logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

ریاض، 13 جنوری (یو این آئی) خواتین کے تئیں روایت پرست سعودی عرب میں کل پہلی بار خواتین کو اسٹیڈیم میں بیٹھ کر فٹ بال میچ کا لطف اٹھانے کی اجازت دی گئی۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق خواتین کے لئے جدہ کے کنگ عبداللہ اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم میں خاص گیلری بنائی گئی۔ اس کے ساتھ ہی خاص ریسٹ روم اور علیحدہ دروازے بھی بنائے گئے۔ خواتین مداحوں کے استقبال کے لئے خاتون عملہ کو تعینات کیا گیا۔ اسٹیڈیم میں خواتین کے بیٹھنے کے لئے الگ سے ’فیملی گیلری‘ بنائے گئے جہاں بیٹھ کر خواتین نے جم کر میچ کا لطف اٹھایا،خوب سلفیاں لیں اور اپنی پسندیدہ ٹیم کا حوصلہ بڑھایا۔جمعہ کو سعودی عرب کی مقامی پروفیشنل لیگ میں دو مقامی ٹیموں-’ الاهلی‘ اور ’الباطن‘ کے درمیان کھیلے گئے اس میچ کو دیکھنے کے لیے خواتین کی بھی نمایاں تعداد سٹیڈیم مں موجود تھی۔ الاہلی کو پانچ صفر سے جیت حاصل ہوئی۔جدہ میں ہونے والے میچ میں شامل خواتین شائقین میں ریاض سے آنے والی تین سہیلیاں صائمہ،صدف اور سمیرہ بھی شامل تھیں۔بی بی سی سے گفتگو میں صائمہ نے کہا کہ 'ہمیں اس سب کی امید نہیں تھی، جس طرح ہمیں خوش آمدید کہا گیا اور جو عزت دی گئی۔ سب کچھ بہت اچھا تھا۔یہ تینوں ریاض کی شہری ہیں تعلیم کے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نوکری بھی کر رہی ہیں۔صائمہ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے جانے کا پروگرام بنایا۔ ٹکٹ کے لیے قطار تو لمبی تھی لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور ہم نے خوب انجوائے کیا۔ ہم نے سوچا یہ اچھا تجربہ ہو گا اور ہم اتنے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔‘ان ہی کی دوست سمیرا احمد خواتین کے سٹیڈیم میں داخلے پر بہت خوش اور پرامید ہیں کہ مستقبل میں کھیل کے میدان میں بھی لڑکیوں کو مواقع مل سکتے ہیں۔سمیرا ایم بی اے کر رہی ہیں۔ انھیں اسپورٹس میں خاص دلچسپی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ’’میں اسکول کے دور میں بیڈمنٹن اور باسکٹ بال کھیلتی تھی لیکن آگے بڑھنے کے لیے کوئی پلیٹ فارم دستیاب نہیں تھا تو یہ شوق چھوڑنا پڑا۔اسکول ٹیچر صدف نے کہا ’’تھینکس ٹو گورنمنٹ، حکومت کا یہ سب کرنے پر شکریہ، ہم سب بہت خوش ہیں۔ ہم نے بہت انجوائے کیا۔ میں خواتین اور لڑکیوں کی اصل تعداد تو نہیں بتا سکتی لیکن ان کی تعداد کافی زیادہ تھی اور ان کا تعلق مختلف اقوام سے تھا۔‘یہ تمام سہیلیاں واپسی کے سفر میں پرامید تھیں کہ حکومت خواتین کی تفریح اور دیگر سماجی سرگرمیوں کے لیے مزید اقدامات کرے گی۔ان خواتین نے بتایا کہ ان کے داخلے کے لیے اسٹیڈیم میں الگ گیٹ بنایا گیا تھا، انھوں نے فیملی انکلیو میں بیٹھ کر میچ دیکھا جہاں میچ کے دوران انکلیو میں خواتین پر مشتمل عملے کو تعینات کیا گیا تھا۔ روایتی کالے حجاب میں ملبوس ان خاتون اہلکاروں نے خواتین شائقین کو خوش آمدید کہا۔میچ کے دوران خواتین شائقین بلند آواز میں دونوں ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔امریکہ میں سعودی سفارتخانے کی ترجمان فاطمہ ایس بائتین نے کہا ہے کہ ’’یہ عورتوں کے حقوق سے بڑھ کر ہے۔‘‘حکام کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو ریاض اور پھر اتوار کو دمام میں کھیلے جانے والے میچوں میں بھی خواتین کو سٹیڈیم میں جانے کی اجازت ہو گی۔خواتین کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت کے لیے کی جانے والی کوششوں میں شامل ایونٹ کمپنی کی مالک سمیرہ عزیز کہتی ہیں کہ ستمبر میں حکومت نے اس پابندی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔’’ ابتدا میں مجھے اجازت ملی تھی لیکن کہا گیا کہ صرف مردوں کے لیے ہے میں نے کہا نہیں مجھے فیملیز کے لیے چاہیے، سنگلز بھی آسکتے ہیں لیکن فیملی ضروری ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ وژن 2030 آچکا ہے صرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے ، کوشش جاری رکھیں اور پھر ستمبر 2017 میں مجھے اجازت ملی۔ اسی دوران دیگر آرگنائزرز کو بھی اجازت ملی جس کا پہلا میچ جمعے کو ہوا۔‘‘سمیرہ جس ایونٹ کے لیے کوشاں تھیں وہ 13 اپریل کو منعقدہ ہو گا جس کی خاص بات اس میں ہندوستان اور سعودی عرب کی سلیبریٹیز شامل ہوں گی۔واضح رہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کے حقوق اور اختیارات پر پہلے سے موجود عائد پابندیوں کو کم کرنے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت گاڑی چلانے کی اجازت، بغیر محرم کے سعودی عرب داخلے کی اجازت اور تفریح کے لیے گھر کی بجائے کھیل کے میدان میں جانے اور سینیما گھروں میں جانے کا موقع تاریخ میں پہلی بار مل رہا ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh