logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

نئی دہلی، 16 جنوری (یو این آئی) 'ججوں کے تنازعہ پر آج دو اہم قانونی اداروں کی طرف سے جہاں متضاد بیانات سامنے آئے، وہیں حکومت کے سب سے بڑے قانونی اہلکار ( اٹارنی جنرل) نے بھی اس بحران کے سلجھنے میںم مزید دو تین روز کا وقت لگنے کی بات کہی ہے۔اٹارنی جنرل کے وینو گوپال نے آج کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ عدالت کے چار سینئر ججوں کی پریس کانفرنس سے پیدا ہونے والا تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اس میں مزید دو سے تین دن لگ جائیں گے۔ اٹارنی جنرل نے کل کہا تھا کہ چائے -کافی پر غیر رسمی بات چیت میں ججوں تنازعہ حل ہو چکا ہے۔ اس بارے میں آج پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ یہ تنازعہ ابھی نہیں سلجھ سکا ہے۔ ایسی امید کی جانی چاہئے کہ اس تنازعہ کا مکمل تصفیہ آئندہ دو تین دنوں میں ہو پائے گا"۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی ایس) کے صدر وکاس سنگھ نے بھی کہا ہے کہ اس بحران کا حل اس ہفتے کے آخر تک ہو پائے گا۔ مسٹر وکاس سنگھ نے کہا کہ جب اتوار کو ایس سی بی ایس کا سات رکنی وفد چیف جسٹس دیپک مشرا سے ملا تھا تو انہوں نے ایک ہفتے میں حالات معمول پر آنے کی بات کہی تھی۔ اب ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ نارمل ہونے لگا ہے۔ دریں اثناء، وکالت کا سپریم ادارہ بار کونسل آف انڈیا ( بی سی آئي) نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اب کسی طرح کا بحران نہیں ہے۔ بی سی آئی کے صدر منن کمار مشرا نے کہا کہ پیر کو کونسل کا سات رکنی وفد نے 12 جنوری کی پریس کانفرنس میں شامل ہونے والے چار ججوں میں سے ایک جسٹس رنجن گوگوئی سے ملاقات کی تھی اور انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اب کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ مسٹر مشرا نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ میڈیا کے ایک سیکشن میں ججوں تنازعہ حل نہ ہونے کی خبر کس طرح آ رہی ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh