logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

انسان کو نیکی اور بدی کی سمجھ ہر ایک کو بقدر استطاعت حاصل ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سمجھ اللہ کی طرف سے الہام کا درجہ رکھتی ہے جو پیدائشی طور پر خالق نے اس کی فطرت میں ودیعت کر دی ہے۔فطری  الہام سمجھ ایسی نہیں ہے کہ اس پر پورے طور پر اکتفا کرنے سے انسان کا کام چل ہوسکتا ہے۔ اگر چل سکتا ہوتا تو اللہ اپنی طرف سے نہ آسمانی کتاب بھیجتا اور نہ نبی یا رسول کو اس دنیا میں مبعوث فرماتا اسی لئے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’یقینا فلاح پایا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا جس نے اس کو آلودہ (بگاڑا) کیا‘‘ (سورہ الشمس)۔  اس سے پتہ چلتا ہے کہ کامیابی اسی کے ہاتھ لگتی ہے جو اپنے نفس کو  بے راہ روی کیلئے چھوڑ نہیں دیتا بلکہ اس کی تربیت اور تزکیہ میں برابر اورمسلسل لگا رہتا ہے۔ اس کی باگ کو اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اسے بے قابو ہونے نہیں دیتا۔ وہ طریقہ (شریعت) جس سے اس کی آراستگی اور سنورنے میں مدد ملتی ہے اسے اپناتا ہے۔ ’’اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری الہام کردی‘‘ (سورہ الشمس)۔  الہام: تزکیہ اور تربیت کی بات اچھی طرح سے سمجھنے سے پہلے الہام کیا ہے؟ اسے اچھی طرح سمجھنا چاہئے۔ صاحب تفہیم القرآن نے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے: ’’الہام کا لفظ لَہم سے ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔ لہم الشئی والتھمہ کے معنی ہیں فلاں شخص نے اس چیز کو نگل لیا۔ اور الھمتہ الشئی کے معنی ہیں میں نے فلاں چیز اس کو نگلوا دی یا اس کے حلق سے اتار دی۔ اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے الہام کا لفظ اصطلاحاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی تصور یا کسی خیال کو غیر شعوری طور پر بندے کے دل و دماغ میں اتار دینے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ نفس انسانی پر اس کی بدی اور اس کی نیکی و پرہیزگاری الہام کر دینے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے اندر خالق نے نیکی اور بدی دونوں کے رجحانات و میلانات رکھ دیئے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جس کو ہر شخص اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے لاشعور میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصورات ودیعت کر دیئے ہیں کہ اخلاق میں کوئی چیز بھلائی ہے اور کوئی برائی، اچھے اخلاق و اعمال یکساں نہیں ہیں، فجور (بد کرداری) ایک قبیح چیز ہے اور تقویٰ (برائیوں سے اجتناب) ایک اچھی چیز۔ یہ تصورات انسان کیلئے اجنبی نہیں ہیں بلکہ اس کی فطرت ان سے آشنا ہے اور خالق نے برے اور بھلے کی تمیز پیدائشی طور پر اس کو عطا کر دی ہے۔ یہی بات سورہ بلد میں فرمائی گئی ہے کہ وہدینٰہ النجدین ’’اور ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں نمایاں راستے دکھا دیئے‘‘ (آیت:10)۔ و ہدینٰہ السبیل اما شاکرا و اما کفوراً۔ ’’ہم نے اس کو راستہ دکھادیا خواہ شاکر بن کر رہے یا کافر‘‘ (آیت:3)۔ اور اسی بات کو قیامہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے اندر ایک نفس لوامہ (ضمیر) موجود ہے جو برائی کرنے پر اسے ملامت کرتا ہے‘‘ (آیت:2)۔ اور ہر انسان خواہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے مگر وہ اپنے آپ کو خوب جانتا ہے کہ وہ کیا ہے‘‘ (آیات:14-15)۔  اس جگہ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ فطری الہام اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق پر اس کی حیثیت اور نوعیت کے لحاظ سے کیا ہے، جیسا کہ سورہ طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے کہ الذی اعطیٰ کل شیئٍ خلقہٗ ثم ھدیٰ ’’جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی پھر راہ دکھائی‘‘ (آیت:50)۔ مثلاً حیوانات کی ہر نوع کو اس کی ضروریات کے مطابق الہامی علم دیا گیا ہے جس کی بنا پر مچھلی کو آپ سے آپ تیرنا، پرندے کو اڑنا، شہد کی مکھی کو چھتہ بنانا اور بئے کو گھونسلا تیار کرنا آجاتا ہے۔ انسان کو بھی اس کی مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے الگ الگ قسم کے الہامی علوم دیئے گئے ہیں۔ انسان کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک حیوانی وجود ہے اور اس حیثیت سے جو الہامی علم اس کو دیا گیا ہے اس کی ایک نمایاں ترین مثال بچے کا پیدا ہوتے ہی ماں کا دودھ چوسنا ہے جس کی تعلیم اگر خدا نے فطری طور پر اسے نہ دی ہوتی تو کوئی اسے یہ فن نہ سکھا سکتا تھا۔ اس کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک عقلی وجود ہے۔ اس حیثیت سے خدا نے انسان کو آفرینش کے آغاز سے مسلسل اس کو الہامی رہنمائی دی ہے جس کی بدولت وہ پے درپے اکتشافات اور ایجادات کرکے تمدن میں ترقی کرتا رہا ہے۔ ان ایجادات و اکتشافات کی تاریخ کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا وہ محسوس کرے گا کہ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسی ہو جو محض انسانی فکر و کاوش کا نتیجہ ہو، ورنہ ہر ایک کی ابتدا اسی طرح ہوئی ہے یکایک کسی شخص کے ذہن میں ایک بات آگئی اور اس کی بدولت اسنے کسی چیز کا اکتشاف کیایا کوئی چیز ایجاد کرلی۔ ان دونوں حیثیتوں کے علاوہ انسان کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک اخلاقی وجود ہے اور اس حیثیت سے بھی اللہ تعالیٰ نے اسے خیر و شر کا امتیاز اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس الہامی طور پر عطاکیا ہے۔ یہ امتیاز و احساس ایک عالمگیر حقیقت ہے جس کی بنا پر دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیر و شر کے تصورات سے خالی نہیں رہا ہے اور کوئی ایسا معاشرہ نہ تاریخ میں کبھی پایا گیا ہے نہ اب پایا جاتا ہے جس کے نظام میں بھلائی اوربرائی پر جزا اور سزا کی کوئی نہ کوئی صورت اختیار نہ کی گئی ہو۔ اس چیز کا ہر زمانے ہر جگہ اور ہر مرحلۂ تہذیب و تمدن میں پایا جانا اس کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے اور مزید براں یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ایک خالق حکیم و نادان نے اسے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے کیونکہ جن اجزاء سے انسان مرکب ہے اور جن قوانین کے تحت دنیا کا مادی نظام چل رہا ہے ان کے اندر کہیں اخلاق کے ماخذ کی نشان دہی نہیں کی جاسکتی۔  تزکیہ نفس یا تربیت بہت ہی اہم اور ضروری چیز ہے اسے سمجھانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے دو متضاد چیزوں کی قسم کھائی ہے (سورہ لیل) تاکہ انسان آسانی سے اس کے اثرات و نتائج کو سمجھ جائے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں کہ  ’’یہ وہ بات ہے جس پر ان چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئی ہیں۔ اب غور کیجئے کہ وہ چیزیں اس پر کس طرح دلالت کرتی ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ جن حقائق کو وہ انسان کو ذہن نشین کرانا چاہتا ہے، ان کی شہادت میں وہ سامنے کی چند ایسی نمایاں ترین چیزوں کو پیش کرتا ہے جو ہر آدمی کو اپنے گر د و پیش کی دنیا میں یا خود اپنے وجود میں نظر آتی ہیں۔ اسی قاعدے کے مطابق یہاں دو دوچیزوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے جو ایک دوسرے سے متضاد ہیں اس لئے ان کے آثار اور نتائج بھی یکساں نہیں ہیں بلکہ لازماً ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک طرف سورج ہے اور دوسری چاند۔ سورج کی روشنی نہایت تیز ہے اور اس میں گرمی بھی ہے۔ اس کے مقابلہ میں چاند اپنی کوئی روشنی نہیں رکھتا۔ سورج کی موجودگی میں وہ آسمان پر موجود بھی ہو تو بے نور ہوتا ہے۔ وہ اس وقت چمکتا ہے جب سورج چھپ جائے اور اس وقت بھی اس کی روشنی نہ اتنی تیز ہوتی ہے کہ رات کو دن بنا دے، نہ اس میں کوئی گرمی ہوتی ہے کہ وہ کام کرسکے جو سورج کی گرمی ہوتی ہے، لیکن اس کے اپنے کچھ اثرات ہیں جو سورج کے اثرات سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک طرف دن ہے اور دوسری طرف رات۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ دونوں کے اثرات اور نتائج باہم اس قدر مختلف ہیں کہ کوئی ان کو یکساں نہیں کہہ سکتا حتیٰ کہ ایک بے وقوف سے بے وقوف آدمی کیلئے بھی یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ رات ہوئی تو کیا اور دن ہوا تو کیا؟ کسی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح ایک طرف آسمان ہے جسے خالق نے بلند اٹھایا ہے اور دوسری طرف زمین ہے جسے پیدا کرنے والے نے آسمان کے نیچے فرش کی طرح بچھا دیا ہے۔ دونوں اگر چہ ایک کائنات اور اس کے نظام اور اس کی مصلحتوں کی خدمت کررہے ہیں لیکن دونوں کے کام اور ان کے اثرات و نتائج میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ان آفاقی شہادتوں کو پیش کرنے کے بعد خود انسان کے اپنے نفس کو لیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اسے اعضا اور حواس اور ذہنی قوتوں کے متناسب امتزاج سے ہموار کرکے خالق نے اس کے اندر بھلائی اوربرائی، دونوں کے میلانات، رجحانات اور محرکات رکھ دیئے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں اور الہامی طور پر اسے ان دونوں کا فرق سمجھا دیا ہے کہ ایک فجور ہے اور وہ بری چیز ہے اور دوسرا تقویٰ ہے اور وہ اچھی چیز ۔ اب اگر سورج اورچاند ، دن اور رات، زمین و آسمان یکساں نہیں ہیں بلکہ ان کے اثرات اور نتائج ایک دوسرے سے لازماً مختلف ہیں تو نفس کا فجور اور تقویٰ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہونے کے باوجود یکساں کیسے ہوسکتے ہیں ۔ انسان خود اس دنیا میں بھی نیکی اور بدی کو یکساں نہیں سمجھتا اور نہیں مانتا۔ خواہ اسنے اپنے بنائے ہوئے فلسفوں کی رو سے خیر و شر کے کچھ بھی معیار تجویز کرلئے ہوں، بہر حال جس چیز کو بھی وہ نیکی سمجھتا ہے اس کے متعلق وہ یہ رائے رکھتا ہے کہ وہ قابل قدر ہے، تعریف اور صلے اور انعام کی مستحق ہے۔ بخلاف اسکے جس چیز کو بھی وہ بدی سمجھتا ہے اس کے بارے میں اس کی اپنی بے لاگ رائے یہ ہے کہ وہ مذمت اور سزا کی مستحق ہے، لیکن اصل فیصلہ انسان ے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ اس خالق کے ہاتھ میں ہے جس نے انسان کا فجور اور تقویٰ اس پر الہام کیا ہے۔ فجور وہی ہے جو خالق کے نزدیک فجور ہے اور تقویٰ وہی ہے جو اس کے نزدیک تقویٰ ہے۔ اور خالق کے ہاں ان دونوں کے دو الگ نتائج ہیں۔ ایک کا نتیجہ یہ ہے کہ جو اپنے نفس کا تزکیہ کرے وہ فلاح پائے اور دوسرے کا نتیجہ یہ ہے کہ جو اپنے نفس کو دبا دے وہ نامراد ہو۔   تزکیہ کے معنی ہیں پاک کرنا، ابھارنا اور نشو و نما دینا۔ سیاق و سباق سے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو اپنے نفس کو فجور سے پاک کرے، اس کو ابھار کر تقویٰ کی بلندی پر لے جائے اور اس کے اندر بھلائی کو نشو و نما دے وہ فلاح پائے گا۔ اس کے مقابلہ میں دسہا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا مصدر تدسیہ ہے۔ تدسیہ کے معنی دبانے، چھپانے، اِغوا کرنے اور گمراہ کر دینے کے ہیں۔ سیاق و سباق سے اس کا مطلب بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ شخص نامراد ہوگا جو اپنے نفس کے اندر پائے جانے ولاے نیکی کے رجحانات کو ابھارنے اور نشو و نما دینے کے بجائے ان کو دبا دے، اس کو بہکاکر برائی کے رجحانات کی طرف لے جائے اور فجور کو اس پر اتنا غالب کر دے کہ تقویٰ اس کے نیچے اس طرح چھپ کر رہ جائے جیسے ایک لاش قبر پر مٹی ڈال دینے کے بعد چھپ جاتی ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ قد افلح من زکی اللہ نفسہ و قد خاب من دسی اللہ نفسہ، یعنی فلاح پاگیا وہ جس کے نفس کو اللہ نے پاک کر دیا اور نامراد ہوا وہ جس کے نفس کو اللہ نے دبا دیا، لیکن یہ تفسیر اول تو زبان کے لحاظ سے قرآن کے طرز بیان کے خلاف ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کو یہی بات کہنی مقصود ہوتی تو وہ یوں فرماتا کہ قد افلحت من زکہا اللہ وقد خابت من دسہااللہ (فلاح پاگیا وہ نفس جس کو اللہ نے پاک کر دیا اور نامراد ہوگیا وہ نفس جس کو اللہ نے دبا دیا)۔ دوسرے یہ تفسیر اسی موضوع پر قرآن کے دوسرے بیانات سے ٹکراتی ہے۔ سورہ اعلیٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قد افلح من تزکّٰی ’’فلاح پاگیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی‘‘ (آیت:14)۔ سورہ عبس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے فرمایا وما علیک الا یزکی۔ ’’اور تم پر کیا ذمہ داری ہے اگر وہ پاکیزگی نہ اختیار کرے‘‘۔ ان دونوں آیتوں میں پاکیزگی اختیار کرنا بندے کا فعل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں جگہ جگہ یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اس دنیا میں انسان کا امتحان لیا جارہا ہے۔ مثلاً سورہ دہر میں فرمایا ’’ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کی آزمائش کریں اسی لئے اسے ہم نے سمیع و بصیر بنایا‘‘ (آیت:2)۔ اور سورہ مُلک میں فرمایا ’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تمہیں آزمائے کون تم میں بہتر عمل کرنے والا ہے‘‘ (آیت:2)۔ اب یہ ظاہر ہے کہ امتحان سرے سے ہی بے معنی ہوجا تا ہے، اگر امتحان لینے سے پہلے ہی ایک امیدوار کو ابھار دے اور دوسرے کو دبا دے۔ اس لئے صحیح تفسیر وہی ہے جو قتادہ، عِکرمہ، مجاہد اور سعید بن جُبیر نے بیان کی ہے کہ زَکّٰھَا اور دَسّٰہَا کا فاعل بندہ ہے نہ کہ خدا۔ رہی وہ حدیث جو ابن ابی حاتم نے عن جُوَیبربن سعید عن الضحاک عن ابن عباس کی سند سے نقل کی ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ افلحت نفس زکا ہا للہ عز و جل (فلاح پاگیا وہ نفس جس کو اللہ عز و جل نے پاک کر دیا) تو یہ ارشاد در حقیقت حضور سے ثابت نہیں ہے کیونکہ اس کی سند میں جویبر متروک الحدیث ہے اور ابن عباس سے ضحاک کی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ البتہ وہ حدیث صحیح ہے جو امام احمد، مسلم، نسائی اور ابن بی شیبہ نے حضرت زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ حضورؐ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اللہم اٰت نفسی تقواھا و زکھا انت خیر من زکاہا، انت ولیہا و مولاہا۔ ’’خدایا میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کرو اور اس کو پاکیزہ کر، تو ہی وہ بہتر ہستی ہے جو اس کو پاکیزہ کرے، تو ہی اس کا سرپرست اور مولیٰ ہے‘‘۔ اسی سے ملتے جلتے الفاظ میں حضور کی یہ دعا حضرت عبداللہ بن عباس سے طبرانی، ابن مردویہ اور ابن المنذر نے اور حضرت عائشہ سے امام احمد نے نقل کی ہے۔ اس کا مطلب در حقیقت یہ ہے کہ بندہ تو صرف تقویٰ اور تزکیہ کی خواہش اور طلب ہی کرسکتا ہے، رہا اس کا نصیب ہوجانا تو وہ بہر حال اللہ ہی کی توفیق پر منحصر ہے اور یہی حال تدسیہ کا بھی ہے کہ اللہ زبردستی کسی کے نفس کونہیں دباتا مگر جب بندہ اس پر تُل جائے تو اللہ تعالیٰ اسے تقویٰ اور تزکیہ کی توفیق سے محروم کر دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے کہ اپنے نفس کو جس گندگی کے ڈھیر میں دبانا چاہے دبا دے‘‘۔ (تفہیم القرآن)

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh