logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

ممبئی ۴؍ جنوری:(شمس نیوز ایجنسیز)جعلی نوٹ رکھنے کے معاملے میں گرفتار تین مسلم نوجوانوں کے مقدمہ میں فریقین کی جرح مکمل ہوگئی ہے جس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے معاملے کی سماعت ۱۸؍ جنوری تک ملتوی کردی۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم  جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔گلزاراعظمی نے مزید بتایا کہ ممبئی کی سیشن عدالت کے جج وی پی اہواڑ نے آج فریقین کی جانب سے داخل کیئے دستاویزات کو اپنے ریکارڈ پر لیتے ہوئے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ، اس سے قبل سرکاری اور دفاعی گواہان کی گواہی مکمل ہوئی تھی۔ اس معاملے میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ نے ملزمین کی پیروی کی جبکہ استغاثہ کی جانب سے ایڈوکیٹ روہنی سالیان نے اپنے دلائل عدالت کے سامنے پیش کیئے نیز استغاثہ کی جانب سے عدالت میںملزمین کے خلاف ۲۹؍  سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات کا اندارج کرایا جبکہ ملزمین کے حق میں دفاعی وکلاء نے ۸؍ گواہوں کو عدالت کے روبرو پیش کیا جس میں ملزمین کی اپنی گواہیاں بھی شامل ہیں۔دوران جرح ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ہارون نائیک کو پولس نے ممبئی انٹرنیشل ائیر پورٹ سے گرفتار کیا تھا جبکہ اس  کے پاس سے جعلی کرنسی کی بر آمدگی ہوٹل سے دکھائی گئی جو اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیکہ ملزمین کے خلاف جعلی مقدمہ قائم کیا گیا ہے نیز پنچ گواہوں کی گواہی سے بھی یہ بات واضح نہیںہوسکی کہ ملزمین کے قبضوں سے جعلی کرنسی ضبط کی گئی تھی۔ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو مزید بتایا تھا کہ ملزم ہارون نائیک ایک دیگر معاملے میں ملزم ہے اور ملزم کے قبضہ سے جعلی کرنسی ضبط  ہونے سے قبل سے ہی وہ پولس کسٹڈی میں ہے لہذا پولس کا یہ دعوی کہ ملزم کے قبضہ سے جعلی کرنسی ضبط کی گئی تھی مضحکہ خیز ہے۔واضح رہے کہاس معاملے میں ملزمین ہارون عبدالرشید نائیک سمیت اسرار احمد عبدالحمید، اظہر الاسلام محمد ابراہیم صدیقی کو مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ ATS  نے سال ۲۰۱۱ء میں گرفتار کیا تھا  اور ان کے خلاف تعزیرات ہند اور غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام والے قانونیّ(یو اے پی اے) کی مختلف دفعات سمیت دیگر قوانین کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور ملزمین پر الزام عائد کیا تھاکہ ان کے قبضہ سے غیر قانونی جعلی ہندوستانی کرنسی ضبط کی گئی تھی جس کا استعمال وہ دہشت گردانہ معاملات میں کرنا چاہتے تھے نیز انہیں یہ کرنسی سرحد پار سے مہیا کرائی گئی تھیں۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh