logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

سورت: گجرات اسمبلی انتخابات کےلئے کل ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات کی تشہیر ختم ہونے تک برسر اقتدار بی جے پی کی جانب سے انتخابی منشور جاری نہ ہونے پر آج پاٹی دار آرکشن آندولن سمیتی (پاس) کے لیڈر ہاردک پٹیل نے آج طنزیہ لہجے میں کہا کہ لگتا ہے کہ ان کی فرضی سیکس سی ڈی بنانے کے چکر میں بی جےپی انتخابی منشور ہی بنانا بھول گئی ہے۔ ہاردک نے وزیر نریندر مودی کے لئے کانگریس لیڈر منی شنکر ایئر کے نیچ لفظ کا استعمال کرنے کے معاملے میں ماضی میں مسٹر مودی کےکانگریس کی صدر سونیا گاندھی کےلئے مبینہ طورپر توہین آمیز زبان کا استعمال کرنے پر بھی طنز کیا۔پاس لیڈر نے آج نامہ نگاروں سے کہا کہ سی ڈی بنانے کے چکر میں بی جےپی انتخابی منشور بنانا بھول گئی ،کل ووٹنگ ہے۔انہوں نے مسٹر مودی پر اس معاملے میں براہ راست طنز کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ گجرات میں ترقی کے ساتھ ساتھ انتخابی منشور بھی لاپتہ ہے۔صاحب کوئی کچھ بھی نہیں کہے گا مہربانی کرکے آپ ایک بار انتخابی منشور اپنے انداز میں پیش کردیجئے۔ایئر معاملے کے سلسلے میں ہاردک نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے لیڈر نےغلط لفظ استعمال کیا اور پارٹی نے اسے معطل کردیا،لیکن حال میں وزیراعظم جب وزیراعلی تھے تب انتخابی تشہیر میں ہندوستان کی بہو کو بار گرل کہتے تھے کیا وہ صحیح تھا؟پہلے آپ نے سونیا جی کی توہین کی اور اب آپ کے اوپر آیا تو غلط لگتاہے۔ہاردک نے کہا کہ کالر اونچا کرکے ووٹ دینے جائیں تو ہم فخر سے کہہ پائیں گے کہ ہم نے دنیا کی سب سے بڑی پارٹی (بی جےپی کا نام نہیں)کو گرا دیا۔انہوں نے آج یہاں سنت موراری باپو کی کتھا میں انتخابی ضابطہ اخلاق کے نام پر انہیں جانے سے روکنے کےلئے بھی بی جےپی کی تنقید کی۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh