logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

حیدرآباد : 26/ڈسمبر (شمس نیوز ایجنسیز)عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب کے کے ضمن میں صمدانی ایجوکیشنل سوسائٹی حیدرآباد و قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ‘ حکومت ہند کے تحت دو روزہ قومی سمینار  ’ جامعہ عثمانیہ کا صد سالہ سفر‘  شعبہ اردو‘ اردو اساتذہ و دار الترجمہ کی خدمات‘  کے موضوع پر منعقد افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اشرف رفیع سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا 1918ء میں جامعہ عثمانیہ کا قیام آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی دور اندیشی کا نتیجہ ہے۔آج یہ عظیم یونیورسٹی اپنے قیام کے سو سال مکمل کرنے جا رہی ہے۔انہوں نے کہا جب اس عظیم یونیورسٹی کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تو آصف سابع نے صرف ایک ہی دن میں اسکی منظوری دے دی تھی۔ساتھ ہی اس پر عمل آواری کی وقتاً فوقتاً تفصیلات پیش کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی۔نصاب کی تیاری کے لئے دار الترجمہ قائم کیا۔اور نصابی کتب کی تیاری کے لئے ہندوستان بھر کے ماہرین کی خدمت حاصل کی گئیں ‘ 1921 ء سے عثمانیہ یونیورسٹی میں باقائدہ اردو میڈیم تعلیم کا آغاز ہوا۔جو 1951ء تک جاری رہا۔1952ء میں لسانی بنیاد وں پر ریاستوں کے قیام کے بعدتعصبیت کا دور شروع ہوا اور عثمانیہ یونیورسٹی میں اردو میڈیم کو تبدیل کرتے ہوئے انگریزی میڈیم کر دیا گیا۔1988میں  عثمانیہ یونیورسٹی کی اردو میڈیم نصانی کتب پر مشتمل ایک لاری کو بیگم بازار منتقل کیا گیا۔جو اردو کی میراث تھی۔محترمہ اشرف رفیع نے کہا یونیورسٹی ایک علحدہ تہذیب ہوتی ہے۔اس طرح  عثمانیہ یونیورسٹی کی بھی ایک منفرد تہذیب تھی‘ اساتذہ کا معیار انتہائی بلند تھا فرمایا آج عربی مدارس اردو کو زندہ رکھے ہوے ہیں ۔ مولانا خلیل احمد ندوی نظامی سابق ماہر کتبات عربی و فارسی محکمہ آثار قدیمہ حکومت ہند و صدر صمدانی ایجوکیشنل سوسائٹی نے افتتاحی تقریرکرتے ہوے   عثمانیہ یونیورسٹی کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی ‘ کہا زبان اردو کے لئے  عثمانیہ یونیورسٹی کی خدمات کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔پروفیسر حبیب نثار صدر شعبہ اردو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی نے کہا  جامعہ عثمانیہ کی اردو ذریعہ تعلیم نے ساری دنیا کو متا ثرکیا۔عثمانیہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل دنیا کے کئی ممالک کے یونیورسٹز کے سر براہ رہ چکے ہیں۔جن کا تعلق حیدرآباد کے پرانے شہر سے تھا۔بابائے اردو مولوی عبد الحق ‘ عبدلماجد دریا بادی‘ مولانا عبدلاودود عثمانیہ یونیورسٹی کے با وقار سپوتوں میں شامل ہیں۔سابق وزیر اعلٰی ڈاکٹر چنّا ریڈی اور پی وی نرسمہا رائو  نے اسییونیورسٹی میںاردو میڈیم سے تعلیم حاصل کی تھی۔پروفیسر بیگ احساس سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب کو جس بڑے پیمانے پر منعقد کر نے کے اعلانات کئے گئے تھے  یونیورسٹی کے موجودہ ماحول سے اب یہ تقاریب نظر نہیں آتی۔جس  طرح تلگو مہا سبھا کا بڑے شان و شوکت سے انعقاد عمل میں لایا گیاعثمانیہ یونیورسٹی کی تقاریب کو پس پشت ڈال دیا گیا۔انہوں نے  سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی کی فہرست اور انکی گرا نقدر خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔کہا مسلمانوں میں اب اعلٰی تعلیم کا رجحان ختم ہو چکا۔طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تعداد گھٹ چکی ہے۔شعبہ اردو اب صرف ۳ پرفیسرز تک محدود رہ گیا۔خلیجی ممالک میں روزگار کے متلاشیان اعلٰی تعلیم کے بجائے انجئنیرنگ اور ڈپلومہ کورسز کو ترجیح دے رہے ہیں ‘ اب نہ یونیورسٹی کا کردار رہا اور نہ طلبہ کی شناخت باقی رہی ۔ مولانا حافظ محمد جیلانی صاحب سابق لکچرار محکمہ اعلی تعلیم کرناٹک نے بھی خطاب کیا ‘ دیگر مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر اطہر سلطانہ اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی ‘ ڈاکٹر ابرار الباقی اسسٹنٹ پروفیسر اردو ساتاواہانا یونیورسٹی ‘ ڈاکٹر محمد خلیل الدین صدیقی اسسٹنٹ پروفیسر اردو ‘ عظیم کالج لاتور ‘ مہاراشٹرا ‘ مولانا امین الحسینی ندوی لکچرار مولانا آزاد کالج سورت ‘ گجرات‘ اور ڈاکٹر مہتاب عالم مانویونیورسٹی شامل ہیں‘ ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد صدر شعبہ سیا سیات‘ عثمانیہ یونیورسٹی اورمحمود علی خان انچارج ساوتھ ریجن برانچ NCPUL نے مہمان کی حیثیت سے شرکت کی ۔ ڈاکٹر لئیق احمد صدیقی چیف کو ارڈینیٹر سمینار نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ‘ ڈاکٹر محمد جعفر جری چیر پرسن بورٹ آف اسٹڈیز شعبہ اردو ساتاواہانایونیورسٹی کنوینر سمینار نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ‘ مولانا انور الدین صدیقی کوآرڈینیٹر سمینار نے شکریہ آدا کیا ۔ 

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh