logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

آپﷺبحیثیت شوہر

Thu 14 Dec 2017, 14:54:03

گھریلواورخانگی زندگی بڑی اہمیت کی حامل ہے،زندگی کایہ شعبہ سکون بخش اورنشاط انگیزہوتویہ نہ صرف ایک گھرکے لئے نافع اورسودمندثابت ہوتاہے؛بلکہ اس سے نوواردمہمان کی صحیح اورٹھوس تربیت ہوتی ہے اوراس کے اخلاق ورجحانات کی تعمیربھی ہوتی ہے،اورخاندانی نظام کی بقاء اوراستحکام بھی اسی پرموقوف ہے،اوراگرخدانخواستہ زندگی کایہ پہلوکج روی اورناہمواری کاشکارہو،افتراق وانتشاراوربغض وعنادنے زندگی کے اس پہلوکوتاریک بنادیاہوتوایک طرف اس سے خاندانی نظام کاشیرازہ بکھرکررہ جاتاہے تودوسری طرف نسل نوبھی ایسے جہنم زارماحول میں صحیح اورٹھوس تربیت سے محروم ہوتی ہے،جس کی وجہ سے وہ اخلاق وکردارکے لحاظ سے قطعاغیرذمہ دارہوتی ہے،اورمعاشرے کاعضومعطل اورناکارہ جزوثابت ہوتی ہے۔نکاح ایک پائیداررشتہآپﷺکی سیرت طیبہ پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ اوررفیق خضرہے،زندگی کے ہرموڑپرسیرت طیبہ انسان کی رہنمائی کرتی ہے،اورزندگی کے تاریک گوشوں کواپنی ضوفشانی سے تابناک بنادیتی ہے،میاں بیوی کارشتہ ایک پاکیزہ اورمقدس رشتہ ہے،شریعت کامنشایہ ہے کہ جب زن وشوکے مابین یہ رشتہ قائم ہوجائے توتادم حیات باقی رہے،اوراس پر محبت وخلوص کاپختہ رنگ بیٹھ جائے،ظاہرہے کہ یہ چیزاسی وقت وجودپذیرہوسکتی ہے جب کہ زوجین میں سے ہرایک اپنے اپنے حقوق کواداکریں،اوراپنے رفیق حیات کے ساتھ خوش گواراوردوستانہ تعلقات کوفروغ دیں،تاہم یہ بھی ایک ناقابل انکارحقیقت ہے کہ اس رشتہ کی بقاء اوراستحکام میںشوہرکاغیرمعمولی کردارہوتاہے،اورشریعت مطہرہ نے زمام نکاح اسی کے ہاتھ میں سونپاہے،اسی لئے ایک شوہرکااپنی بیوی سے کیساتعلق ہوناچاہیے؟اورشوہرکواپنی رفیقۂ حیات کے ساتھ کیساطرزعمل اختیارکرناچاہیے؟اس کے لئے ہمیں سیرت طیبہ سے سبق لینے اوراس کواپنی عملی زندگی میں برتنے کی ازحدضرورت ہے۔بیوی کے کاموں میں دلچسپیسرکاردوعالم ﷺکے کاندھوں پرنبوت کی بھاری ذمہ داریاں عائدکی گئی تھیں،جس کی وجہ سے آپﷺکی خارجی وبیرونی زندگی بہت ہی مصروف اورصبرآزماتھی،لیکن بایں ہمہ آپﷺکی سنت مبارکہ یہ تھی کہ جب گھرتشریف لے جاتے توکبھی آٹاگوندھ دیتے توکبھی گھرکی دیگرضروریات پوری کردیتے،حضرت عائشہؓسے آپﷺکے گھریلومعمولات کے با رے میں دریافت کیاگیاتوانہوں نے بتایا:اپنے سرسے جوئیں نکالتے،اپنی بکری کادودھ دوہتے،اپنے کپڑے سی لیتے،اپنی خدمت خودکرلیتے،اپنے جوتے سی لیتے،اوروہ تمام کام کرتے جومرداپنے گھروں میں کرتے ہیں،وہ اپنے گھروالوں کی خدمت میں لگے ہوتے جب نمازکاوقت ہوتاتوچھوڑکرچلے جاتے۔(مسنداحمد)آپﷺکے طرزعمل سے ایک کامیاب اورخوش گوارزندگی کااصول معلوم ہوتاہے،یہ ٹھیک ہے کہ مردوعورت کے مابین تقسیم کارہے،مردنے بیرونی اورخارجی امورکی ذمہ داری لے رکھی ہے،اورعورت نے گھریلواورخانگی امورکی ذمہ داری لے رکھی ہے،تاہم اس رشتہ کوامن ومحبت کاگہوارہ بنانے اوراس کومضبوط سے مضبوط تربنانے کے لئے شوہرپریہ اخلاقی ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ عورت کے کاموں سے دلچسپی لے،اورگھریلوکاموں میں اس کاہاتھ بٹائے،اورگھریلوامورکے متعلق مشورے دے۔عورت کی رائے کااحترامآپﷺکی ازدواجی زندگی کاایک نمایاں اورواضح پہلویہ بھی تھاکہ آپﷺازواج مطہرات کی رائے کااحترام کرتے تھے،صلح حدیبیہ کے موقع پرجب کفارمکہ نے آپﷺاورتقریباپندرہ سومسلمانوں کوعمرہ کرنے سے روک دیا،اورآپﷺنے غیرمعمولی فراست اوربصیرت ودوراندیشی سے کفارمکہ سے بہ ظاہردب کرصلح کرلی،صلح نامہ تحریرہونے کے بعدآپﷺنے صحابہ کرام ؓسے فرمایا:کھڑے ہوجائواوراپنے جانوروں کوذبح کرو،لیکن تین مرتبہ کہنے کے بعدبھی صحابہ کرامؓ…جوطبعی طورپررنجیدہ اورکبیدہ خاطرتھے،اورغم سے نڈھال تھے…اس کے لئے کھڑے نہ ہوئے،آپﷺحضرت ام سلمہؓکے پاس تشریف لائے،اورصحابہ کرام ؓکے اس طرزعمل کاتذکرہ کیا،ام سلمہؓجوعقلمنداورمزاج فہم تھیںنے کہا:آپ ان سے کچھ نہ کہیے،آپ کھڑے ہوکراپنااونٹ ذبح کردیجیے اورحلق کرالیجیے،آپﷺنے ان کی رائے قبول کی،چنانچہ آپ باہرتشریف لائے،اپنی قربانی کی،اورحلق کرایا،آپ ﷺکودیکھ کرصحابہ کرام نے بھی قربانیاں کیں،اورحلق کرایا،ہجوم کایہ عالم تھاکہ ہرایک دوسرے پرٹوٹ رہاتھا،اورعجلت اس قدرتھی کہ ہرشخص حجامت بنانے کی خدمت انجام دے رہاتھا۔(بخاری،حدیث نمبر:۲۷۳۱)اس سے معلوم ہوتاہے کہ اہم امورمیںعورت سے رائے لینی چاہیے،اوررائے پسندآنے کی صورت میں اس پرعمل بھی کرناچاہیے۔گھروالوں کے دین کی فکرآپﷺکی ازدواجی زندگی کاایک تابناک اورلائق تقلیدپہلویہ بھی ہے کہ آپﷺاپنے اہل خانہ کی دین کی فکرکرتے تھے،اوران کودینداربنانے کااہتمام کرتے تھے،حضرت عائشہؓفرماتی ہیں:آپﷺکامعمول تھاکہ جب کبھی گھرمیں تشریف لاتے توقدرے بلندآوازسے یہ کلمات دہراتے:اگرابن آدم کے پاس مال کے دوبھرے ہوئے میدان ہوں توبھی آدمی تیسرے میدان کی حرص کرے گا،اس کے حرص کی منہ کوصرف قبرکی مٹی ہی بھرسکتی ہے۔(شعب الایمان،حدیث نمبر:۹۷۹۹)آپﷺسے ان کلمات کوبارباردہرانے کامقصدیہ تھاکہ اہل بیت کودنیاکی بے ثباتی اورفانی ہونے کایقین دلوں میں بیٹھ جائے۔آج یہ دیکھنے میں آیاہے کہ کسی حدتک مردحضرات نمازوں کے پابندہوتے ہیں،تلاوت قرآن اورنوافل کااہتمام کرتے ہیں،لیکن ان کے گھرمیںدین کاماحول نہیں ہوتاہے،ان کے بیوی اوربچے فرائض وواجبات سے غفلت اورسستی برتتے ہیں،آپﷺکی سیرت طیبہ سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ ہم اپنے گھروالوں کودینداربنانے کااہتمام کریں،انہیںمرضیات خداوندی پرچلنے کی عادت ڈالیں۔بیوی سے اظہارمحبتبیوی سے محبت وتعلق کااظہاربھی اس رشتہ کی پختگی اوراستحکام میں غیرمعمولی اوراہم کرداراداکرتاہے،آپﷺاپنی ازواج مطہرات سے وقتافوقتامحبت کااظہارکرتے تھے،حضرت عائشہؓفرماتی ہیں:ایک مرتبہ میں پانی پی رہی تھی،اتنے میں آپﷺگھرتشریف لائے،اورفرمایا:عائشہ!تھوڑاپانی پچانا،میں نے پانی بچادیا،آپﷺقریب آئے،اورپوچھاعائشہ!تم نے اپنے ہونٹ کہاں لگائے تھے؟حضرت عائشہؓکے بتلانے پرآپﷺنے گلاس کے اسی حصہ پرہونٹ لگاکرپانی نوش فرمایا۔(نسائی)ایک روایت میںحضرت عائشہؓفرماتی ہیں:میں حالت حیض میں کھانے کے دوران ہڈی چوستی توآپﷺجہاں سے میں نے اس ہڈی کوچوساہوتاوہاں منہ رکھ کرہڈی کوچوستے ۔(مسندابویعلی الموصلی،حدیث نمبر:۴۷۷۱)بیوی کے اعزاء واقارب کاخیالہرانسان کواپنے اعزاء واقارب سے جذباتی لگائوہوتاہے،بیوی کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ میراشوہرمیرے رشتہ داروں کے ساتھ اچھائی سے پیش آئے،اورا ن سے بہترسلوک کرے،حضرت عائشہؓفرماتی ہیں:مجھے حضرت خدیجہ پرغیرت آتی تھی،جب کہ میں نے ان کودیکھابھی نہیں تھا،اوروجہ اس کی یہ تھی کہ آپﷺکثرت سے ان کاذکرکیاکرتے تھے،کبھی بکری ذبح کرتے تواس کاگوشت حضرت خدیجہؓکی سہیلیوں میں بھیجاکرتے تھے۔(بخاری)اس سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ بیوی کے رشتہ داروں کے ساتھ خیرخواہی اورحسن سلوک کرے،اوران کے لئے وقتافوقتاہدایابھیجتارہاکرے،بیوی کے سامنے اس کے رشتہ داروں کی برائی نہ کرے،اورنہ ان کی پیٹھ پیچھے غیبت کرے،اس سے زوجین میں محبت بڑھے گی،اورازدواجی رشتہ پائیداراورپرسکون ہوگا۔اللہ تبارک وتعالی سے دعاء ہے کہ امت مسلمہ کوصحیح اورحق بات سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے،اوربحیثیت شوہرآپﷺکاجواسوہ مبارکہ ہے اس کواپنی زندگی کے اندرنافذکرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین ثم آمین۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh