logo

ای پیپر

اوپینین پول

کیا اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مسلم ووٹ کو بے وقعت ثابت کردیا ؟

ہاں
نہیں

واشنگٹن۔ امریکی محکمۂ دفاع پنٹاگن کے مطابق،  پاکستان سے چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ پٹناگن کے ترجمان کرنل روب میننگ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سے ہماری توقعات سیدھی سادھی ہیں کہ طالبان، حقانی نیٹ ورک کی قیادت اور حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو مزید پاکستانی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں دستیاب نہ ہوں اور نہ ہی پاکستانی سرزمین سے کارروائیاں کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک ثابت قدم فیصلے پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہیں۔ بی بی سی کے مطابق پنٹاگن کے ترجمان روب میننگ نے بتایا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے عوض اتحادی فنڈ یعنی کولیشن سپورٹ فنڈز کی مد میں سال 2017 کی 90 کروڑ ڈالر کی امداد معطل کر دی گئی ہے۔انھوں نے اس کے ساتھ وضاحت کی کہ یہ امداد منسوخ نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کا نیا شیڈول دیا گیا ہے بلکہ اسے معطل کیا گیا ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ: فائل فوٹو۔ رائٹرزانھوں نے بتایا کہ پاکستان کو سال 2017 کے کولیشن سپورٹ فنڈز میں سے تاحال کوئی رقم نہیں ملی جبکہ سال 2016 کے فنڈ سے پچاس کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی رقم 2017 کے شروع میں ملی تھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ فنڈز کی معطلی اس وقت مستقل نہیں ہے جبکہ سکیورٹی امداد اور دیگر زیر غور ترسیلات کو منجمد کر دیا جائے گا تاہم اس وقت ان کو منسوخ نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی ری شیڈول کیا جا رہا ہے کیونکہ ہم امید کئے ہوئے ہیں کہ پاکستان ان دہشت گردوں اور عسکری گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گا جن کے خلاف ہم چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو بتا دیا ہے کہ اس کو اس سمت میں کیا مخصوص اور ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔پنٹاگن کے ترجمان نے اس کے ساتھ بتایا کہ امریکہ نجی سطح پر پاکستانی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلا امتیاز جنگ کرنے پر تیار ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کی پانچ جنوری کی نیوز کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کہا تھا کہ’ امریکہ کو اختلافات ہیں، بعض معاملات پر شدید اختلافات ہیں اور ہم ان پر کام کر رہے ہیں۔‘ ترجمان کے مطابق مخصوص انفرادی چیزوں پر ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ان کو نجی سطح پر نمٹایا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر ممکن طور پر یہ فائدہ مند ثابت ہوں اور یہ وہ ہے جس پر ہم کام کر رہے ہیں۔‘اس کے ساتھ پنٹاگن کے ترجمان نے بریفنگ میں یہ بھی بتایا کہ’ آپ جانتے ہوں گے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ اور اتحادیوں کے ہلاک ہونے والے مجموعی فوجیوں سے زیادہ پاکستان نے اپنے فوجیوں کی جانیں گنوائی ہیں۔‘گذشتہ جمعرات کو امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اس کی تقریباً تمام سکیورٹی امداد روکی جا رہی ہے تاکہ پاکستانی حکومت کو یہ بتایا جا سکے کہ اگر وہ امریکہ کے اتحادی نہیں بنتے تو معاملات پہلے کی طرح نہیں رہیں گے۔اس پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ یک طرفہ بیانات، مرضی سے دی گئی ڈیڈ لائنز اور اہداف کی مستقل تبدیلی مشترکہ مفادات کے حصول میں سودمند ثابت نہیں ہو سکتی۔ دفترِ خارجہ کے مختصر اور محتاط بیان میں کہا گیا تھا کہ 'ہم سکیورٹی کے معاملے میں تعاون کے بارے میں امریکی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور مزید معلومات کے منتظر ہیں۔'

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh