logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

حیدرآباد۔8فروری۔(یو این آئی) مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ندوی نے لوک سبھا میں منظور طلاق ثلاثہ بل کو طلاق کے نظام کو ہی ختم کردینے کا ایک منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ اس کی شدید مخالفت کرتا ہے اور اسے مسلمانوں کے ہی خلاف ہی نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف گردانتا ہے۔ ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ اگر حکومت اس بل کے ایسے تمام نکات جو شریعت سے ٹکراتے ہیں، حذف کردے تو بورڈ اس بل کو قبول کرنے تیار ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار شہر حیدرآباد میں کل سے شروع ہونے والے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سہ روزہ اجلاس کے سلسلہ میں اویسی اسپتال کے سالار ملت آڈیٹوریم و اسپورٹس سنٹر کنچن باغ حیدرآباد میں میڈیا سے بات چیت میں کیا۔مولانا نعمانی نے الزام لگا یا کہ بہت ہی ہوشیاری سے مرکزی حکومت نے صرف تین طلاق کے عمل کو ہی نہیں بلکہ طلاق کی تمام اقسام پر پابندی لگانے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ طلاق ثلاثہ سے متعلق جو قانون لایا گیا ہے ویسا قانون کسی بھی ملک میں نہیں ہے لہذا تلنگانہ کی حکمراں جماعت ٹی آر ایس اور آندھراپردیش کی حکمراں جماعت تلگو دیشم پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو اس بل کی مخالفت کرنی چاہئے۔ ’’وہ ضمیر کی آواز پر اس قانون کا جائزہ لیں اور اس بات کا عہد کریں کہ اس صورت میں اس بل کو قطعی کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا‘‘۔انہوں نے اس استدلال کے ساتھ کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے تو طلاق کی متعینہ شکلوں کو مانا ہے دعویٰ کیا کہ حکومت نے طلاق کے دیگر سسٹم پر ہی مبینہ پابندی عائد کرنے کی بات کی ہے۔ کہا کہ بل میں طلاق بائین کے لفظ کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس قانون کے ذریعہ عورت کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس شخص کے ساتھ زندگی گزارے جس سے وہ چھٹکارا پانا چاہتی ہے۔اس طرح یہ بل خواتین کے حقوق کے خلاف ہے کیونکہ’’ حکومت یہ چاہتی ہے کہ طلاق احسن اور طلاق حسن پر بھی پابندی لگائی جائے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قانون کے نقائص کو دور کرانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت کی جائے گی۔ اگر حکومت اس سلسلہ میں پہل کرتی ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ اس موقع پرمولانا سجاد نعمانی نے یہاں کل سے سہ روزہ اجلاس عام کے سلسلہ میں تفصیلات سےبھی واقف کروایا ۔ بورڈ کا یہ 26 واں اجلاس ہے جس میں پورے ملک سے500 علماء‘ دانشور اور ارکان بورڈ کی شرکت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نشست ورکنگ کمیٹی کی ہوگی اور بقیہ تین نشستیں ہوں گی۔ 11 فروری کو بعد مغرب دارالسلام ‘ آغاپورہ ‘ حیدرآبادمیں جلسہ عام ہوگا جس میں تلنگانہ اور آندھرا کے اضلاع اور دیگر شہروں سے بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے۔ دو روزہ اجلاس میں تجاویز اور قراردادیں پیش کی جائیں گی جن سے میڈیا کو واقف کروایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل میں جو نقائص ہیں‘ ان کو کیسے دور کیا جائے اس پر بھی بات چیت ہوگی۔اس موقع پر صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی ‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘ مولانا عمرین محفوظ رحمانی سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘ رحیم الدین انصاری رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘ میڈیا کوآرڈینیٹر ج ایم اے ماجد‘ سینئر صحافی جناب عزیز احمدموجود تھے۔انہوں نے بابری مسجد کمیٹی سے متعلق کہا کہ یہ کمیٹی اس کو دیئے گئے کیسس کی رپورٹ پیش کرے گی جس پر مباحث ہوں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے کئی مقامات پر مساجد آثارقدیمہ کے کنٹرول میں ہیں جس کی مبینہ مجرمانہ غفلت کے سبب یہ بند مساجد جرائم کا اڈہ بن چکی ہیں۔ اس سلسلہ میں بورڈ کی جانب سے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس نے پورے ملک کی ایسی مساجد کا سروے کیا ہے‘ جمہوری طریقہ کار پر قانونی کاروائی اس سلسلہ میں کی جارہی ہے جس کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بورڈ کے شعبہ خواتین کی رپورٹ بھی اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ اس کی بیداری مہم کے دائرہ کو وسیع کرتے ہوئے کئی خواتین کو اس میں شامل کرنے پر بھی بات چیت ہوگی۔ آخر میں حیدرآباد ڈکلریشن(اعلامیہ) جاری کیا جائے گا جس کے ذریعہ پوری قوم ‘ ہندوستانی مسلمانوں‘ برادران اسلام اور حکومت کے نام ایک پیغام دیا جائے گا۔ ماڈل نکاح نامہ میں تبدیلی کی تجویز پر انہوں نے کہا کہ بورڈ کے اجلاس کے ایجنڈہ میں شامل امور سے ہٹ کر کوئی مسئلہ اگر پیش کیا جاتا ہے تو اس پر صدر کی اجازت سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ بابری مسجد مسئلہ پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دستور شریعت کی روشنی میں جو کام ہوسکے گا وہ کام کیا جائے گا۔ اس سوال پر کہ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے سے متعلق بیانات دیئے جارہے ہیں‘ تو انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کے جو بیانات دیئے جارہے ہیں وہ عدالت کی توہین ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر التواء ہے۔ اس طرح کی باتیں کرنا مناسب نہیں ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس کا نوٹ لے۔ 

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh