے ساتھ ہی برسراقتدار بی جے پی اور اپوزیشن پارٹی کانگریس کےلئے ’کرویا مروکی لڑائی‘اور 2019کے لوک سبھا انتخابات کا ’سیمی فائنل‘تک قرار دئے جارہے گجرات اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے میں کل ریاست کے شمالی اور وسطی علاقے کے 14اضلاع کی 93سیٹوں پر سخت سکیورٹی کے درمیان ووٹنگ ہوگی۔مسٹر مودی خود کل احمدآباد کے رنپ علاقے میں نشان ودیالے بوتھ پر ووٹ ڈالیں گے جبکہ سابق نائب وزیراعظم لال کرشن ایڈوانی شاہ پور کے ہندی اسکول ،وزیرخزانہ ارون جیٹلی ویجل پور اور بی جےپی صدر امت شاہ ناران پورا میں ووٹ ڈالیں گے۔جن سیٹوں پر کل ووٹنگ ہوگی ان میں سے 2012 کے پچھلے الیکشن میں برسر اقتدار بی جےپی نے 52،کانگریس نے 39اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور آزاد نے ایک ایک سیٹ جیتی تھی۔گجرات کے چیف الیکٹورل افسر بی بی سوین نے بتایا کہ دوسرے مرحلے کےلئے تقریباً دو لاکھ انتخابی اور ایک لاکھ سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ووٹنگ کل صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک ہوگی۔اس دوران بھی پوری طرح وی وی پیٹ پر مشتمل ای وی ایم کا استعمال ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 22برسوں سے بی جےپی کےلئے 2019 کے لوک سبھا انتخابات کا سیمی فائنل کہے جانے والے اس الیکشن کو جیتنا برسراقتدار پارٹی کے لئے بے حد ضروری ہے۔دوسری سمت اپنے وجود کی لڑائی لڑ نے والی کانگریس کے نئے صدر راہل گاندھی کو اس میں پارٹی کی جیت سے زبردست فائدہ اور پارٹی کےلئے نئی طاقت مل سکتی ہے۔دوسرے مرحلے کی انتخابی مہم ووٹنگ سے 48گھنٹے پہلے ہی کل شام پانچ بجے بند ہوگئی تھی۔بی جےپی کےلئے پہلے مرحلے کی طرح ہی دوسرے مرحلے کی تشہیر کی کمان بھی خود وزیراعظم نریندر مودی نے اور کانگریس کے نئے صدر راہل گاندھی نے خود سنبھالی ہوئی تھی۔دوسرے مرحلے کی تشہیری مہم پہلے سے زیادہ تلخ ثابت ہوئی ۔مسٹر مودی اور مسٹر گاندھی نے ایک دوسرے کے خلاف سخت زبانی حملے کئے۔بی جےپی اور مسٹر مودی نے الیکشن میں پاکستان کی دخل اندازی کا بھی الزام لگایا۔اس کے علاوہ مسٹر منی شنکر ایئر کے مسٹر مودی کو نیچ کہے جانے کے بعد سے اس کی گونج بھی مسٹر مودی کی تقریباً ہر ریلی میں سنائی دی۔مسٹر گاندھی اور دیگر کانگریس لیڈران نے نوٹوں کی منسوخی،جی ایس ٹی،صنعت کاروں سے بی جے پی حکومت کے مبینہ میل جول جیسے پرانے موضوع کو اٹھانے کے علاوہ مسٹر مودی کے الزامات کا بھی سخت انداز میں جواب دیا۔تشہیر کے آخری دن دونوں نے الگ الگ مندروں میں درشن بھی کئے۔مسٹر مودی نے سی پلین کے ذریعہ بھی پرچار کیا۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh