logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

سوال :بہت سے لو گ گھر میں اس لئے جانور پالتے ہیں کہ اگر گھر میں کوئی آفت آئے گی تو پہلے جانور پر آئے گی ، اس قسم کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے ؟ جواب :سب سے پہلے ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے اوپرجو بھی مصیبت نازل ہوتی ہے وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی ہےجیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ (الشورى:30) ترجمہ: تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ ایک دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے: مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖوَمَاأَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَۚ (النساء:79) ترجمہ: تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور جو بُرائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے ۔ اگر اللہ کی طرف سے ناز ل شدہ ان مصائب سے ہمیں بچنا ہے تو جانوروں کوپالنے سے مصیبت نہیں ٹلے گی بلکہ اچھے اعمال کرنا پڑے گا اور جن برائیوں کی وجہ سے ایسے دن دیکھنے پڑے ان سے توبہ کرنا پڑے گا۔اللہ تعالی  گناہوں اور برائیوں سے توبہ کرنے پر معاف کرنے کا وعدہ کرتا ہےاس کافرمان ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ(التحريم: 8) ترجمہ: اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ دیگر مصائب ومشکلات اور برائیوں سے بچاؤ اور ان کو مٹانے اور بخشوانے کا ذریعہ نیکی اور اعمال صالحہ انجام دینا ہے، فرمان الہی ہے : إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ (هود: 114) ترجمہ: بے شک نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں ۔ جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جانور پالنے سے مصیبت ٹلتی ہے یا گھر کی مصیبت پہلے جانور پر نازل ہوتی ہے اس لئے گھر میں جانور پالنا چاہئے ایسے آدمی کا یہ عقیدہ باطل وفاسد ہے۔ یاد رکھیں آسمان میں جس کے لئے جس بلامیں گرفتار ہونے کااللہ کی طرف سے فیصلہ ہوجاتا ہے وہ بلا اسی شخص پرنازل ہوتی ہے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں سوائے اللہ تعالی کے، لہذا مومن کوقرآن سے ثابت یہی عقیدہ رکھنا چاہئے ،اللہ کا فرمان ہے : وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍفَهُوَعَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(الانعام: 17) ترجمہ: اور اگر تجھ کو اللہ تعالٰی کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا سوا اللہ تعالٰی کے اور کوئی نہیں اور اگر تجھ کو اللہ تعالٰی کوئی نفع پہنچائے تو وہ ہرچیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اس بات کو اللہ تعالی نے دوسرے پیرائے میں اس انداز میں بیان کیا ہے۔ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ (النمل:62) ترجمہ: کون ہے جو بے قرار کی دُعا سنتا ہے جبکہ وہ اسے پکارے اور کون اسکی تکلیف کو دور کرتا ہے اور کون ہے جو تمہیں ‌زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئ اِلہ بھی ہے؟،تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو۔ مومن کو یہ عقیدہ بھی رکھنا چاہئے کہ اللہ کے سوا خواہ نبی ہو یا ولی کوئی بھی نفع ونقصان کا ذرہ برابر بھی مالک نہیں، اللہ کا فرمان ہے: قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا(الجن:21) ترجمہ: کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں۔ اس آیت میں نبی ﷺ کا بیان ہے کہ میں تمہارے لئے کچھ بھی نفع ونقصان کا مالک نہیں ہوں، اور جو غیر نبی ہیں خواہ ولی ، پیر،مرشد، عالم ، عابدکوئی بھی  ہوں وہ بھلا کیسے بلاٹال سکتے ہیں اور نفع پہنچا سکتے ہیں؟ ۔ یہ بات اس وقت کی ہے جب نبی ﷺ باحیات تھے یعنی زندہ نبی  کسی کے لئے نفع ونقصان کا مالک نہیں تو جو مردہ ہیں وہ بھلا زندوں کوکیا فائدہ پہنچاسکتے ہیں؟ آپ خود اندازہ لگالیں۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh