logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

حیدرآباد، 13جنوری(یواین آئی)تلنگانہ کے پریڈ گراونڈ سکندرآبادمیں تیسرے انٹرنیشنل کائٹ فیسٹیول کا آغاز ہوا ۔نائب وزیراعلی محمد محمود علی نے اس تین روزہ فیسٹیول کا افتتاح کیاجبکہ وزیرسیاحت اجمیرا چندولال ،محکمہ سیاحت کے سکریٹری بی وینکٹیشم ،محکمہ سیاحت کی کمشنر سنیتا بھگوت،محکمہ ثقافت کے ڈائرکٹر ایم ہری کرشنا اور قانون سازکونسل کے صدرنشین کے سوامی گوڑ بھی اس موقع پر موجود تھے۔نیشنل کیڈٹ کور نے فیسٹیول کے موقع پر مارچ میں حصہ لیاجبکہ سرکردہ تعلیمی اداروں کے طلبہ نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی ۔اس فیسٹیول کے دوران تمام اقسام کی پتنگیں نیلگوں آسمان پرنظر آئیں جن کو اڑانے کے لئے کئی بین الاقوامی سرکردہ پتنگ باز شہر پہنچے ۔2016میں اس فیسٹیول کا پہلی مرتبہ آغاز ہوا تھا جس کی میزبانی آغاخان اکیڈیمی کی جانب سے کی گئی تھی۔پہلے دوسال یہ فیسٹیول شمس آباد میں واقع آغاخان اکیڈیمی کے احاطہ میں منعقد کئے گئے تھے تاہم جاریہ سال تلنگانہ حکومت نے جو اس فیسٹیول میں اشتراک کر رہی ہے ، نے اس کے مقام کو تبدیل کردیا ۔تقریبا15ممالک سے جملہ 80 پتنگ باز اور 11پین انڈین کلبس کے پتنگ باز اس فیسٹیول میں حصہ لے رہے ہیں۔اس موقع پرہندوستان کا اپنی نوعیت کا پہلا منفرد سوئیٹ فیسٹیول بھی منعقد کیا گیا جس میں تقریبا ایک ہزا ر اقسا م کی مٹھائیاں رکھی گئی ہیں۔ان مٹھائیوں کی تیاری ریزیڈنٹس ایسوسی ایشنس نے کی ہے جن کا تعلق شہر حیدرآباد سے ہے۔سوئیٹ فیسٹیول کے ذریعہ ایک درجن سے زائد ممالک اور ہندوستان کی تقریبا 25ریاستوں کے ثقافتی مزہ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس فیسٹیول میں تقریبا ایک لاکھ افراد کی شرکت کی توقع ہے ۔ریاستی حکومت چاہتی ہے کہ اس فیسٹیول کے عوام کے قریب تر کیا جائے ، اسی لئے اس مرتبہ پریڈ گراونڈمیں اس کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ حیدرآباد میں دیگر ریاستوں کے ہزاروں افراد رہتے ہیں ، ان کو ان کے گھر کا احساس دلانے کے لئے یہ سوئٹ فیسٹول منعقد کیا گیا ہے ۔اس کائٹ فیسٹول میں شرکت کے لئے آنے والے افراد لڑکیوں کی تعلیم کے لئے رقمی عطیہ دیتے ہیں جو اس مرتبہ بھی برقرار رہے گا۔لڑکیوں کی تعلیم کے لئے عطیات کی وصولی کے لئے خصوصی ادارہ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ہر دن اس فیسٹول میں 30ہزار افراد کی شرکت کی توقع کی جارہی ہے۔ نائب وزیراعلی محمد محمود علی نے اپنے خطاب میں اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کیا ۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh