logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

’’عن ابن عباس رضی اللہ عنھماقال : قال رسول الله ﷺ’’ مامن أيام العمل الصالح فيها أحب إلي الله من هذه الايام يعني أيام العشر قالوا يارسول الله ولا الجهاد في سبيل الله ؟قال ولا الجهاد في سبيل الله ،إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشئ‘‘(رواه البخاري) ترجمہ:سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:’’ ذی الحجہ کے ( پہلے عشرہ) ان دس دنوں سے بہتر ایسا کوئی دن نہیں جس میں نیک اعمال اللہ کے نزدیک محبوب اور پسندیدہ ہوں ،صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ کیا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی افضل نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ، ہاں مگر وہ شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ ’’راہ جہاد میں ‘‘ نکلے اور کچھ واپس لے کر نہ لوٹے یعنی اپنی جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کردے ‘‘۔ تشریح: اسلامی تقویم اور کلینڈر کے حساب سے ماہ ذی الحجہ سال کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے جسے اشھرالحرم ہونے کا بھی شرف حاصل ہے کہ اس ماہ مبارک میں اللہ نے امت محمدیہ کے لئے جنگ وجدال ، قتل و خونزیزی اور فواحش ومنکرات کو تاکید کے ساتھ حرام قرار دیا ہےاور ان مبارک ایام میں کثرت سے اعمال حسنہ کرنےکی تعلیم و ترغیب دی ہے اور خصوصی طور پر اس کے پہلے عشرہ کی قسم کھاکر اس اہمیت کوواضح کیا ہے، اللہ نے فرمایا ﴿وَالْفَجْرِ ، وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾ (الفجر : 1۔2) یعنی قسم ہے فجر اور اسکی دس راتوں کی ۔   امام بغوی ؒ اپنی مشہور تفسیر معالم التنزیل میں سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ ﴿وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾ سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں ، اسی طرح سورہ حج کے اندر اللہ نے فرمایا کہ ﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ﴾  (الحج : 28) ’’ اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کرو‘‘۔ محدثین کرام و مفسرین عظام ان دس دنوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ ان سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں جس میں کیۓ گئے اعمال حسنہ اللہ کو بہت محبوب ہیں ۔ بعض محدثین فرماتے ہیں کہ یہ دس ایام عشرہ رمضان سے بھی زیادہ افضل ہیں چونکہ اس میں تمام عبادات کا اجتماع ہوتا ہے اور خصوصیت کے ساتھ حج کا رکن اعظم یوم عرفہ ہے جس دن رب کی طرف سے عام بخشش اور مغفرت کا اعلان ہوتا ہے اور اسی عشرہ میں یوم النحر آتا ہے جس دن دنیا کے تمام مسلمان رب کی رضا جوئی کی خاطر سنت ابراھیمی کو زندہ کرتے ہوئے نبی کائنات کی اتباع و پیر وی میں اپنے مالک حقیقی کو راضی و خوش کرنے کے لئے اپنےجانوروں کی قربانیاں پیش کرتے ہیں اور ان کے گوشت سے خود بھی مستفید ہوتے ہیں اور اپنے اعزہ واقارب نیز دوست و احباب کو بھی مستفید کرتے ہیں اور فقراء و مساکین میں تقسیم کرکے ثواب بھی حاصل کرتے ہیں ۔ غرض اس عشرہ مبارکہ کی اتنی زیادہ اہمیت وفضلیت ہے کہ ان کا مقابلہ سال کے دوسرے ایام سوائے لیلۃ القدر کے نہیں کر سکتے ، اسی طرح ان دنوں کے اعمال بھی دیگر ایام کے بالمقابل کافی اہمیت و فضلیت کے حامل ہیں جیسا کہ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کے نزدیک کوئی عمل اتنا با عظمت اور محبوب ومقرب نہیں ہوسکتا جتنا وہ عمل ہے جو ان دس دنوں میں کیا جائے۔ اس لئے ہم مومنوں کو ان مبارک ایام کی قدر وقیمت کو سمجھتے ہوئے کثرت سے توبہ واستغفار ، تکبیر و تحلیل اور تحمید وتمجید کے کلمات بیان کرنا چاہئے۔ چنانچہ انہیں اہمیت و فضیلت کے پیش نظر نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیھم اجمعین ان ایام کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے بھر پور استفادہ کرتے تھے ان میں اللہ کی خوب تسبیح و تحلیل بیان کیا کرتے تھے ، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ اور عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما کا ان مبارک ایام میں یہ معمول تھا کہ وہ بازاروں میں نکل جایا کرتے تھے اور با آواز بلند تکبیریں پڑھا کرتے تھے، تاکہ (لوگ بھی انہیں دیکھ کر تکبیر پڑھنا شروع کردیں) (بخاری کتاب العیدین) اسی طرح سعید بن جبیر ؒ کے متعلق آتا ہے کہ وہ اس عشرہ میں نیک اعمال کرنے میں خوب محنت ومشقت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ قریب نہ ہوتا کہ کوئی اس پر قادر ہو۔ یہ تھا صحابہ کرام اور اسلاف عظام کا طرز عمل، جبکہ آج ہم مسلمانوں کا طریقہ کار اس کے مخالف نظر آتا ہےآج ہم سر سے پاؤں تک خطاؤں میں ڈوبے رہتے ہیں پھر بھی ہمیں ان مبارک ایام سے مستفید ہونے کی توفیق نہیں ملتی ہم اپنے کاروبار، تجارت ، اہل و عیال وغیرہ میں اس طرح مگن رہتے ہیں کہ اللہ کے مقدس گھر کی زیارت (حج وعمرہ) اور اس کے راستے میں صدقات وخیرات اور قربانی کرنے کی توفیق نہیں ملتی ۔   لہذا مسلمانوں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کریں ، ایمان کی تجدید و تکمیل کریں ، اللہ پر توکل وبھروسہ کرتے ہوئے اپنے حلال کمائی سے اللہ کے مقدس گھر کی زیارت کی کوشش کریں اس کے دیۓ ہوئے مال کو اس کے راستے میں خرچ کریں، ذی الحجہ کے اس پہلے عشرہ (نیکیوں کے موسم بہار) میں کثرت سے اعمال حسنہ کی بھر پور کوشش کریں ۔ دعا ہے کہ مولیٰ ہمیں عشرہ ذی الحجہ میں خلوص و للہیت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh