logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

ممبئی 6دسمبر(یواین آئی )علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طارق محمود نے واضح طورپر کہا ہے کہ اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کی ترقی اور فلاح وبہبودان کی تعلیمی ترقی کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اس کے لیے ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی کہ ہم سب متحد ہوکراس ضمن میں کام کریں ۔اور وقت کی ضرورت کے مطابق تعلیم پر پوری توجہ دینا ہوگی ۔گزشتہ شب اے ایم یو کونسل اور ایکزیکٹیو کورٹ کے سنیئر ممبر اور ڈائرکٹر قومی بورڈ برائے وقف (نواڈکو)اور ایم آرسی سی کے جنرل سکرےٹری ڈائرکٹر آصف فاروقی کے ذریعہ منعقد کی جانے والی استقبالیہ تقریب میں ممبئی کے مختلف شعبوں اور میدانوں میں سرگرم معززین سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر طارق محمودنے واضح طورپر کہا کہ دراصل سچر کمیٹی نے ہمیں آئینہ دکھا دیا ہے کہ دیگر امور کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں مسلمان سب سے زیادہ پسماندہ ہیں اوریہاں اس بات کا ذکر کرناخصوصی طورپر ضروری ہے کہ ملک کے مغربی اور جنوبی خطوںکے مقابلے میں شمالی ہند کے مسلمان اکثریتی ریاستوںاترپردیش اوربہارکے ساتھ ہی مغربی بنگال اور آسام میں کافی پسماندہ ہیں اور ان کی تعلیمی ترقی پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔اس موقع پر بوہر فرقہ شہزادہ ڈاکٹر قائد جوہر صاحب عزالدین ،راجیہ سبھا ایم پی ایڈوکےٹ مجید میمن ،یوٹی آئی کے گروپ صدرامتیازالرحمن ،سابق ایم پی ڈاکٹر اختر حسن رضوی ،سنیئر صحافی حسن کمال،خلیل زاہد ،سرفراز آرزو،جاوید جمال الدین ،سماجی کارکن یوسف لکڑا والا،ڈاکٹر ایم اے پاٹنکر ،صنعت کار وی کے شریف،فاروق سوداگر،آئی ٹی ماہر فیصل فاروقی ،انجمن اسلام کے ٹرسٹی عقیل حفیظ اور دیگر عمائدین اور معززین شریک ہوئے اور اے ایم یو اور مسلمانوں کے مسائل پر کھل کر تبادلہ خیال کیا ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں تین اے ایم یو مراکزبہار میں کشن گنج،کیرالا میں ملالم پورم اور مغربی بنگال میں مرشد آباد میں واقع ہیں اور فی الحال مہاراشٹر کے ممبئی اور اورنگ آباد میں مراکز کھولنے کے منصوبے پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے ،کیونکہ حکومت کی طرف سے اس ضمن میں مثبت رُخ نظر نہیں آرہا ہے اور ان سابقہ مراکز کے لیے منظورشدہ فنڈ 370کروڑ میں سے صرف 120کروڑروپے ہی جاری کیے گئے ہیں۔ان مراکز کا قیام سیاسی اثر میں کیا گیا اور طلباءکی کمی کا ایچ آرڈی منسٹری ہمیشہ رونا رورہی ہے ۔سابق وزیر سمرتی ایرانی نے ان مراکز پر اعتراض کیا تھا ،لیکن موجودہ وزیر پرکاش جاوڈیکر نے غورکرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ،بقیہ فنڈ نہ دینے کے بارے یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ پلاننگ کمیشن کے ساتھ ہی فنڈ کا خاتمہ ہوگیاہے۔طارق منصور نے مزید کہا کہ المنائی ایک عظیم المنائی ہے اور ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور سرگرم ہیں اور یونیورسٹی سے ان کی وابستگی ہے اور اس کے مفاد میں خلیج ،کناڈا ،امریکہ اورافریقی ممالک اورخصوصی طورپر ماریشس میں سرگرم ہیں۔اسی طرح اے ایم یو کے سابق طلباءمیں ملک کے صدر،نائب صدور،سربراہ مملکت اور مجاہدین آزادی ،فلم اداکاروغیرہ شامل ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں ادارہ کا نام روشن کیا۔ ہندوستان میںمسلمانوں میں تعلیمی بیداری کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس طرح ہمیں سرسیّد کے مشن کو مزید آگے بڑھانا ہے ،جنہوں نے ہمیشہ ماڈرن ایجوکےشن کی وکالت کی تھی۔اے ایم یو کے بارے میں انہوں نے ایک بات پر توجہ مبذول کرائی کہ یہاں سے ایم بی بی ایس سالانہ دس ہزار روپے ادا کرکے اورچھ سال میں 60ہزار وپے میں مکمل کیاجاسکتا ہے۔انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ یوجی سی نے اے ایم یو کے فنڈ میں کوئی کٹوتی نہیں کی ہے البتہ فنڈ کی کمی تو ہر وقت بتائی جاتی ہے ۔نہ ہی اقلیتی کردار کے بارے میں کوئی سرکاری موڑ ظاہر ہوا ہے ۔اے ایم یو اوربی ایچ یو سے بالترتیب مسلم اور ہندونکالنے کے معاملہ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کے زیرسماعت ہے۔آصف فاروقی نے وائس چانسلر کی ممبئی تشریف آوری کا مقصد بتایا کہ اے ایم یو کے چانسلر بوہرہ روحانی پیشوا سیّدنا مفضل صاحب سے ملاقات کرنی تھی اور آج صبح دونوں حضرات کی ملاقات سابقہ کی رہائش واقع ملبارہل پرہوئی اور یونیورسٹی کی بہتر ی اور تعلیمی ترقی پر گفتگو ہوئی اس موقع پر اے ایم یو رکن آصف فاروقی اور شہزاد قائد جوہر صاحب ودیگر احباب موجودتھے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh