logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

لکھنؤ، 11 جنوری ( یو این آئی) اترپردیش حکومت نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو کی سزا کم کئے جانے کے تعلق سے جالون کے ضلع مجسٹریٹ ( ڈی ایم) کی مبینہ سفارش کے معاملے میں جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔جالون کے ضلع مجسٹریٹ منان اختر پر مسٹر یادو کی سزا کم کرنے کی سفارش کرنے کا الزام لگایاجارہا ہے۔ تفتیش جھانسی ڈویژن کے کمشنر امت گپتا کو سونپی گئی ہے۔ مسٹر گپتا نے بتایا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ کل دیر شام ریاستی حکومت نے تحقیقات کیلئےمقررکیا ہے، لیکن ابھی تک ان کے پاس تحریری حکم نامہ نہیں پہنچا ہے۔ آرڈر پہنچتے ہی وہ تحقیقات شروع کر دیں گے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مسٹر یادو کو سزا سنانے والے جج جالون کے رہنے والے ہیں اسی لیے مسٹر یادو کے لوگوں نے جالون کے ضلع مجسٹریٹ سے رجوع کیا تھا۔ دریں اثنا جالون کے ضلع مجسٹریٹ منان اختر نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اس سلسلے میں کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ وہ بہار کے رہنے والے نہیں ہیں۔ بنیادی طورپر وہ آسام کے رہنے والے ہیں۔ان کی نہ تو جج سے بات ہوئی ہے اور نہ کسی دوسرے سے۔ وہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ ان پر اس طرح کے الزامات کس طرح لگائے جارہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم ہے کہ حکومت نے اس سلسلے میں تحقیقات کا حکم دیا ہے، لیکن ان سے اگر کچھ پوچھا جاتا ہے تو وہ اپنی بات رکھیں گے۔قابل غور ہے کہ آر جے ڈی صدر کو رانچی میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے چارہ گھوٹالے کے ایک معاملہ میں ساڑھے تین سال کی سزا اور دس لاکھ روپے جرمانہ سنایا تھا۔ وہ جھارکھنڈ کی ایک جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh