logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

محمد عبد اللّٰہ جاوید ( براداران وطن کی تہذیب اور ثقافت کے تناظر میں حج کے تصور اور اسکی اہمیت و افادیت کی وضاحت) چند دنوں بعدایام حج شروع ہوں گے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں مسلمان فریضہ ٔحج ادا کرتے ہیں جس میں وطن عزیز کے ہزاروں مسلمان شامل ہیں ۔ہمارا وطن چونکہ مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کا گہوارہ ہے‘ یہاں ہر مذہب کی تہذیب کے بارے میں جاننا اور سمجھنا‘ نہ صرف قومی یکجہتی کیلئے ناگزیر ہے بلکہ اسی سے ممکن ہے کہ مختلف قومیں اور برادریاں آپسی تعاون و اشتراک کے ساتھ نیکیوں کے فروغ اور برائیوں کے ازالہ کی کوشش کرسکیں گی جس کی فی الوقت ہمارے ملک کو شدید ضرورت ہے۔یہ مضمون کا مدعا یہی ہے کہ برادران وطن کے سامنے انکے ہاں منائے جانے والے میلوں اور جاتروں کے پیش نظر حج کی تفصیلات بیان کی جائیں ۔ برادران وطن کے دل میں یہ خیال ضرورآتا ہوگا کہ یہ حج ہے کیا؟ کیوں یہاں اس ملک سے اور دنیا کے کونے کونے سے مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں ؟ کیا مسلمانوں کی یہ یاترا اسی طرح کی ایک مذہبی رسم ہے جیسے میلے اور جاترے ہوتے ہیں ؟ اس کے کیا روحانی اور اخلاقی فوائد ہیں ؟ان سوالوں کے جوابات سے پہلے آئیے ایک سرسری سا جائزہ لیتے ہیں کہ دیگر مذاہب میں ایسی عبادت کا کیا تصورپایا جاتا ہے؟ ہندوستان کے میلے اور جاترے کسی بھی دوسرے مذہبی کلچر کو سمجھنے کیلئے آپ اس کلچر کی یادذہن میں تازہ کرلیں جس کو خود مانتے اوراپناتے ہیں ۔ کثیر تعداد ایک ایسے کلچر سے وابستہ ہے جو ہمارے سامنے بے شمارتیوہاروں ‘ میلوں اور جاتروں کی شکل میں اجاگر ہوتا ہے۔ ہندوستان کے مختلف مقامات پر سینکڑوں تہذیبی و ثقافتی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں ۔اور ہر ریاست کے مخصوص کلچر کے لحاظ سے ہرمذہبی گروہ کا اپنے ایک یا اس سے زائد تیوہار ‘میلے اور جاترے ہوا کرتے ہیں ۔ اگر اس کے پیش نظر ہندوستان جیسے رنگا رنگ سماج کا جائزہ لیں تو بے شمار تفصیلات سامنے آئیں گی ۔یہاں چند کا ذکر کیا جارہا ہے۔ آسام کا راس میلہ (Raasmela)بلاسی پارا ضلع ڈھبری میں مکمل ایک ماہ نومبرمنایا جاتا ہے۔جھارکھنڈ کے سایل مقام ضلع ہزاری باغ پرمنایا جاناوالا شیوراتری(Shivaratri) میلہ ماہ فروری ہی میں پندرہ دن منایا جاتا ہے۔ریاست چھتیس گڑھ کا راجم میلہ (Rajim Mela)  رائے پور مقام پر جنوری ‘فروری کے تقریباً پندرہ دن منایاجاتا ہے۔فرید آباد ‘ہریانہ کے مقام پر ماہ فروری کے پندرہ دن منائے جانا والا سورج کنڈ(Surajkund)میلہ ہے۔جبکہ آندھرا پردیش کے تروپتی مقام پر ماہ ستمبر اور اکتوبر کے دس دن برھمواتسو(Brahmotsavam) کا اہتمام کیا جاتاہے۔ریاست تلنگانہ میں ورنگل مقام پر ہر دوسال میں ایک بارماہ فروری میں منائے جانے والے میدرم جاترا(Medaram Jatra) کو کمبھ میلے کے بعد سب سے بڑا میلہ مانا جاتاہے۔کرناٹکاکے شہر میسورمیں دسہرا ماہ اکتوبر کے تقریباً۲۸ دن منایا جاتا ہے۔علاوہ ازیں اس ریاست میں ہمپی اتسو‘ہاسپیٹ‘سنگ میشورجاترا ہری ہر‘ ہاوانور میلہ‘ دھارواڑ جیسے قابل ذکر ہیں جو مختلف مہینوں میں منائے جاتے ہیں ۔ برادران وطن کا سب سے بڑا مذہبی پروگرام” کمبھ میلہ” ہے جو ہر تین سال بعد ہندوستان کے چار بڑے مقامات ہری دوار‘ الہ آباد‘ ناسک اور اجین میں منایاجاتا ہے۔تقریباً تین ماہ اور چودہ دن چلنے والے اس مہا کمبھ میں ملک بھر سے لاکھوں لوگوں کی شرکت ہوتی ہے اور اسے دنیاکا ایک بڑا اور پرامن اجتماع مانا جاتاہے۔ کمبھ میلے کے بارے میں مختصر یہ کہ اسے ایک روحانی سفر کا ررجہ حاصل ہے اوریہ مانا جاتا ہے کہ اس سفرکے اختیارکرنے سے گناہ دھل جاتے ہیں ۔اس مہا کمبھ میلے کے موقع سے پیشوائی جلوس (Peshwai Procession)کا اہتمام ہوتا ہے جس سے میلے میں سادھوؤں کی آمد ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ندی میں نہانا‘ مذہبی خطابات‘ بھگتی گیت‘ غرباء اور دیگر معزز مرد و خواتین کیلئے اجتماعی طعام جیسی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں ۔ اس میلہ کا ایک اور اہم حصہ عام زائرین کا سادھوؤ ں سے ملنا( Darshan) ہے۔ کمبھ میلے کے لئے عام لوگوں کے واسطے کوئی مخصوص لباس نہیں ہوتا البتہ سادھو لوگ زعفران لباس میں ملبوث رہتے ہیں اور اپنے جسم پر راکھ مل لیتے ہیں ۔ان میں بھی ناگ سنیاسی جیسے سادھو ؤں کے جسم پر سوائے مختصر کپڑے کے کچھ اورنہیں ہوتا اورسارا جسم راکھ سے اٹا ہوا ہوتا ہے۔  ہندوستان میں منائے جانے والے تمام تیوہاروں اور میلوں اور جاتروں کا تذکرہ یہاں ممکن نہیں لیکن جتنا بھی ذکر ہوا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر تیوہار اور میلہ اور جاترا ایک خاص مقصد اور متعین مدت کیلئے منعقد ہوتا ہے۔ لوگوں کی تعداد کے اعتبار سے کمبھ میلہ ‘ فاصلے کے لحاظ سے امرناتھ یاترا اورتقریباً ریاستوں میں منائے جانے والے میلے کے لحاظ سے دسہرا……اہم مانے جاتے ہیں ۔ ہندوستان کی مشہوریاترائیں ہمارے ملک میں بعض مشہور یاترائیں ہیں جو کسی ایسے مقام کیلئے اختیار کی جاتی ہیں جہاں ندی‘جھیل یا سمندر ہو۔ان یاترا کو تیرتھ یاترا کہا جاتا ہے ۔ان میں ایک دھام ‘دودھام ‘تین دھام اور چاردھام تیرتھ یاترائیں ہوتی ہیں ۔دھام کے معنی مقام کے ہیں ۔ایک مقام تک محدودیاتراہوتو ایک دھام تیرتھ یاترا اور اگر چار مقامات کیلئے ہو تو چار دھام تیرتھ یاتراکہلاتی ہے۔ سب سے بڑی اورمشہور کاشی یاترا (Kasi Yatra)ہے۔ اس یاترا کی روایات کو ملحوظ رکھتے ہو ئے اکثر و بیشتر ہندو‘ ننگے پائوں اسے اختیار کرتے ہیں ۔اس یاترا کے موقع سے رامیشورم ‘ الہ آباد اور گیا جیسے مقامات کی زیارت اور گنگا ندی میں مخصوص پوجا کا اہتمام ہوتا ہے۔ دوسری بڑی یاترا مانساسروور (Manasarovar) یاترا ہے۔مانساسروور تبت کے کیلاش پربت(Mount Kailash)کے قریب واقع تازہ پانی کی ایک جھیل ہے۔یہ نہ صرف ہندوؤ ں بلکہ بدھسٹوں اور جینیوں کے نزدیک بھی ایک مقدس مقام ہے۔اس یاترا کے موقع سے کیلاش پربت کے اطراف ننگے پائوں طواف کرنا(circumambulate) ایک اہم کام مانا جاتا ہے۔ان یاترائوں کے علاوہ پوری‘اڑیسہ پر منعقدہونے والی جگناتھ رتھ یاترا ( Jagannadh Rath Yatra)‘جھارکھنڈ کی دیوگھر (Deoghar) یاترا‘چار دھام یاترا(Char Dham Yatra)جو ملک کے چار مختلف مقامات ‘ بدری ناتھ‘دوارکا‘جگناتھ پوری اور رامیشورم سے تعلق رکھتی ہے‘ بڑی اہم مانی جاتی ہیں ۔  مقاصد و پروگرام برادران وطن کے یہ تیوہار‘یاترا اورمیلے خاص مقاصد کیلئے ہوتے ہیں جن کیلئے حسب ذیل سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں : جلوس‘ مذہبی خطابات‘ مقدس غسل(Holy Bath)‘ مخصوص پوجا‘قربانی (Yagna)‘روزہ(Upavasa)‘ صدقہ و خیرات(Dan, Dakshina) ‘قصہ گوئی (Katha)‘ طواف کرنا(Circumambulating)۔ بعض تیوہار کے موقع سے اور بھی خصوصی پروگرام ہوتے ہیں جیسے : ٭  برھم اتسو کے دوران گروڈاتسو (Garodtsav)کے تحت انجام دی جانے والی مذہبی سرگرمیاں جن کی اصل بنیاد وہ دعا ہے جو ایک پاکیزہ اورباخلاق زندگی گذارنے کے لئے کی جاتی ہے۔ ٭ ریاست چھتیس گڑھ کی راجم کمبھ کی تقریبات میں ایک کلش یاترا (Kalash Yatra)ہے ۔ خواتین اپنے سروں پر مخصوص برتن لئے ایک مندر تک جاکر واپس اسی مقام کو واپس ہوتی ہیں جہاں سے انہوں نے اپنی یاترا شروع کی تھی۔ تیوہاروں ‘ میلوں اور یاترائوں کے محرکات و اثرات ان مذہبی تقاریب میں انجام پانی والی رسومات اور مناسک ‘روحانی اور اخلاقی ترقی کیلئے سمجھی جاسکتی ہیں ۔ہر میلے اوریاترا کاکوئی نہ کوئی مقصد اور محرک ہوتا ہے۔اور جب اس مقصد کے تحت انجام دی جانے والی سرگرمیوں کو دیکھا جاتا ہے تو ان کی اصلیت کا پتا چلتا ہے۔اگر مقصد نگاہوں سے اوجھل ہوجائے اوربس تقریبات اور سرگرمیوں پر نظر ہو تو ان کی کوئی اہمیت محسوس نہیں ہو گی ۔ متعین مقصد کے تحت کوئی کام ہو تو لازماًاس کے نیت اور عقیدت کی مناسبت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔معاشرہ میں ہر پیشہ کے ماہرین اسی لئے ہمیں نظر آتے ہیں کہ ان کا بامقصد کام ان کی شخصیت کو اس پیشے کے مطابق ڈھال دیا ہے۔ اس لحاظ سے ہندوستان میں منائے جانے والے ہر تیوہار‘یاترا اور میلے کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے جس کیلئے مختلف قسم کی عبادات اور رسومات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اگر ان سب پر اجمالی نظر ڈالی جائے توحسب ذیل مقاصد اور محرکات واضح ہوتے ہیں : ٭  روحانی سفر  ٭ اخلاقی بہتری  ٭  گناہوں کی معافی  ٭ غربا کی خبر گیری  ٭ برائیوں کا ازالہ  ٭  نیکیوں کا فروغ ٭ خدا کی خاطر صعوبتیں جھیلنا  ٭  صدقہ و خیرات کے مزاج کا فروغ ٭ وعظ و نصیحت کاحصول  ٭  کار خیرکیلئے اجتماعی جدوجہد ٭  خدا کی رضا کیلئے وقت‘اپنوں کی محبت اور مال خرچ کرنا(بطور خاص لمبی یاترائوں اوردور دراز کے میلوں کیلئے)     ٭  وعظ و نصیحت کے لئے مذہبی شخصیات سے راہنمائی۔ لہذا یہ دیکھنا چاہئے کہ صدیوں سے منائے جانے والی ان مذہبی رسومات کے برادران وطن پر کیا روحانی اور اخلاقی اثرات مرتب ہورہے ہیں ؟کسی بھی میلے اور یاترا سے فارغ ہونے کے بعد کیا برائیوں سے دوری اور نیکیوں سے قربت کا وہی حال رہتا ہے؟ جس طرح ان مذہبی تقاریب میں غربا کیلئے صدقہ و خیرات اور طعام کا اہتمام کیا گیا تھا کیا اسکے بعد بھی پڑوس اور قریب کے رشتہ داروں کی ویسی ہی خبر گیری کی جاتی ہے؟جس طرح سب لوگوں نے کثیر تعداد میں جمع ہوکر خدا کوجاننے اور سمجھنے کی کوشش کی تھی کیا اسکے بعد بھی وہ مل جل کر خدا کوجاننے اور سمجھنے اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی گذارنے کی کوشش کرتے ہیں ؟ تمام مذہبی رسومات کی انجام دہی سے یہ اور اسطرح کے کئی سوالات سامنے آتے ہیں کہ کہاں کس قسم کی انفرادی و اجتماعی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ؟ یہ سوالات جائزہ و احتساب کا تقاضہ کرتے ہیں جن کی طرف برادران وطن کو متوجہ کرنا چاہئے۔ اس تناظر میں حج کی مختصر تفصیلات پیش کی جارہی ہیں ۔ جن سے بخوبی واضح ہوجائے گا کہ حج ایک بامقصد ومقدس سفر ہے جو روحانی اور اخلاقی ارتقاء کیلئے اختیار کیا جاتا ہے ۔ تیوہاروں ‘ میلوں اور جاتروں سے متعلق اوپر جو اہم امور بطور سوالات پیش کئے گئے ہیں ‘حج کی ان تفاصیل میں ان کے جوابات بھی ملیں گے ۔ حج کیاہے؟ حج کے لغوی معنی ارادہ کرنے کے ہیں ۔دینی لحاظ سے حج کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے گھر کا قصد کرنا۔ حج قولی‘ بدنی‘ مالی اور قلبی عبادت کا ایک مجموعہ ہے۔تقریباً پانچ ہزار سال قبل کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت ابراہیم ؑ کو اپنے گھر‘خانہ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔آپ ؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کے ہمراہ خانہ کعبہ کی تعمیر فرمائی۔اس طرح یہ دنیا کی پہلی عبادت گاہ بنی جیسا کہ قرآن میں کہا گیا: إِنَّ أَوَّلَ بَیْْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً وَہُدًی لِّلْعَالَمِیْنَ بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لئے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے۔اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہاں والوں کے لئے مرکز ہدایت بنایا گیا تھا(آل عمران:96) اس موقع سے حضرت ابراہیم ؑنے یہ دعا فرمائی: رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْْنِ لَکَ وَمِن ذُرِّیَّتِنَا أُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْْنَآ إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں بھی فرمانبردار امت پید فرما اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے سکھلا اور ہماری توبہ قبول فرما یقینا تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے(البقرہ: 128) اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم ؑ کو یہ حکم دیا: وَأَذِّن فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالاً وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِیْنَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ  O لِّیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ … اور لوگوں کو حج کیلئے اذن عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہردور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں ۔تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئیں ہیں (الحج:27۔28) یوں حج دین اسلام کا ایک اہم ترین رکن بنا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔توحید‘نماز‘روزہ‘زکوۃ اور حج(بخاری)۔لیکن حج تمام مسلمانوں پر فرض نہیں ہے بلکہ صرف ان بالغ مردوں اور عورتوں پر جو حج کو جاکر آنے کا خرچ برداشت کرسکتے ہوں ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ….

عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْْہِ سَبِیْلاً ج وَمَن کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ جو اس (کعبہ) تک پہنچے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اگر کوئی ا نکار کرے تو جان لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہاں والوں سے بے نیاز ہے (آل عمران: 97)  حج کی فضیلت حج کی فضیلت سے متعلق رسول اللہ ؐ نے فرمایا : جس شخص نے اللہ کے لئے حج کیا اور اس دوران کوئی فحش گوئی کی نہ کوئی برا کام تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک و صاف واپس لوٹے گا جس طرح اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔(بخاری) حج کے فرائض و واجبات حج کے لئے چند چیزیں ضروری ہیں ان کے اختیار کئے بغیر حج پورا نہیں ہوتا۔ان میں کچھ فرائض ہیں اور کچھ واجبات۔ان کی تفصیل اسطرح ہے۔ حج کے فرائض میں پانچ چیزیں شامل ہیں (۱) احرام باندھ کرنیت کرنا اور تلبیہ پڑھنا(۲) میدان عرفات میں قیام (۳) عورتوں اور ضعیفوں کے علاوہ باقی لوگوں کیلئے نماز فجر مزدلفہ میں ادا کرنا (۴) طواف زیارت کرنا (۵)  صفا اور مروہ کی سعی کرنا (بخاری و مسلم)۔ اس کے واجبات میں سات چیزیں شامل ہیں (۱) میقات سے احرام (نیت) باندھنا (۲) غروب آفتاب تک عرفات میں قیام (۳) دس ذوالحجہ (قربانی) کی رات مزدلفہ میں گذارنا (۴)  تینوں جمرات کو کنکریاں مارنا  (۵)  گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کی رات منی میں گذارنا (۶) سارے سر کے بال چھوٹے کرنا یا سر منڈانا (۷)  طواف وداع کرنا (مسلم)۔ اصطلاحات کی وضاحتیں –   احرام کے مانے بغیر سلے ہوئے سفید کپڑے کے ہیں ۔تلبیہ معنی لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْک….کہنا۔عرفات ‘مزدلفہ اور منی ‘مکہ کے مقامات۔طواف‘ کعبہ کے اطراف چکر لگانا۔صفا و مروہ دو پہاڑیاں ہیں ان کے درمیان دوڑ لگانا۔میقات کے معنی وہ مقام جہاں سے حاجی احرام باندھتا ہے‘جو ہر ملک کے مسلمان کے لئے الگ الگ ہوتا ہے۔جمرات‘ وہ مقام ہے جہاں پر شیطان نے حضرت ابراہیم ؑ کو بہکایا تھا۔ ممنوع کام –     جب ایک مسلمان احرام باندھ لیتا ہے تو اس کے لئے لازم ہوجاتا ہے کہ وہ حسب ذیل کام کرنے سے سختی سے رک جائے یعنی یہ سب کام ممنوع ہیں ۔(۱) جسم کے کسی حصے سے بال اکھاڑنا ‘کانٹنا یا مونڈھنا  (۲) ناخن تراشنا (۳) خوشبولگانا (۴) مرد کا سر کو ڈھانپنا (۵) مرد کا جسمانی ڈھانچے کے مطابق بنا سلے کپڑے پہننا (۶) جنگلی جانور کا شکار کرنا یا شکار کرنے میں کسی کی مدد کرنا (۷) پیغام نکاح بھیجنا‘ نکاح کرنا یا کرانا (۸) بیوی کا بوسا لینا یا شہوت کی باتیں کرنا (۹) بیوی سے ہم بستری کرنا(بخاری و مسلم)۔ حج کا طریقہ ہندوستان سے جانے والے مسلمان حج کے لئے تقریباً چالیس دن قیام کرتے ہیں ۔زیادہ دن مکہ میں گذارتے ہیں اور کچھ دن مدینہ منورہ میں ۔ حج صرف پانچ دن کا ہوتا ہے جوذی الحجہ ‘ اسلامی سال کا آخری مہینہ ‘ اسکی ۸ سے لیکر ۱۲ تاریخ تک ہوتا ہے۔پہلے دن احرام باندھنا اور منی میں قیام۔دوسرے دن عرفات میں قیام‘مزدلفہ روانگی‘ جمرات کو کنکریاں مارنا۔تیسرا دن منی پہنچ کر دوسرے جمرات پر کنکریاں مارنا‘قربانی دینا‘سرمنڈانا‘ طواف زیارت اورسعی کرنا۔چوتھا دن جمرات پر کنکریاں مارنااورعبادات ‘ذکر اور دعائوں کا اہتمام۔پانچواں دن جمرات پر کنکریاں مارنا‘منی میں قیام اور طواف زیارت۔ان پانچ دنوں میں جہاں بھی قیام ہو ‘ نمازوں اور بہ کثرت تلبیہ اور دعائوں کا اہتمام ہوتا ہے۔بقیہ ایام میں عمرہ اور دیگر عبادات کا اہتمام کیا جاتاہے اور تاریخی مقامات کی زیارت بھی۔ اورحاجی لوگ چند دن مدینہ منورہ جاتے ہیں اور اللہ کے آخری نبی محمد مصطفی ؐ پر درود و سلام بھیجتے ہیں ۔ حج کی عبادات اور اثرات کا جائزہ حج کے اس مختصر سے تعارف کے بعد آئیے ان تمام مناسک اورعبادات کے اثرات کا جائزہ لیں : (1)  حج ایک روحانی سفر-   حج ایک ایسی عبادت ہے جس کا آغاز ایک روحانی سفر سے ہوتاہے ۔ دنیا کے کونے کونے سے مکہ آنے والے ہر مسلمان کا سفر کا اپنا ایک الگ ہی روحانی تجربہ ہوتا ہے۔کوئی زمینی راستے سے‘کوئی بحری راستے سے تو کوئی ہوائی راستے سے مکہ پہنچتا ہے۔ یوں تو لمبا سفر ویسے ہی بڑا دشوار رہتا ہے لیکن ایک ایسا سفر جو ہزاروں میل دور ہو اور تقریباً چالیس دنوں کے قیام کے بعد پورا ہوتا ہو ‘ہر فرد سے بڑے شدید تقاضے کرتا ہے۔اسکا ایک تقاضہ محبتوں کی قربانی ہے۔اپنوں کی ‘وطن کی ‘کاروبار کی غرض جن جن سے لگائو ہے ان سب سے کٹ کر اللہ کی جانب سفر کرنا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی واجبی محبتوں کی قربانی دیتا ہے تو اسکے اندر بعض صفات از خود پیدا ہوتے ہیں یا پھر دھندلائی ہوئی صفات اجاگر ہوجاتی ہیں ۔جیسے کسی نے اپنا مال اور وقت لگا کر گھر تعمیر کیا ہو‘اس گھر سے محبت اور لگائو کی کیفیت بہ نسبت دوسرے گھروں کے زیادہ ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ اگر کوئی شخص اپنی عزیز ترین چیزیں قربان کرے تو خدا سے اسکی قربت ایک لازمی ہوجاتی ہے۔ وہ سب سے کٹ کر اللہ کا ہوجاتا ہے گویا اس نے عارضی طور توسب کھو دیا لیکن ہمیشہ کیلئے اللہ کو پالیا۔ یہی عزیز ترین چیزوں کی قربانی ہے جو ا سکے اندراللہ کی عبادت کیلئے بڑی یکسوئی اور دلچسپی پیدا کردیتی ہے او رمحبت ‘ شفقت‘رحمت‘ نرم مزاجی اور زہد جیسی خوبیاں پروان چڑھتی ہیں جو کہ حج جیسی عبادت کیلئے مطلوب ہیں ۔ (2) اللہ کے مہمان –    حج کا ایک تصور یہ بھی دیا گیا کہ حاجی دراصل اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں ۔ اللہ نے انہیں بطور خاص بلاتا ہے تاکہ انہیں پاک و صاف کرکے اور اپنی نشانیاں دکھلا کر بھیج دے:  ….

لِّیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ … تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئیں ہیں (الحج:27) چنانچہ اللہ کے رسولؐ نے حج اور عمرہ کرنے والوں کو اللہ کے مہمان کہا ہے۔جب سب مہمان ہیں اور آمد بھی ایک ہی مقام پر ہے اور ان کا میزبان بھی ایک تو ذہن و قلب پر انسانی مساوات کے شاندار اثرات مرتب ہوجاتے ہیں ۔ ہر شخص دوسرے کو دیکھ کر چاہے وہ امیر ہو غریب ‘گورا ہو کہ کالا‘ ترقی یافتہ ملک سے ہو کہ غریب ملک سے‘یہ سمجھتا ہے کہ وہ ان کا حصہ ہے اور وہ اسکے اپنے ہیں۔ (3) محبتوں کی قربانی –    اس حج کی ادائیگی کیلئے سب سے زیادہ ضروری چیز تمام محبتوں کی قربانی بتائی گئی۔ اس قربانی کے بغیر نہ کوئی اپنے گھر سے نکل سکتا ہے اور نہ ہی دور دراز مقام پر کئی دنوں تک محنت او رمشقت کے ساتھ خدا کی عبادت کرسکتا ہے۔ اگر آپ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ اصل میں یہی عبودیت کی معراج ہے کہ بندہ اپنے خدا کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردے۔ اس کے دل میں سب سے بڑھ کر اسی خالق کی محبت ہو کیوں کہ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ خالق ہی کی دین ہے‘یہ ہوا‘غذا اور پانی اور جینے کے وسائل سبھی خدا ہی نے تو دیئے ہیں ‘ لہذا اگر کسی سے شدید محبت کرنی ہے تو بس اپنے خدا سے۔ جب یہ محبت ہو تو کسی اور کی محبت حدیں نہیں پھلاندیں گی۔ نہ کوئی شخص اپنی بیوی بچوں کی محبت میں کربرائیوں میں ملوث ہوگا اور نہ ہی اپنے مفاد کی خاطر لوگوں پر ظلم کرے گا۔ دین اسلام نے ایک سچے ایمان والے کیلئے ایسی محبت لازمی قرار دی ہے: ….وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ أَشَدُّ حُبّاً لِّلّٰہِ  جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں ( البقرہ:165) (4) حالت احرام – آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ دنیا بھر کی عبادتوں میں حج کی عبادت ایک خاص مقام رکھتی ہے کیونکہ ہر مسلمان ایک جیسے لباس میں ملبوث رہتا ہے۔لاکھوں کے مجموعہ میں آپ جدھر بھی نظر دوڑائیں ‘ سفید سمندر نظرآئے گا‘ ہر طرف ہر جگہ سفید لباس میں ملبوث مرد وخواتین۔ جیسے کہ آپ نے پڑھا احرام بغیر سلہ ہوا کپڑا ہوتا ہے۔اسکے باندھنے کے بعد ایک مسلمان پر کئی چیزیں ممنوع ہوجاتی ہیں ۔جیسے جسم کے کسی حصے سے بال اکھاڑنا ‘کانٹنا یا مونڈھنا ‘ ناخن تراشنا ‘ خوشبولگانا‘مرد کا سر کو ڈھانپنا ‘ بیوی کا بوسا لینا یا شہوت کی باتیں کرنایاہم بستری کرنا۔ان تمام امور پر غور کیجئے محسوس کریں گے کہ ایک مردہ جیسے ہوتا ہے بالکل اسی طرح ایک زندہ انسان سے مطالبہ کیا جارہا ہے تاکہ وہ اپنی موت کو یاد کرے۔ایک دن جب وہ مرجائے گا اس کی حالت ایسی ہی ہوگی۔موت وآخرت یاددلانے کا اس سے بڑھ کر کوئی اور عملی طریقہ کیا ہوسکتا ہے؟ اور جب کسی کو اپنی موت یاد ہو تو وہ کیونکرگناہ کرے گا اور کیوں دوسروں پر ظلم کرے گا؟ اور جب آپ لاکھوں افراد کو ایسی ہی حالت میں دیکھیں تو محسوس کریں گے کہ سب کے سب ایک جگہ جمع ہیں اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ جس خدا نے آج یہاں لوگوں کو جمع کیا ہے وہ سارے کے سارے انسانوں کو ایک دن ضرور جمع کرے گا اور ان کی زندگیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گا۔ فَکَیْْفَ إِذَا جَمَعْنَاہُمْ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْْبَ فِیْہِ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ اور اس وقت کا سوچو جب ہم تمام انسانوں کو جمع کریں گے اس دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا (آل عمران: 25) عقیدہ ٔ آخرت کے واقعہ ہونے کا یہ ایک عملی مظاہرہ ہے۔ اور جب کوئی شخص اس عملی طریقے سے گذرتا ہے تو نہ صرف اسے اپنی موت کا احساس ہوتا ہے بلکہ یہ بھی یقین ہوجاتا ہے کہ خدا ایک دن سب کو جمع کرنے والا ہے۔ (5)  وقوف عرفہ –   عرفات میں قیام حج کا سب سے بڑا رکن ہے ۔ رسول اللہ ؐ نے یہی پیغام دیا کہ الحج عرفہ یعنی عرفہ میں قیام ہی حج ہے۔ جس مقصد کے لئے خدا نے اپنے بندوں کو بلایا ‘اس کا حصول سب کے ایک ساتھ ‘ایک مقام پر قیام کرنے سے ممکن ہے۔جب لاکھوں لوگ ایکدوسرے کو ایک ہی لبا س اور ایک ہی کیفیات میں دیکھیں گے‘ جب سب کی صدائیں اور دعائیں ایک جیسی ہوں گی‘ جب خدا کی بزرگی و برتری کی صدائوں سے فضا گونج اٹھے گی‘ تو بلاشبہ ہر ایک کے دل میں اپنے خدائے بزرگ و برتر کی عظمت و ہیبت رچ بس جائے گی۔ اس کو یقین ہوجائیگا کہ کس عظیم ترین اور پاکیزہ ہستی کا وہ بندہ ہے۔اسی میدان عرفات میں رسول اللہ ؐ نے جو خطبہ حجت الوداع ارشاد فرمایا وہ انسانوں کے انہیں کیفیات اور احساس کی مکمل ترجمانی کرتا ہے۔ آپؐ کا یہ خطبہ رہتی دنیا تک انسانوں کے لئے ضابطہ اخلاق‘ انسانی عظمت کی یاد دہانی اور حقوق انسانی کی پاسداری کی انتہائی روشن دلیل ہے۔ "لوگو میری بات غور سے سن لو مجھے نہیں معلوم کہ تم سے اس سال کے بعد اس مقام عرفہ پر کبھی مل سکوں یا نہیں ۔لوگواللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں خاندانوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔بے شک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو اللہ سے زیادہ ڈرنے والاہو۔ لوگو یاد رکھو نہ کسی عربی کو عجمی پر فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو عربی پر‘ نہ کالا گورے سے افضل ہے اور نہ گورا کالے سے ہاں بزرگی اور فضیلت کا معیار ہے تو وہ تقوی ہے۔سب انسان آدمؑ کی اولاد ہیں اور آدمؑ ‘ مٹی سے بنائے گئے ہیں ۔اب فضیلت اور برتری کے سب دعوے‘ خون مال کے سارے مطالبے اور سارے انتظام میرے پائوں تلے دفن اور پامال ہوچکے ہیں ۔اے لوگو ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ سے تم اس حال میں ملو کہ تمہاری گردنوں پر دنیا کا بوجھ لدا ہوا ہو …..اگر ایسا ہے تو میں اللہ تعالی کے سامنے تمہارے کچھ کام نہ آسکوں …… ”   (خطبہ حجۃ الوداع)۔ (6)  رمی جمرات –  یعنی جمرات کو کنکریاں مارنا ۔اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو یہ خواب میں یہ دکھایا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کوذبح کررہیں ہیں تو انہوں نے ایک دن اپنے بیٹے سے پوچھا : فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّیٓ أَرَی فِیْ الْمَنَامِ أَنِّیٓ أَذْبَحُکَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَی ج قَالَ یٰٓـأَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ صلے سَتَجِدُنِیْ إِن شَآئَ  اللَّہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ اور جب وہ لڑکا اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیم ؑ نے کہا بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں تو بتا تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا ابا جان جو کچھ آپکو حکم دیا جارہا ہے اسے کر ڈالیے آپ انشاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے (الصافات: 102)  جب ابراہیم ؑ اپنے چہیتے بیٹے کو ذبح کرنے لے جارہے تھے تو راستے میں شیطان نے آپؑ کو بہکانے کی کوشش کی اور جہاں جہاں اس نے بہکایا آپؑ نے اس پر کنکریاں ماریں ۔گویا اپنے عمل سے یہ پیغام دیا کہ میرے نزدیک میرے رب کام حکم عزیز ہے چاہے میرے اکلوتے بیٹے کی جان کیوں نہ قربان کرنی پڑے۔جن مقامات پر حضرت ابراہیم ؑ نے کنکریاں ماریں تھیں انہیں مقامات پر مختلف سائز کے تین ستون رکھے گئے ہیں اور حاجی کے لئے ضروری ہے کہ الگ الگ دن ان تین ستونوں پر کنکریاں مارے۔اسطرح صدیوں پرانے حضرت ابراہیم ؑ کے عمل کو دہراتے ہوئے ہر شخص یہ اعلان کرتاہے کہ وہ بھی زندگی بھر شیطان کے بہکائوے میں نہیں آئے گا وہ اپنے خدا کی بے پناہ محبت او رمضبوط ارادوں سے شیطان کے منصوبوں کو ناکام کردے گا۔نفس الامارہ پر مکمل قابو کی یہ ایک عملی تربیت ہے۔ (7)  قربانی-   حضرت ابراہیم ؑ کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے زبردست آزمائش تھی کہ ایک اکلوتی اولاد کو اس کی راہ میں قربان کردے۔جب آپ ؑ اس کے لئے بھی راضی ہوئے اور بیٹے کو ذبح کرنے کیلئے زمین پر لٹادیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کی جان بچالی اور ان کے بدلے ایک دنبہ ذبح ہوگیا۔حضرت ابراہیم ؑ کے اس عزیمت والے عمل کو قرآن مجید نے اس طرح بیان کیا ہے: فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِیْنُِ Oوَنَادَیْْنَاہُ أَنْ یَّا إِبْرَاہِیْمُ Oقَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا ج إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ Oإِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْبَلَائُ  الْمُبِیْنُ Oوَفَدَیْْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Oوَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِیْ الْآخِرِیْنَ آخر کو جب ان دونوں نے سرتسلیم خم کردیا اور ابراہیم ؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرادیا اور ہم نے ندا دی کہ اے ابراہیم ؑ تو نے خواب سچ کردکھایا۔ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں ۔یقینا یہ ایک کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑالیا۔اور اسکی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لئے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی(الصافات:۱۰۸- ۱۰۳)۔ ہر مسلمان ذی الحجہ کے دس تاریخ کو حج کے موقع سے مکہ میں بھی اور اگر نہیں تو جہاں جس مقام پر رہتا ہے وہاں جانور قربان کرکے سیدنا ابراہیم ؑ ؑکی اس قربانی کی یاد تازہ کرتا ہے۔وہ جانور نہیں بلکہ اپنے جذبات و احساسات کی قربانی کرتا ہے۔ ہر اس چیز کو قربان کرنے کا عزم کرلیتا ہے جو اللہ کی محبت کی راہ میں حائل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں کہ بس جانور ذبح کرکے اس قربانی کی یاد تازہ کی جائے بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ ہرقربانی دینے والے شخص کی نیک نیتی اور نیک سیرت و کرداراس تک پہنچے: لَن یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنکُمْ ….

نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون‘مگر اسے تمہاری تقوی پہنچتا ہے (الحج:37) آپ دیکھتے ہیں کہ مسلمان عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں ۔وہ دراصل اسی قربانی کی یاد تازہ کرنے کے لئے ہے۔ اس یاد میں مسلمان سب کو شامل کرلیتے ہیں ۔چنانچہ قربان کئے ہوئے جانور کے گوشت کے تین حصے کئے جاتے ہیں ۔ایک حصہ اپنے لئے رکھ لیاجاتا ہے۔ایک اعزہ واقربا کیلئے اور ایک حصہ غربا میں تقسیم کے لئے ہوتاہے۔اس طرح عید الاضحی کے موقع سے کی جانے والی قربانی میں سب کو شریک کرلیا جاتاہے۔ (8)  سر منڈوانا-  جانور کی قربانی کے بعد حلق یعنی سر کے بال کتروانا یا منڈوانا ضروری ہے۔خواتین کیلئے کچھ بالوں کا کترنا کافی ہے۔یہ عمل ایک علامتی طریقہ ہے کہ جس لمحہ سر سے بال جدے ہوئے اسی لمحہ سے ایک بندہ‘ خدا کی ابدی غلامی سے جڑ گیا۔ نہ صرف وہ بلکہ اس کی کوشش ہوگی کہ اس کی نسل بھی اسی خدا کی غلامی میں اپنی زندگیاں بسر کرے۔ (9)  طواف-     کعبہ کے اطرف چکر لگانے کو طواف کہتے ہیں ۔ حج کرنے والے ہر شخص کیلئے ضروری ہے کہ وہ کعبہ کے اطراف سات چکر لگائے۔جو لوگ ضعیف ہیں وہ کرسی یا کسی کی مدد سے طواف کرسکتے ہیں ۔لیکن کسی کو چھوٹ نہیں ۔ طواف کاعمل بھی کافی محنت و توانائی چاہتا ہے۔ کعبہ کا طواف اصل میں خدا کی محبت میں دیوانگی کاایک عالم سمجھا جاسکتا ہے۔ بندہ اپنے اطراف و اکناف کی دنیا سے بالکل بے پرواہ دیوانہ وار کعبہ کے اطراف چکر لگا رہا ہے۔بالکل جیسے پروانہ شمع کے اطراف چکر لگاتا ہے۔اگر کوئی یہ عمل کو دیکھے توکہے کہ یہ کیا؟ آخر ہر چکر سے کیا حاصل ہورہا ہے؟اور جب ساتوں چکر مکمل ہوں تو کیا حاصل ہوگا؟خدا کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہوئے جب بندہ اسکے گھر کے اطراف چکر لگاتا ہے تو اسکی قلبی و ذہنی کیفیات پر بڑا غیرمعمولی اثر پڑتا ہے۔ جس طرح سے مختلف therapiesسے انسان کے قلب و جسم پر اثرات مرتب ہوتے ہیں ویسے ہی یہ ایک خدائی حکم پر مشتمل عمل ہے جو نفسیاتی ‘روحانی‘ اخلاقی اور تعبدی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگر کعبہ کے اطراف ہونے والے ہر چکر کے ساتھ بندہ ٔ خدا کا یہ احساس اجاگر ہوتا رہے تو بلاشبہ اس کی ساری زندگی خدا کیلئے دیوانہ وار کام کرتے ہوئے گذرے گی۔ اس کے اس عمل سے یوں معلوم ہوگا کہ وہ اپنے رب کے لئے دیوانہ وارہر کارخیر کیلئے تیار رہے گا۔اس کے نزدیک اہمیت لوگوں کی پسند و ناپسند کی نہیں بلکہ صرف خدا کی خوشنودی کی ہوگی۔سچ ہے‘ معاشرہ میں بھلائیوں کے فروغ اور برائیوں کے ازالہ کیلئے ایسے ہی دیوانوں کی ضرورت ہے ورنہ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثرہوشمندوں کی عافیت توان کے اپنے گھروں سے وابستہ ہے۔ کعبہ کے اطراف چکر لگانے سے جہد پیہم کا بھی احساس نمایاں ہوتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی عبادت میں محنت و مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ جنت کا راستہ آسان نہیں کہ بس کچھ اچھے کام کرلو اور جنت مل جائے گی۔اور نہ ہی جہنم سے بچنا اتنا آسان ہے کہ کچھ دان دھرم کردیا اور عذاب سے بالکل آزادی مل گئی؟جنت کا حصول اور جہنم سے نجات‘ دنیا میں خدا کی خاطر دیوانہ وار عمل چاہتے ہیں ۔بس یہی احساس اجاگر ہوتا ہے جب بندۂ خدا کعبہ کے اطراف لَبَّیْک اللّٰھُمَّ لَبَّیْک‘ لَبَّیْک لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْک اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لاَ شَرِیْکَ لَک کہتے ہوئے چکر لگاتاہے۔ (10)  صفا و مروہ کے درمیان سعی-   حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے بڑے سخت طریقوں سے آزمایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی اور شیر خوار بچے کوبالکل سنسان علاقہ میں چھوڑ کر چلے جائیں ۔جیسے ہی حکم ملا حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی بیوی حضرت ہاجرہ ؑ اور شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو چھوڑ کر چل دیئے۔یہ واقعہ بخاری شریف میں اس طرح بیان ہوا ہے:  حضرت ابراہیم ؑ ‘ اپنی بیوی حضرت ہاجرہؑ اور بیٹے حضرت اسماعیل ؑ جبکہ ابھی وہ دودھ پی رہے تھے لے کرآئے اور ان کو اس جگہ چھوڑ دیا جہاں بعد میں زم زم نکلا۔مکہ کی سنسان وادی میں اسوقت کوئی ایک انسان بھی موجود نہ تھا۔اور نہ کہیں پانی پایا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے چمڑے کا ایک تھیلا جس میں کھجوریں تھیں اور پانی کا مشکیزہ حضرت ہاجرہؑ کو دیا اور واپس روانہ ہوئے۔وہ ان کے پیچھے چلیں اور کہنے لگیں اے ابراہیم ؑ کہاں جاتے ہو؟اور ہمیں سنسان اور بے آب و گیا وادی میں چھوڑجاتے ہو؟ یہ بات حضرت ہاجرہ ؑ نے کئی مرتبہ کہی مگرحضرت ابراہیم ؑ نے پلٹ کر نہ دیکھا۔آخر حضرت ہاجرہؑ نے کہا کیا اللہ نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے؟جواب میں انھوں نے بس اتنا ہی فرمایا کہ ہاں ۔اس پر وہ بولیں اگر یہ بات ہے تو اللہ ہمیں ضائع نہیں فرمائے گا اور پھر وہ پلٹ کر اپنے بیٹے کے پاس آ بیٹھیں ۔حضرت ابراہیم ؑ جب پہاڑ کی اوٹ میں پہنچے جہاں سے یہ ماں بیٹا نظر نہ آتے وہاں کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: رَّبَّنَآ إِنِّیٓ أَسْکَنتُ مِن ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِندَ بَیْْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُواْ الصَّلاَۃَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیٓ إِلَیْْہِمْ وَارْزُقْہُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُونَ پروردگار میں نے ایک بے آب و گیا وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔پروردگاریہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ وہ تماز قائم کریں ۔لہذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے شاید کہ وہ شکر گزار بنیں (ابراہیم: 37)۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دیئے ہوئے کھجور اور پانی جب ختم ہوا اور حضرت اسماعیل ؑ پیاس کے مارے رونے لگے تو حضرت ہاجرہ ؑ کی ممتا بے چین ہو اٹھی اور پانی کی تلاش میں وہ دو پہاڑیوں کے بیچ دوڑتی رہیں اس امید کہ ساتھ کہ کہیں پانی مل جائے۔ایک طرف کی پہاڑی صفا پر چڑھتی پھر وادی میں اتر کر اپنے بازو اٹھاکر اس طرح دوڑتی جیسے کوئی مصیبت زدہ شخص دوڑتا ہے‘جب کوئی نظر نہ آیا تو پھر اس طرف کی پہاڑی مروہ کی طرف دوڑیں ‘لیکن کوئی نظر نہ آیا۔پانی کی تلاش میں دو پہاڑیوں کے درمیان حضرت ہاجرہ ؑنے سات مرتبہ دوڑ لگائی۔اچانک دیکھا کہ زم زم کے مقام پر ایک فرشتہ اپنے دونوں بازوں سے زمین کھود رہا ہے اور پانی ابل رہا ہے۔حضرت ہاجرہ ؑفوراً وہاں پہنچیں اپنے بچے کو پانی پلایا اور خود بھی سیراب ہوئیں ۔یہی زم زم آج بھی دنیا بھر کے لاکھوں انسانوں کو سیراب کررہا ہے۔جو لوگ حج جاتے ہیں وہ خوب سیر ہوکر زم زم پیتے ہیں اور اپنے ساتھ بھی اسے لے جاتے ہیں ۔ حضرت ہاجرہؑ کی صفا و مروہ پہاڑیوں کے درمیان تڑپتے ہوئے دوڑنے کی ادا خدا کو اتنی پسند آئی کہ رہتی دنیا تک اس کو جاری کردیا۔حج کے اہم ارکان میں سے ایک صفا اور مروہ کے درمیان سعی یعنی دوڑنا بھی ہے۔ قرآن مجید میں کہا گیا: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللّٰہِ صلے فَمَنْ حَجَّ الْبَیْْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِ أَن یَطَّوَّفَ بِہِمَاجوَمَن تَطَوَّعَ خَیْْراً فَإِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ یقینا صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔لہذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لئے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرلے (البقرہ:158)۔ حضرت ہاجرہ ؑ نے اپنے بیٹے کے لئے پانی کے واسطے دو پہاڑیوں کے بیچ دوڑ لگائی تھی لیکن ہرمسلمان پانی کے لئے نہیں اپنی روحانی ماں کی بے پناہ خدائی محبت‘بے مثال قربانی اور ممتا کی یاد تازہ کرنے کے لئے دوڑ لگاتا ہے۔اس کا ہر قدم اور صفا اور مروہ کے درمیان کا ایک ایک چکر‘ خدا کی رضا اور خوشنودی کو ظاہر کرتا ہے۔ خدا کے لئے جو لوگ جذبہ ٔ ایثار و قربانی سے کام لیتے ہیں اور اس کی آزمائش میں پورے اترتے ہیں خدا ان کی ادائوں تک کومحفوظ کردیتا ہے۔ آج صفا اور مروہ کی پہاڑیاں اور ان کے درمیان صدیوں سے چلی آرہی انسانوں کی دوڑ ‘ اسی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اللہ واسطے محبت اوراسکی خوشنودی کیلئے نیک اعمال کی انجام دہی امتوں کو مثالی اور ان کے کارناموں کو تاریخی بنادیتی ہے۔ یہ ہیں ارکان حج کی حکمت اور ان کی دینی وتاریخی تفصیلات۔ آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ ہر رکن کی ادائیگی ایک خاص مقصد کے لئے ہے۔اور حج کرنے والا ہرمسلمان اس کو ادا کرتا ہے۔اور سارے کے سارے مسلمان بیک وقت سبھی ارکان ادا کرتے ہیں ۔یہ خدا کی طرف سے خاص انعام ہے ایمان والوں کے لئے کہ انہیں وہ مہمان کی حیثیت سے بلاکر اپنی بے پناہ خدائی کے جلوے دکھاتا ہے: وَأَذِّن فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالاً وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِیْنَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ  O لِّیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ … اور لوگوں کو حج کیلئے اذن عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہردور دراز مقام سے پیدل او اونٹوں پر سوار آئیں ۔تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئیں ہیں (الحج:27۔28)۔ (11) مکہ‘  امن کا مرکز-  اس طرح آپ محسوس کرسکتے ہیں حج دراصل ایک ایسی عالمی عبادت ہے جو خاص مقصد اور ایک خاص گروہ کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے۔لوگ دنیا کے کونے کونے سے آکر یہاں خدا کی محبت و عبادت کا مظاہرہ کرتے ہیں ‘لوگوں کے دکھ اور تکالیف کا احساس اورانسانی مساوات وبھائی چارہ جیسے جذبات اپنے دلوں میں زندہ کرلیتے ہیں ۔ خدا کی بے پناہ رحمت کے پیش نظر مغفرت ورحمت کیلئے اپنے ہاتھ دعائوں کیلئے اٹھاتے ہیں ۔ ان سب کی آمد ایک ایسے مقام پر ہوئی ہے جو دنیا بھر میں امن کا مرکز بنا ہواہے حالانکہ اس کے اطراف کے مقامات پر امن قائم نہیں ‘وہاں انسانی حقوق کی پامالی آئے دن ہوتی رہتی ہے اورلوگوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل بھی بڑی مشکل سے ہوتی ہے۔ أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَماً آمِناً وَیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ….

کیا یہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنادیا ہے حالانکہ ان کے گردوپیش لوگ اچک لئے جاتے ہیں (العنکبوت:67) لیکن مکہ مکرمہ امن کا مرکز اور خدا کی بے شمار نعمتوں کے حصول کا مقام بنا ہوا ہے: وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً … اور ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لئے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا (البقرہ:125) یہ وہ مقام ہے جو کبھی بالکل ایک صحرا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے یہاں اپنی اولاد کوبسایا اور دعا کی: وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہَـَذَا بَلَداً آمِناً وَارْزُقْ أَہْلَہُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْہُم بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ … اور ابراہیم ؑ نے دعا کی اے میرے رب اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اسکے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے (البقرہ:126)  فَاجْعَلْ أَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْ إِلَیْْہِمْ اے رب تو لوگوں کے دلوں میں ایسا شوق ڈال کہ وہ ان کی طرف کھنچ کر آئیں …..(سورہ ابراہیم:37) لیکن یہ صحرا اب صحرا نہیں ‘انسانی آبادی ‘سرسبزوشادابی اور روشنیوں سے جگمگاتا ایک پررونق شہر ہے۔اس بنجر علاقہ میں پانی نہ صرف یہاں کے مکینوں کے لئے کافی ہوتاہے بلکہ دنیا سے آنے والا ہرشخص یہاں کا پانی(زم زم) اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اس بنجر زمین پر پھول اور پھل تو کم ہی اگتے ہیں لیکن دنیا بھر کے پھل اور پھول اور ہمہ اقسام کی نعمتیں ہر وقت یہاں دستیاب رہتی ہیں ۔ دنیا کے ہر ایمان والے کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے گھر کی زیارت کرے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی مانگی ہوئی دعائوں کا اثر ہم اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔یہاں پھلوں کا رزق بھی ہے اور ہردل میں بیت اللہ کی زیارت کا شوق بھی پایا جاتا ہے۔ (12) محبت فاتح عالم- آپ جانتے ہیں دنیا میں کئی قومیں آئیں اور چلی گئیں ۔ زندہ قومیں وہ ہوتی ہیں جو اپنے زمانے میں خدا سے بے پناہ محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی زندگیاں اس کی عبادت اور انسانوں کی خدمت کیلئے وقف کرتی ہیں ۔ ایسی قومیں نہ صرف کامیاب ہوتی ہیں بلکہ وہ ایسے نقوش چھوڑ جاتی ہیں کہ رہتی دنیا تک لوگ انہیں یاد کرتے ہیں ۔ یا یوں کہئے کہ خدا ایسی قوموں کو یادگار اور ان کے کارناموں کو زندہ رکھتا ہے۔ حج دراصل ایک ایسی ہی عبادت ہے جوحضرت ابراہیم ؑ ان کی بیویوں اور بچوں کی خدا سے بے پناہ محبت اور جذبہ ایثار وقربانی کی یادگار ہے۔ خدا نے ان کے اعمال قیامت تک کے لئے زندہ کردئیے۔ آج ہرایمان والا سیدنا ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کے آئیڈیل پر چلتا ہے اورآپ نے دیکھا کہ کس طرح حج کی عبادتیں خدا کے ان برگزیدہ بندوں سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اسی لئے قرآن مجید میں کہا گیا: قَدْ کَانَتْ لَکُمْ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْ إِبْرَاہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ ….

تمہارے لئے ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کی زندگیوں میں بہترین اسوہ ہے (الممتحنہ:4) اللہ رب العزت کی اس سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں محبت اور ہمہ جہت ترقی کیلئے خدا کی محبت اور بندگان خدا کی بے لوث خدمت ضروری ہے۔اسکے بغیر کوئی اور چارہ کار نہیں ‘جس غلط راستے سے ترقی حاصل کی جائے گی وہ ترقی اسی غلط راستے سے چلی بھی جائے گی۔ (13) اہل ایمان نور کی کرنوں کی طرح پھیل جائیں –    اسلام کی اس بڑی اجتماعی عبادت کا آپ سے آپ یہ مفہوم نکلتا ہے کہ یہ تمام لوگ کسی خاص مقصد کے لئے تیار کئے جارہے ہیں ۔اور وہ مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ جس محبت ‘جذبہ قربانی اور سخت جانفشانی کے ساتھ اہل ایمان نے حج کیا اب یہاں سے جانے کے بعد وہی اوصاف ان کی زندگی کا حصہ بن جانے چاہئیں ۔گویا جس طرح سورج سے نکلنے والی کرنیں دنیامیں پھیل کر اندھیرا دور کرتی ہیں اسی طرح بیت اللہ سے نکل کر خدا کے ان نیک بندوں کا یہی کام ہوگا کہ وہ دنیا بھر میں پھیل کر ظلم و بربریت کے اندھیروں کو مٹائیں ۔ عدم مساوات اور حقوق کی پامالی کے اندھیروں کو مٹائیں ۔ اونچ نیچ اور چھوت چھات کے فرق کو دور کردیں ۔اور ہرطرح کے ظلم و انصافی اورنفرت و تعصب کے خلاف ایک زور دار آواز بن جائیں ۔ اختتامیہ ان عظیم مقاصد کے تحت حج جیسی عبادت کی عقلی و منطقی ضرورت کو آپ خو ب سمجھ سکتے ہیں ۔گرچہ یہ ایک دھام یاترا ہے لیکن مسلمان اس کے لئے لوک کے ہر دھام سے شرکت کرتے ہیں ۔ان کا اجماع کسی ثقافتی اور تجاری مقاصد کیلئے نہیں بس ایک خدا کی عبادت کیلئے ہوتاہے۔یہ حج وہ طریق عبادت ہے جو بندے کو خدا اور انسانوں سے مضبوطی سے جوڑے رکھتا ہے۔اس عظیم عبادت کے ذریعہ خدا اپنے بندوں کو بلا کر اس تربیت سے گذارتا ہے جس کے بعد ان کی زندگیاں خدا کی مرضی کے مطابق گذرنے لگتی ہیں اور بندگان خدا سے ان کاتعلق محبت اور خدمت کی بنیادوں پر قائم ہوجاتا ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh