logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

نئی دہلی، 16 جنوری ( یواین آئی) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ کوئی بالغ لڑکی یا لڑکا اپنی خواہش سے کسی بھی شخص سے شادی کر سکتی/سکتا ہے اور کھاپ پنچایت اس میں کوئی دخل نہیں دے سکتی۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم كھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے محبت کی شادی کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں پر کھاپ پنچایتوں طرف سے کیے جانے والے مظالم پر لگام لگا پانے میں ناکام رہنے پر مرکزی حکومت کو پھٹکار بھی لگائی۔جسٹس مشرا نے کہا’’کوئی بھی بالغ لڑکی یا لڑکااپنی پسند کے کسی بھی شخص سے شادی کر سکتی /سکتاہے۔ کھاپ پنچایت اس پر سوال نہیں کھڑا کر سکتی‘‘۔عدالت نے کہا کہ بین برادری شادی کرنے والے عاشق جوڑوں کے خلاف کھاپ پنچایتیں یا ایسی کسی تنظیم کی جانب سے کی گئی ظلم و زیادتی کو مکمل طور غیر قانونی قرار دیا۔کھاپ پنچایتوں کے خلاف اس کی کارروائیوں پر انتباہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا ’’ اگر مرکزی حکومت کھاپ پنچایتوں کو محدود کرنے کی سمت میں قدم نہیں اٹھاتی تو عدالت اس میں مداخلت کرے گی‘‘۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh