logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

وشاکھاپٹنم، 16 دسمبر (یو این آئی) انڈین کرکٹ ٹیم اور اپوزیشن سری لنکا موجودہ ون ڈے سیریز میں 1-1 کی برابری کے بعد اتوار کو یہاں فیصلہ کن مقابلے میں خطاب حاصل کرنے کے لئے میدان میں اترے گی۔میزبان ٹیم پر جہاں اکتوبر 2015 کے بعد پہلی بار سیریز سے ہارنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے تو وہیں مہمان ٹیم کے پاس ہندستانی زمین پر پہلی دوطرفہ سیریز جیت کر تاریخ رقم کرنے کا سنہری موقع بھی ہے۔ وراٹ کوہلی کی غیر موجودگی میں ٹیم انڈیا کی کمان سنبھال رہے روہت شرما نے گزشتہ میچ میں ڈبل سنچری کی بدولت ہندوستان کو 141 رنوں سے فتح دلا کر مقابلے میں بنائے رکھا تھا اور سیریز میں برابری دلائی تھی تو وہیں اس موڑ پر سری لنکا کی ٹیم کوبھی اپنے گھریلو میدان پر ملی9۔0 کی شکست کا بدلہ چکانے کا موقع ملے گا۔ون ڈے سیریز کا پہلا میچ سری لنکا نے دھرم شالہ میں سات وکٹ سے جیتا تھا۔بھلے ہی دونوں ٹیموں کے لیے یہ میچ ’کرو یا مرو‘ کا ہو لیکن قائم مقام کپتان روہت پر اس بار دوہری ذمہ داری ہے۔ ان کی قیادت میں ٹیم پہلا میچ ہارنے سے ون ڈے رینکنگ میں نمبر ون بننے کا موقع تو گنوا ہی چکی ہے لیکن اگر وہ فیصلہ کن میچ ہارتی ہے تو سال 2015 کے بعد اسے اپنی گھریلو سیریز میں بھی شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔ہندستان نے جنوبی افریقہ سے آخری بار سیریز ہاری تھی لیکن اس کے بعد سے وہ اپنے میدان پرناقابل شکست ہے۔ اس کے علاوہ روکت ناکام رہتے ہیں تو انہیں اپنی کپتانی میں ٹیم کی کامیاب قیادت نہیں کر پانے کی بھی تنقید جھیلنی ہوگی۔ساتھ ہی انڈین ٹیم کو اپنے میدان پر سری لنکا کے خلاف بھی پہلی دو رخی سیریز ہارنے کی شرمندگی جھیلنی ہوگی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ہوئی کل 9 دورخی سیریز میں ہندستان نے آٹھ جیتی ہیں اور ایک ڈرا رہی ہے۔ہندوستانی ٹیم ویسے اب بھی خطاب کی مضبوط دعویداروں میں ہے اور گزشتہ میچ میں موہالی میں اس کی شاندار کارکردگی کے بعد تو اس کے حوصلے اور بھی بلند ہوئے ہیں، وہی سری لنکا کی ٹیم بھی دباؤ میں ہوگی جس کے کھلاڑی اس میچ کے لیے پچھلے کئی دنوں سے نیٹ پر پسینہ بہا رہے ہیں۔تاہم گھریلو ٹیم کو بھی اس میچ میں اپنی شاندار کارکردگی پیش کرنی ہوگی جو سری لنکا کو کمزور تصور کرنے کی غلطی پہلے کرچکی ہے ۔ٹیم کے کپتان روہت پر پھر سے سب کی نظریں ہوں گی جو ون ڈے میں تیسری ڈبل سنچری بنانے والے دنیا کے پہلے بلے باز بن گئے ہیں۔ روہت نے 153 گیندوں میں 13 چوکے اور 12 چھکے لگاکر ناٹ آؤٹ 208 رن بنائے۔سری لنکا کے خلاف سلامی بلے باز کی کارکردگی ویسے بھی ہمیشہ لاجواب رہی ہے اور ان کے کیریئر کی سب سے زیادہ 264 رنز کی اننگز بھی انہوں نے اسی ٹیم کے خلاف کھیلی اور کیریئر میں دو ڈبل ون ڈے سنچری بھی سری لنکا کے خلاف ہی بنائی۔روہت کے علاوہ ان کے جوڑی دار شکھر دھون اور شريس ایئر نے بھی میچ میں 68 اور 88 رنز کی بہترین اننگز کھیلی تھیں اور اے سی اے۔وی ڈی سی اے اسٹیڈیم میں ان سے ایسےہی کھیل کی توقع رہے گی۔ ویسے ہندوستان کا ریکارڈ بھی اس میدان پر اچھا رہا ہے اور اس نے اپنے تمام سات میچ یہاں جیتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ پچ بڑے اسکور کے لئے مشہور ہے تو ناظرین کو یہاں بھی موہالی جیسا کھیل دوبارہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔موجودہ سیریز میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے نوجوان کھلاڑی شريس نے موہالی میں اپنے دوسرے ہی ون ڈے میں 88 رنز کی نصف سنچری اننگز سے متاثر کیا ہے اور یقیناً ہی کپتان پر اپنا اعتماد پختہ کیا ہے۔ فیصلہ کن میچ میں مڈل آرڈر میں ان پر کافی دباؤ بھی رہے گا۔اس کے علاوہ مڈل آرڈر میں دنیش کارتک اور منیش پانڈے بھی موقعے کا فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کریں گے جبکہ مہندر سنگھ دھونی اور ہاردک پانڈیا ہمیشہ کی طرح اہم ہوں گے۔دھرم شالہ میں دھونی نے ایک سرے پر کھڑے رہ کر اپنی نصف سنچری اننگز سے اپنی موجودگی کو ثابت کیا تھا۔ اگرچہ ٹسٹ سیریز میں آرام کے بعد سے واپسی کرنے والے پانڈیا فی الحال فارم میں نہیں ہیں لیکن وہ اچھے کھلاڑی ہیں اور ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔گزشتہ میچ میں بڑی جیت سے پرجوش روہت اہم میچ میں بھی اسی الیون کو اتارتے ہیں تو بلے باز اجنکیا رہانے پھر سے باہر بیٹھ سکتے ہیں۔.

وہیں گیند بازوں میں محدود اوور میں ٹیم کی پسند بن چکے اسپنر يجویندر چہل، تیزگیندباز بھونیشور کمار اور جسپريت بمراک پر حریف کھلاڑیوں کو روکنے کی ذمہ داری ہوگی۔اس کے علاوہ بلے بازوں کی معاون تصور کی جانے والی پچ پر پانڈیا بھی ان کا ساتھ دے سکتے ہیں۔سری لنکا کے لیے فیصلہ کن میچ سے پہلے میتھیوز کے فٹ ہونے کی خبر اس کے لئے حوصلہ افزا ہے، ساتھ ہی اپل تھرنگا، لاکرو ترومانے، دنشکا گناتھلاکا اور نروشن ڈکویلا اچھے بلے باز ہیں تو گیند بازوں میں اس کے پاس سرنگا لکمل، کپتان تشارا پریرا جیسے بہترین کھلاڑی ہیں لیکن گیند بازوں کو اس کے ساتھ ہی مزید رن دینے سے بچنا ہو گا۔ نوان پردیپ گزشتہ میچ میں 10 اوور میں 106 رن دے کر سب سے مہنگے گیندباز تھے اور ان پر واپسی کا دباؤ ہوگا۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh